معاناة أهل الغوطة لن تنهيها إدانة الأزهر بل ينهيها جيش يقتلع بشار ومن خلفه
معاناة أهل الغوطة لن تنهيها إدانة الأزهر بل ينهيها جيش يقتلع بشار ومن خلفه

الخبر:   أدان الأزهر بشدة المأساة الإنسانية التي يتعرض لها سكان منطقة "الغوطة الشرقية" في سوريا، مطالبا كافة الأطراف ذات الصلة والمنظمات الإنسانية، بإنهاء معاناة السكان المحاصرين، والوقف الفوري لاستهداف المدنيين، وإمدادهم بالمواد الإغاثية ومستلزمات الحياة الضرورية، وشدد الأزهر الشريف في بيان صحفي، الخميس 2018/2/22م، على أن الصور والمشاهد المروعة التي نقلتها وسائل الإعلام العالمية لمعاناة أهالي الغوطة وغيرها من مناطق سوريا المنكوبة توجب على المجتمع الدولي تكثيف جهوده من أجل إيقاف دوامة الدمار والاقتتال المستمرة منذ سنوات، والتي راح ضحيتها مئات الآلاف من أبناء الشعب السوري المظلوم، فضلا عن تشريد عدة ملايين آخرين، وأعرب الأزهر عن دعمه للجهود المخلصة التي تبذلها جمهورية مصر العربية من أجل إحلال السلام في سوريا، ووقف نزيف الدماء، والحفاظ على وحدة البلاد، وتلبية طموحات الشعب السوري. (اليوم السابع)

0:00 0:00
Speed:
February 26, 2018

معاناة أهل الغوطة لن تنهيها إدانة الأزهر بل ينهيها جيش يقتلع بشار ومن خلفه

معاناة أهل الغوطة لن تنهيها إدانة الأزهر

بل ينهيها جيش يقتلع بشار ومن خلفه

الخبر:

أدان الأزهر بشدة المأساة الإنسانية التي يتعرض لها سكان منطقة "الغوطة الشرقية" في سوريا، مطالبا كافة الأطراف ذات الصلة والمنظمات الإنسانية، بإنهاء معاناة السكان المحاصرين، والوقف الفوري لاستهداف المدنيين، وإمدادهم بالمواد الإغاثية ومستلزمات الحياة الضرورية، وشدد الأزهر الشريف في بيان صحفي، الخميس 2018/2/22م، على أن الصور والمشاهد المروعة التي نقلتها وسائل الإعلام العالمية لمعاناة أهالي الغوطة وغيرها من مناطق سوريا المنكوبة توجب على المجتمع الدولي تكثيف جهوده من أجل إيقاف دوامة الدمار والاقتتال المستمرة منذ سنوات، والتي راح ضحيتها مئات الآلاف من أبناء الشعب السوري المظلوم، فضلا عن تشريد عدة ملايين آخرين، وأعرب الأزهر عن دعمه للجهود المخلصة التي تبذلها جمهورية مصر العربية من أجل إحلال السلام في سوريا، ووقف نزيف الدماء، والحفاظ على وحدة البلاد، وتلبية طموحات الشعب السوري. (اليوم السابع)

وفي سياق متصل قالت جي بي سي نيوز الخميس نفسه، كشف دبلوماسي مصري مسؤول أن بلاده تجري اتصالات مع عدد من الفصائل والتيارات داخل سوريا، من أجل إيجاد حلول عاجلة توقف إطلاق النار في منطقة الغوطة الشرقية داخل سوريا، وقال الدبلوماسي الذي رفض ذكر اسمه لـ24 إن مصر تتواصل أيضاً من الجانب الروسي من أجل الوصول لصيغة تفاهم تساهم في وقف إطلاق النار في الغوطة الشرقية وحماية المدنيين في أسرع وقت ممكن.

التعليق:

ثورة الشام ثورة أمة والصراع على أرضها له طابع مختلف فهو صراع بين الأمة والغرب تكالبت فيه كل القوى على أهل الشام تريد وأد هذه الثورة التي أعلنت أن قائدها للأبد هو محمد r وأبت الركوع والخنوع، واستعصت على كل مؤامرات أمريكا وأفشلت كل خططها وحيلها، فصبت عليهم أمريكا وحلفها جام نيرانها فأحرقت حلب وغيرها وجاء دور الغوطة الشرقية الصامدة والتي أبت كغيرها أن تتنزل على رأي قادة الفصائل الخونة، فأحالوها جحيما على أهلها، دونما أي حراك من جيوش الأمة الرابضة في ثكناتها والتي أصبحت تأتمر بأمر الغرب وعملائه فأدارت ظهرها لعدوها ووجهت سلاحها إلى صدور الأمة المكلومة،

يا علماء الأزهر، يا أحفاد العز بن عبد السلام! إن إدانتكم لن تنصر أهل الغوطة ولن تفرج كربهم ولن تمنع الغرب من ذبحهم بل إنها ستشجعه على التمادي في ذبحهم وغيرهم من أبناء الأمة الذين يسعون للانعتاق من التبعية للغرب والفكاك من عملائه من الحكام الخونة وبطانتهم، وما يحتاجونه حقا قبل مواد الإغاثة ومستلزمات الحياة الضرورية هو جيش ينصرهم على عدوهم حتى يمكنهم من الانتفاع من هذه المواد ومن مستلزمات الحياة، فالأموات لا يحتاجون هذه المواد يا علماء الأزهر إلا إذا أرسلتم لهم أكفانا عوضا عنها، أما هذا المجتمع الدولي الذي تتحدثون عنه وعن وجوب تحركه فهو شاهد على هذه المجازر مشارك فيها، فلولاه لما تمكن المجرم بشار ونظامه من الصمود هذه السنوات أمام ثورة مخلصة في أرض الشام، بل إن هذا المجتمع الدولي هو الداعم الأكبر لبشار وزبانيته، وأما مساعي حكامكم التي تدعمون فلا يعنيها حقن دماء أهل الغوطة ولا تلبية طموحاتهم، والسلام الذي يسعون له هو استسلام أهل الشام غير المشروط وخضوعهم لبشار عميل أمريكا، ووحدة البلاد التي يتكلمون عن الحفاظ عليها ليست سوى الحفاظ على نظام بشار وأجهزته وعلى رأسها جهاز مخابراته الضامن لبقاء أرض الشام تابعة لأمريكا، أما أهل الشام فشأنهم شأن أهل الكنانة لا يعبأ بهم الحكام ولو استطاعوا سحقهم لفعلوا، فهذا الجحيم الذي يصب فوق رؤوسهم لسنوات ليس إلا لإجبارهم على قبول الحل السياسي الذي تدعمون قادتهم في سعيهم له وهو القبول بالحل الذي ترضى عنه أمريكا ويبقي على أرض الشام في ربقة تبعيتها، وهو ما يخالف طموحات أهل الشام التي أعلنوها مرارا وتكرارا وأرّقت هذا المجتمع الدولي والغرب كله وعملاءه من حكام بلادنا... فطموح أهل الشام أكبر من الحل السياسي الذي له تروجون، طموحهم هو خلافة على منهاج النبوة، هكذا أعلنوها صراحة وهكذا تبنوا مشروعها وحملوا رايتها وعلموا أن العالم كله سيعاديهم ويحاربهم من أجلها فقالوها صراحة (يا الله ما لنا غيرك يا الله)... نعم ليس لهم إلا الله أمام تخاذل كل جيوش الأمة وتنصُّل كل النخب والساسة والعلماء الذين ما إن تفوهوا إلا ونطقوا سما زعافا كما تفعلون، فيخدعونهم ويعينون عدوهم عليهم دون أن يلجؤوا إلى الحل الحقيقي الذي ينهي مآسي الأمة بعمومها وهو تحريك تلك الجيوش والتي لن تتحرك إلا بالتخلص من هؤلاء الحكام الخونة العملاء وإقامة الخلافة على منهاج النبوة وهي ما قام يطالب به أهل الشام يا علماء الأزهر!

يا علماء الأزهر! إن صمتكم يقتل أهل الشام وتنديدكم يبرر ذبحهم، وواجبكم الحقيقي هو تحريض هذه الجيوش على نصرة أهل الشام رغما عن حكامهم العملاء واقتلاعهم ونصرة شباب حزب التحرير العاملين لإقامة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة والواعين على خطط الغرب وحيله ومؤامراته والقادرين على قيادة الأمة لإفشال تلك المؤامرات، فبقيادتهم وحدهم تنتصر الأمة ويعود مجدها المسلوب وتعود عزتها في دولة الخلافة القادمة التي وعدنا الله وبشر بها r، جعلنا الله وإياكم من شهودها وجنودها.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عبد الله عبد الرحمن

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست