مأساة قبيلة أسمات مع النظام القضية التي من "الحساسية" نقدها (مترجم)
مأساة قبيلة أسمات مع النظام القضية التي من "الحساسية" نقدها (مترجم)

الخبر:   حصلت حالة استثنائية في أسمات، بابوا، حيث بلغ عدد الأطفال الذين ماتوا بسبب الحصبة وسوء التغذية 61 طفلا في الفترة ما بين أيلول/سبتمبر 2017 وكانون الثاني/يناير 2018. وفي الوقت نفسه، واستنادا إلى بيانات من مكتب الصحة في أسمات ريجنسي، فإنه ما بين تشرين الأول/أكتوبر 2017 وكانون الثاني/يناير 2018، تم تسجيل 171 طفلا في العيادات الخارجية و393 طفلا تم نقلهم إلى مستشفى أغاتس بسبب الحصبة. ...

0:00 0:00
Speed:
February 20, 2018

مأساة قبيلة أسمات مع النظام القضية التي من "الحساسية" نقدها (مترجم)

مأساة قبيلة أسمات مع النظام

القضية التي من "الحساسية" نقدها

(مترجم)

الخبر:

حصلت حالة استثنائية في أسمات، بابوا، حيث بلغ عدد الأطفال الذين ماتوا بسبب الحصبة وسوء التغذية 61 طفلا في الفترة ما بين أيلول/سبتمبر 2017 وكانون الثاني/يناير 2018. وفي الوقت نفسه، واستنادا إلى بيانات من مكتب الصحة في أسمات ريجنسي، فإنه ما بين تشرين الأول/أكتوبر 2017 وكانون الثاني/يناير 2018، تم تسجيل 171 طفلا في العيادات الخارجية و393 طفلا تم نقلهم إلى مستشفى أغاتس بسبب الحصبة.

وردا على قضية أسمات هذه، فقد اتخذ إجراء مثير للجدل من قبل رئيس المجلس التنفيذي للطلاب في جامعة إندونيسيا (بيم أوي)، عندما حضر جوكوي الذكرى الـ 68 لجامعة أوي في بداية شباط/ فبراير. أعطى زاديت تقوى، رئيس مجلس إدارة بيم، بطاقة صفراء للرئيس جوكوي كشكل من أشكال التحذير للمشاكل الكثيرة التي تحدث في البلاد، والتي واحدة منها، مأساة أسمات. جوكوي رد على الانتقاد على الفور من خلال دعوة بيم أوي لمراجعة أسمات ريجنسي، بابوا، فيما يتعلق بهؤلاء الطلاب لمعرفة الحالة الخطيرة الموجودة على الساحة. وقال ناشط السلام الأخضر بابوا تشارلز تاورو بأن جوكوي كان مخطئا في الرد على ما قام به زاديت. وقد صرح تشارلز لتيمبو، في 5 شباط/فبراير 2018 قائلا: "من وجهة نظري، فإن السيد جوكوي مخطئ للرد، فمن الأفضل حل مشكلة بابوا أكثر من مطالبة الطلاب (بالقيام بذلك)". وناقش في أنه يعتبر الانتقاد من قبل الطلاب بناء. وأضاف بأن المشكلة في بابوا لا تتعلق بسوء التغذية ووباء الحصبة فحسب. وأضاف بأن توسع الشركات في بابوا قد أدى إلى الأضرار البيئية ما شوش على سبل العيش في بابوا وتسبب بآثار مباشرة على رفاهيتهم وما فيه صلاح أمرهم.

التعليق:

إن أطفال بابوا هم ضحايا أخطاء الطبقية. أولا، إن الخطأ الذي ارتكبته الدولة لإنفاذ السياسات الاقتصادية الرأسمالية المعيبة عن طريق تسليم ثروة بابوا الطبيعية إلى الاستثمار الأجنبي، قد أدى إلى انتشار الفقر على نطاق واسع في بابوا. وثانيا، إن جشع الشركات الأجنبية في امتصاص الثروة الطبيعية أدى إلى الأضرار البيئية وانتشار الأوبئة والأمراض. وما فاقم الأمر فوق كلا هذين العاملين عامل ثالث وهو الاهتمام الجيوسياسي الأجنبي الذي يسعى إلى فصل بابوا عن إندونيسيا عن طريق ركوب موجة الحركات الانفصالية في بابوا.

ولذلك، فإن الاستماع إلى الانتقادات من الناس العاديين أو بعض الشباب الناقد أمر ضروري بالتأكيد للحاكم، نظرا للتعقيد الحاصل في مشاكل بابوا، بغض النظر عن البيانات غير الدقيقة أو الأقل مهنية. وكما كتبت إحدى الشخصيات السياسية، فقد نشر بريانتوس، في رأيه الصادر في راكيات مرديكا أون لاين ما يُذكرنا برد فعل الخليفة عمر بن الخطاب عندما حاسبه الصحابة. "إن الانتقادات المتعلقة ببطاقة زاديت الصفراء تذكرني بتاريخ الخليفة عمر بن الخطاب، الذي أحب الناس وأحبه الناس الذين يحكمهم أيضا، وبمجرد أن أنّبته امرأة فقيرة عندما قالت: "قصر بنا الليل والبرد وهؤلاء الصبية يبكون من الجوع وعلى النار ماء أعللهم به حتى يناموا، الله بيننا وبين عمر" فاهتز قلب عمر من الحزن، وسالت منه الدموع غزيرة، ثم ودعها بلطف ليعود لها وهو يحمل كيسا من القمح على ظهره ويطعم الأطفال الجياع.

لو كان زاديت حيا في عهد الخليفة عمر بن الخطاب، وقدم له زاديت بطاقة صفراء، لما كان من عمر بن الخطاب إلا أن يعتذر ويشكره على تحذيره. هكذا تكون قيم القيادة القائمة على المفاهيم الإسلامية.

ومن ناحية أخرى، فإن انتقاد الحكام ونصحهم هو في الواقع أيضا جزء من أحكام الإسلام، وبالتالي فإن "سفينة" البلاد لن تغرق. وأي شخص يصبح سيد سفينة، فإن على ركابها نصحه إذا ما انحرف عن الطريق. وعلى ربانها ألا يشعر بأن السفينة ملك خاص له. وإذا ما صاح راكب بأن هناك تسربا في السفينة، فإن الواجب وقف التسرب لا إسكات الراكب.

إن الإسلام ينص بوضوح على تعريف السلطة والحاكم، بما في ذلك شروط كونه حاكما. فالحاكم هو الحامي، والوصي، والقائد الذي يتم اختياره لاستلام قيادته على أساس شريعة الله، وهو المسؤول عن مصلحة شعبه. فالحاكم ليس مسؤولا أو ممثلا للحزب ولا منظما لأعمال تمكنه من إدارة الثروة بصورة عرضية وفقا لمصلحته الشخصية، فضلا عن مصالح حزبه وزملائه. وينص الإسلام على أن الوفرة الوفيرة للثروة الطبيعية كمناجم النحاس والذهب في بابوا، التي تسيطر عليها حاليا فريبورت، هي ملكيات عامة ترجع ملكيتها للناس جميعا دون استثناء. وينبغي ألا يسمح بمنح الثروة للقطاع الخاص، علاوة على القطاع الخاص الأجنبي. ويجب أن تدير الدولة الثروة كممثلة للأمة، وأن تكون العوائد كاملة للرعية، على شكل خدمات مختلفة للناس مثلا، بما في ذلك الأطفال والنساء.

إن مأساة أسمات في بابوا لن تحل إلا من قبل حاكم يفهم الإسلام ويدافع عنه ويطبقه كحزمة من قواعد الحياة بطريقة كفاحية. حاكم يستمع حقا لشكوى أمته، وفي الوقت نفسه يتسع قلبه لنقد الرعية، حتى لو كان قاسيا. وهو حاكم يسعى، مع تقوى يحملها في قلبه، إلى إيجاد دولة مستقلة ومتقدمة ورائدة ذات سيادة ترفض أي شكل من أشكال التدخل الأجنبي الذي يهدد سيادة الدولة. كل هذا لا يمكن تحقيقه إلا من خلال التطبيق الانقلابي الشامل للنظام الإسلامي في إطار نظام الحكم الإسلامي، الخلافة الراشدة على منهاج النبوة.

يقول رسول الله r: «مَا مِنْ وَالٍ يَلِي رَعِيَّةً مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَيَمُوتُ وَهْوَ غَاشٌّ لَهُمْ، إِلاَّ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ» (رواه البخاري)

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

فيكا قمارة

عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست