معاناة المسلمين الإيغور: أفريقيا شريكة في هذه الجريمة (مترجم)
معاناة المسلمين الإيغور: أفريقيا شريكة في هذه الجريمة (مترجم)

الخبر:   وفقا للأمم المتحدة، يقدر أن أكثر من مليون من المسلمين الإيغور محتجزون في معسكرات اعتقال حيث يجبرون على التنديد بالدين ويتعهدون بالولاء للحزب الشيوعي الحاكم الرسمي الملحد، وتتهم جماعات حقوقية الصين بالمشاركة في حملة للتطهير العرقي، وفي آب/أغسطس، ذُكر في افتتاحيةٍ نشرتها صحيفة "واشنطن بوست" أن العالم "لا يمكنه تجاهل" الاضطهاد ضد المسلمين، وقد تم تجريد المساجد من القباب الإسلامية، ووفقا لوكالة أنباء أسوشيتد برس، تم حظر المدارس الدينية والدروس العربية ومنع الأطفال من المشاركة في الأنشطة الإسلامية. (الجزيرة.كوم)

0:00 0:00
Speed:
February 03, 2019

معاناة المسلمين الإيغور: أفريقيا شريكة في هذه الجريمة (مترجم)

معاناة المسلمين الإيغور: أفريقيا شريكة في هذه الجريمة

(مترجم)

الخبر:

وفقا للأمم المتحدة، يقدر أن أكثر من مليون من المسلمين الإيغور محتجزون في معسكرات اعتقال حيث يجبرون على التنديد بالدين ويتعهدون بالولاء للحزب الشيوعي الحاكم الرسمي الملحد، وتتهم جماعات حقوقية الصين بالمشاركة في حملة للتطهير العرقي، وفي آب/أغسطس، ذُكر في افتتاحيةٍ نشرتها صحيفة "واشنطن بوست" أن العالم "لا يمكنه تجاهل" الاضطهاد ضد المسلمين، وقد تم تجريد المساجد من القباب الإسلامية، ووفقا لوكالة أنباء أسوشيتد برس، تم حظر المدارس الدينية والدروس العربية ومنع الأطفال من المشاركة في الأنشطة الإسلامية. (الجزيرة.كوم)

التعليق:

يشارك العالم كله في انتقادات لسياسات الصين القمعية ضد إخواننا وأخواتنا الأعزاء المسلمين الإيغور الذين يعيشون في تركستان الشرقية، ومن ناحية أخرى، فإن القارة الأفريقية في صمت قاتل، وقد انضم حكام أفريقيا العملاء إلى نظرائهم حكام المسلمين، حيث لم يجرؤ أي منهم على رفع صوته أو الإشارة بأصبع الاتهام نحو الصين.

إن موقف أفريقيا تجاه السياسات الصينية بشأن المسلمين الإيغور، قد تم تشكيله بناء على ما يسمى الشراكة الاقتصادية للقارة مع الصين. اعتبارا من 2014، كانت الصين قد تجاوزت أمريكا بأن أصبحت المستثمر الأول في أفريقيا مع الإحصاءات الرسمية التي تبين أن الصين سجلت رقما قياسيا يتجاوز 250 مليار دولار في التجارة الثنائية مع أفريقيا، وعلاوة على ذلك، فإن الصين هي الشريك التجاري الأول في العالم لـ138 من بين 200 دولة في العالم. أنشأت جمعية بريكس بنك التنمية الجديد الذي يقع مقره في مدينة شانغهاي بالصين، ومؤخرا في 17/8/2017 افتتح بنك التنمية الجديد رسميا المركز الإقليمي الأفريقي في جوهانسبرغ جنوب أفريقيا، ويهدف البنك إلى إنشاء الرابطة كمساهم مهم في تنمية الهياكل الأساسية المستدامة في جنوب أفريقيا وكمشارك مفيد في جدول أعمال التنمية في القارة، وقد تعهد الرئيس الصيني شي جين بينغ بتقديم 60 مليار دولار إلى القارة الأفريقية على شكل قروض ومنح وتمويل التنمية، وهو المنتدى الأخير لمؤتمر قمة التعاون الصيني-الأفريقي الذي انعقد يومي 3 و4 أيلول/سبتمبر 2018، كما أعلن شي عن ثماني مبادرات تهدف إلى تحسين العلاقات الصينية الأفريقية بما في ذلك الاستثمارات في الرعاية الصحية والتعليم والأمن والتبادلات الثقافية وزيادة الواردات غير الموردة من أفريقيا.

بالإضافة إلى ذلك، فإن القارة الأفريقية هي مستعمرة يديرها الحكام العملاء الخدم الذين باعوا أرواحهم إلى أسيادهم الغرب الاستعماريين العلمانيين بقيادة أمريكا وبريطانيا وفرنسا وحلفائهم بما في ذلك روسيا وغيرها، ويقوم الغرب وحلفاؤه حاليا بدعم وسنّ قوانين وسياسات وحشية وقاتلة في بلدانهم ترتكز على مكافحة الإسلام، وقد قامت قيادة العميل الأفريقي بلصق قوانينها وسياساتها بالنسخ، على سبيل المثال، على الصعيد الإقليمي، اتفاقية منظمة الوحدة الأفريقية لمنع ومكافحة (الإرهاب) في 1999، واعتماد خطة عمل الاتحاد الأفريقي لمنع ومكافحة (الإرهاب) في 2002 واعتماد القانون النموذجي الأفريقي لمكافحة (الإرهاب) في 2011، وقد وضع القانون النموذجي لمساعدة الدول الأعضاء على تنفيذ الأحكام الواردة في مختلف الصكوك القارية والدولية لمكافحة (الإرهاب)، ولذلك، سنت البلدان المحلية تشريعات، بما في ذلك كينيا، قانون منع (الإرهاب) رقم 30 المؤرخ 2012 وقدمت الاستراتيجية الوطنية لمكافحة (التطرف العنيف) في 2016.

 ويؤكد ما ورد أعلاه بوضوح أن أفريقيا وقيادتها العميلة ليس لها سلطة أدبية وسياسية لحساب السياسات الصينية الوحشية لأنها تشارك في ارتكاب الشرور نفسها على مواطنيها في جميع أنحاء القارة، وعلاوة على ذلك، فإنها تؤكد أن أفريقيا تفتقر إلى وجهة نظر مبدئية واضحة وسليمة تجاه الكون والإنسان والحياة، وبما أن مبدأها الحاكم هو الرأسمالية الاستعمارية العلمانية الباطلة النابعة من عقل الإنسان المحدود الذي يدافع عنه أعداء الله سبحانه وتعالى بقيادة أمريكا وحلفائها، هذا المبدأ المزيف وسياساته وقوانينه الفوضوية هو السبب الجذري للكوارث في العالم على الأخص التي شهدتها الدول الشرقية والغربية من الشرق إلى الغرب، وقد ورثت أفريقيا هذا المبدأ الفاسد ونظمه من أسيادها الاستعماريين بشكل فطري؛ وبالتالي فإن موقفها يذكرنا بعقليتها المسمومة التي تعطي الأولوية للقيمة الاقتصادية (المادية) ضد القيم الأخلاقية والإنسانية.

إن الموقف الأكثر إلحاحا الذي تحتاجه أفريقيا لتجنب كونها شريكة في الجريمة هو قطع العلاقات مع الصين وأمريكا وبريطانيا وفرنسا وروسيا وألمانيا وغيرهم من الشركاء في نهب موارد أفريقيا الهائلة ومحاربة الإسلام والمسلمين بذريعة مكافحة (التطرف) و(الإرهاب)، بالإضافة إلى ذلك، احتضان الدعوة إلى الخلافة لتحرير أفريقيا من العبودية السياسية والاقتصادية والركود إلى الهدوء الحقيقي الذي تستنير به والرخاء السياسي والاقتصادي الحقيقي من خلال التطبيق الشامل المتكامل للشريعة، أي أحكام القرآن الكريم والسنة النبوية المنزلة من خالق البشر، إن أفريقيا والمسلمين لن يجدوا حماية حقيقية لأرواحهم وممتلكاتهم ضد من يسفك الدماء في جميع أنحاء العالم إلا بالخلافة، من خلال توحيد الجهود والجهاد لتحرير المستعبدين من المبدأ الرأسمالي العلماني السام. قال r: «وَإِنَّمَا الإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ وَيُتَّقَى بِهِ».

رابط الحملة: http://hizb-ut-tahrir.info/ar/index.php/hizb-campaigns/57540.html

هاشتاج الحملة: #الخلافة_تحرر_تركستان_الشرقية

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

علي ناصورو علي

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في كينيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست