(معاهدة) لوزان لم تكن انتصاراً، بل لقد كانت هزيمة!
(معاهدة) لوزان لم تكن انتصاراً، بل لقد كانت هزيمة!

الخبر: أقام الرئيس رجب طيب أردوغان حفل استقبال في يوم 29 تشرين الأول/ أكتوبر بمناسبة يوم الاحتفال بالجمهورية في المجمع الرئاسي. وقال الرئيس أردوغان، الذي تحدث في حفل الاستقبال، مؤكداً أن الجمهورية التي تأسست قبل 93 عاماً، هي رمز لتقدم الأمة والتي تمت محاولة محوها من التاريخ، "ليس علينا النظر إلى الجمهورية بشكل منفصل، بل على العكس تماماً، علينا أن ننظر لها على أنها استمرار لبداية جديدة وقوية".

0:00 0:00
Speed:
November 07, 2016

(معاهدة) لوزان لم تكن انتصاراً، بل لقد كانت هزيمة!

(معاهدة) لوزان لم تكن انتصاراً، بل لقد كانت هزيمة!

الخبر:

أقام الرئيس رجب طيب أردوغان حفل استقبال في يوم 29 تشرين الأول/ أكتوبر بمناسبة يوم الاحتفال بالجمهورية في المجمع الرئاسي. وقال الرئيس أردوغان، الذي تحدث في حفل الاستقبال، مؤكداً أن الجمهورية التي تأسست قبل 93 عاماً، هي رمز لتقدم الأمة والتي تمت محاولة محوها من التاريخ، "ليس علينا النظر إلى الجمهورية بشكل منفصل، بل على العكس تماماً، علينا أن ننظر لها على أنها استمرار لبداية جديدة وقوية".

التعليق:

استخدم الرئيس منذ ما يقارب الشهر هذه الكلمات في إحدى خطبه التي أدلى بها إلى زعماء القرى أو الأحياء المنتخبة في معاهدة لوزان: "ماذا فعلوا لنا في الماضي، لقد أظهروا لنا (معاهدة) سيفر عام 1920. بعد ذلك أقنعونا بـ(معاهدة) لوزان في عام 1923. وحاول البعض خداعنا من خلال تقديم لوزان على أنها انتصار. كل شيء واضح. نحن تنازلنا عن الجزر (يصرخ الرجل). هل هذا انتصار؟ وقد كانت تلك الأراضي لنا". قدم أردوغان هذا البيان بعد محاولة انقلاب 15 تموز/يوليو حين كان العلمانيون يهاجمونه بشدة بسبب التحالف السابق بين حزب العدالة والتنمية وجماعة غولن. بهذا المعنى قال للعلمانيين، (تقريبا). ولكن أردوغان نفسه قال ونشر رسالة، وتحديداً بعد 9 أيام من محاولة انقلاب 15 تموز/يوليو، أي في تاريخ 24 تموز/يوليو - الذكرى السنوية لمعاهدة لوزان: "لقد شهدت أمتنا العظيمة الانتصار الذي حققته من خلال إيمانها وشجاعتها وإيثارها مع معاهدة لوزان الدبلوماسية ونقلها إلى منصة القانون الدولي. هذا الاتفاق مثل سند الملكية لدولتنا التي تأسست حديثاً".

والآن قبل الخوض في التساؤلات عن هذه التناقضات. نرجع لبيان الرئيس أردوغان الذي قدمه في حفل الاستقبال يوم 29 والذي ذكر في الخبر، حيث اعتبر أردوغان أن الجمهورية هي رمز لتقدم الأمة والتي تمت محاولة محوِها من التاريخ، وقال: "لم تتوقف الجمهورية أبداً، بل إنها متواصلة مع بداية جديدة".

والآن، كيف حصل هذا التشويش؟ أولاً، السؤال هو، "هل (معاهدة) لوزان انتصار أم لا"؟ بالنظر إلى خطابه الذي ألقاه في 29 أيلول/سبتمبر 2016، إلى رؤساء القرى، لوزان ليست انتصاراً، بل هي هزيمة. حسناً تماماً، نحن نتفق... ولكن وفقاً للرسالة التي نشرت بمناسبة الذكرى السنوية لـ(معاهدة) لوزان في 24 تموز/يوليو 2016، فهو يرى أن (معاهدة) لوزان هي كسند الملكية للدولة التي تأسست حديثاً. ويقول إن نجاح شعب الأناضول قد تحقق من خلال الإيمان والشجاعة والإيثار الذي شهدته مع النجاح الدبلوماسي لمصطفى كمال وإينونو في لوزان. وأيضاً هو يبارك لأواخر المخططين لهذا النجاح. إننا نتساءل مجدداً، هل (معاهدة) لوزان انتصار أم هي هزيمة؟ إلى ماذا يقودنا هذا الوضع؟

بالعودة إلى القضية الأساسية السابقة (معاهدة) لوزان والجمهورية... وبعبارة أخرى، كيف وجدت (معاهدة) لوزان، وكيف تأسست الجمهورية.

في 20 تشرين الثاني/نوفمبر 1922، تم افتتاح مؤتمر لوزان. بينما كان حسين رؤوف أورباي قد عزم على حضور المؤتمر باسم الحكومة في أنقرة، قام مصطفى كمال بإرسال عصمت إينونو. قدم اللورد كيرزون، الذي يقود وفد الإنجليز، أربعة شروط في لقاءات سرية، وذلك لتمكين الأتراك من "الاستقلال". هذه الشروط هي: 1- الإلغاء التام والكلي لدولة الخلافة 2- نفي الخليفة 3- مصادرة جميع ممتلكات الخليفة 4- الإعلان على أن الدولة مبنية على أساس العلمانية.

من أجل تحقيق مطالب الإنجليز، وضع مصطفى كمال خطة للسيطرة على جميع القوى في البرلمان. لأنه يعلم أن جميع الممثلين لن يقبلوا اتفاقاً تحت هذه الشروط. في 29 تشرين الأول/أكتوبر 1923 عندما تجمع البرلمان لحل أزمات الحكومة المصطنعة. قام مصطفى كمال إلى المنصة بعد أن سيطر على جميع القوى من خلال المؤامرات، وقال: "علينا تغيير هذا النظام. لقد قررت أن يكون النظام جمهورياً، والذي سيتزعمه رئيس منتخب". وعلى الرغم من احتجاج 40% من الممثلين على هذا القرار والامتناع عن التصويت، إلا أن حكومة أنقرة تحت حماية من الجنرال الإنجليزي السير هارينغتون نائب رئيس هيئة الأركان العامة لقوات الاحتلال في البحر الأسود وتركيا والموالية للورد كيرزون قد أسست الجمهورية.

والآن، بالعودة إلى البداية، إن السؤال للرئيس أردوغان هو: ما هو تقدم الأمة الذي حصل في الجمهورية حين تأسست في 29 تشرين الأول/أكتوبر 1923؟ هل هو تقدم الأمة التي أعدمت شنقاً في الساحات لأنها عارضت الانقلابات؟ أم هل هو تقدم الأمة التي ثارت ضد حكومة أنقرة عندما سمعت بإعلان الجمهورية؟ هل هو تقدم الأمة التي أعلنت أن مصطفى كمال وزملاءه الذين أسسوا الجمهورية وقضوا على الخلافة أنهم خونة؟ هل هو تقدم الشيخ سعيد وعاطف الاسكليبي ونيني خاتون الذين ضحوا في سبيل الخلافة والشريعة؟ أم هل هو تقدم الأمة التي تلعن الدين والقرآن في صالات اللعب المختلطة وعلى طاولات السُّكْر؟ أي تقدم هو؟

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمود كار

رئيس المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية تركيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست