مأساة ريمبانج ومتلازمة الفيل الأبيض
مأساة ريمبانج ومتلازمة الفيل الأبيض

الخبر:   في بداية شهر أيلول/سبتمبر، وقع حدثان استثنائيان في وقت واحد تقريباً في إندونيسيا. الأول هو سلسلة قمة الآسيان الـ43 التي عقدت في جاكرتا في الفترة من 5 إلى 7 أيلول/سبتمبر تحت شعار الآسيان كمركز للنمو. وثانيا، اندلعت في الوقت نفسه 7 أيلول/سبتمبر 2023 اشتباكات في ريمبانج - باتام، بين القوات المشتركة التي كانت في طريقها لإخلاء أرض لمنطقة مدينة ريمبانج البيئية وبين السكان الذين كانوا يدافعون عن الأرض التي تمّ احتلالها لأجيال منذ 1834م. ...

0:00 0:00
Speed:
September 23, 2023

مأساة ريمبانج ومتلازمة الفيل الأبيض

مأساة ريمبانج ومتلازمة الفيل الأبيض

(مترجم)

الخبر:

في بداية شهر أيلول/سبتمبر، وقع حدثان استثنائيان في وقت واحد تقريباً في إندونيسيا. الأول هو سلسلة قمة الآسيان الـ43 التي عقدت في جاكرتا في الفترة من 5 إلى 7 أيلول/سبتمبر تحت شعار الآسيان كمركز للنمو. وثانيا، اندلعت في الوقت نفسه 7 أيلول/سبتمبر 2023 اشتباكات في ريمبانج - باتام، بين القوات المشتركة التي كانت في طريقها لإخلاء أرض لمنطقة مدينة ريمبانج البيئية وبين السكان الذين كانوا يدافعون عن الأرض التي تمّ احتلالها لأجيال منذ 1834م.

حتماً أصبح الأطفال والنساء ضحايا، حيث أطلقت خراطيم المياه والغاز المسيل للدموع بالقرب من مدارس SDN 24 وSMPN 22 Galang، ما تسبب في الذعر والخوف وحتى الإصابات الجسدية للأطفال الذين كانوا يتعلمون. وبحسب كونتراس، أصيب ما لا يقلّ عن 20 من السكان بإصابات خطيرة أو طفيفة نتيجة أعمال الشغب، بما في ذلك من الأطفال والنساء وكبار السن. واعتبرت قوات الشرطة والقوات العسكرية المشتركة أنها استخدمت "القوة المفرطة" وأطلقت الغاز المسيل للدموع "بتهور".

التعليق:

هذان الحدثان يشبهان الفرق بين السماء والأرض؛ إن قمة الآسيان هي اجتماع حصري ونخبوي رفيع المستوى، في حين إن صراع ريمبانج هو مأساة على الأرض حيث يصبح عامة الناس دائماً هم الضحايا.

ومن المثير للاهتمام أن هذين الحدثين لا يتزامنان من حيث الوقت فحسب، بل هناك قاسم مشترك آخر بينهما، وهو التدفّق الكبير لمبادرات البنية الأساسية القائمة على الاستثمار الأجنبي. تعدّ مدينة ريمبانغ البيئية أحد المشاريع الاستراتيجية الوطنية باستثمارات من الصين ما يؤدي إلى الاضّطرار إلى نقل ما بين 5000 إلى 10000 من السكان إلى جزيرة جالانج. ويتماشى هذا المشروع مع التطور الحالي الذي يتم تسريعه في دول جنوب شرق آسيا. ومن الواضح أن هذا يقع في الطريق نفسه الذي تنعقد فيه قمة الآسيان لعام 2023 والتي تأخذ موضوع الآسيان باعتباره مركز النمو. ولهذا السبب هناك ضغوط من أجل تعزيز تطوير سلسلة التوريد وتعزيز البنية التحتية، ومن المفارقات أن كلّ هذه المبادرات يتمّ تنفيذها عن طريق تسول الاستثمار الأجنبي.

ونتيجة لذلك، فإن هذه المشاريع هي مثل مشاريع الفيل الأبيض، حيث يتمّ بناؤها بشكل رائع، على الرّغم من أن وجودها له تكاليف عالية، وفوائد مجتمعية ضئيلة، بل يصبح عبئا اقتصاديا وبيئياً على المدى الطويل. هذه الاستعارة مأخوذة من الثقافة التايلاندية خلال المملكة السيامية، حيث يتمّ تقديم الأفيال البيضاء ذات الجودة المنخفضة كهدايا لأصدقاء وحلفاء ملك سيام. تتطلب هذه الحيوانات الكثير من الرعاية، ولأنها مقدّسة، فلا يمكن تشغيلها، ما يجعل الفيلة البيضاء عبئاً مالياً وإزعاجاً كبيراً لمتلقي الهدية أو مالكها.

وتُعد قمة الآسيان لعام 2023 أحد المنتديات التي تمدّ السجاد الأحمر لمشاريع الفيل الأبيض هذه. حتى إن الرئيس الإندونيسي سعيد بالكشف عن أن نتائج هذه القمة كانت عبارة عن إجمالي 93 مشروعاً بقيمة 38.2 مليار دولار أو 2.118 تريليون روبية إندونيسية. قد تكون هذه المشاريع عظيمة، لكنها غالبا ما تكون بائسة بالنسبة للشعب. استناداً إلى سجلات اتحاد الإصلاح الزراعي، كان هناك 32 اندلاعاً للصراع الزراعي في عام 2022، 11 منها كانت مرتبطة بالمشاريع الاستراتيجية الوطنية. وبلغت مساحة الصراع 102 ألف هكتار وتضرّر منه 28 ألف أسرة.

قد تكون قمة رابطة دول جنوب شرق آسيا (آسيان) قادرة على الوعد بمركز للنمو في المنطقة، ولكنها أثبتت أيضاً بوضوح أنها تتجاهل مركز المشكلة، أو على وجه التحديد رفاهية الجميع وبقائهم. والسؤال الكبير إذن هو: "لماذا استقبل زعماء آسيان الصين في حفل عشاء رائع، في حين واجهوا شعبهم بمدافع المياه والغاز المسيل للدموع وعشرات السرايا من القوات المسلحة؟"

إذا أردنا أن نكون صادقين، هناك جانب آخر مهم وأكثر جوهرية في هذه الحالة وهو جانب العلمنة. فهذه المشاريع التنموية تتجاهل أحكام الإسلام تماما. في الواقع، كان التطور الرأسمالي بمثابة شريان الحياة للاستعمار الاقتصادي والثقافي في بلاد المسلمين، حيث لم يكن له أي مهمة تتعلق برفاهية الناس وكان لا بد من دفع هذا الثمن غالياً من الأمة، الضحية الرئيسية والأولى.

إن الإسلام يحرم التنمية القائمة على الاستثمار الأجنبي، وخاصةً تلك التي تنطوي على الديون الربوية. إنّ التنمية في الإسلام تهدف إلى عبادة الله، وترتكز على العقيدة الإسلامية، وتقدم تنمية الإنسان على تنمية المكان والمادة. وتقوم الجهات التنموية بتوجيه عملية تداول القيمة وفقاً للعقيدة الإسلامية وتداول رأس المال بطريقة متساوية على أساس الشريعة الإسلامية. ومن هذا المنطلق، يجب أن يكون الإنسان هو محور التنمية، وليس النمو المادي ولا الاقتصادي. لأنه عندما يتحرك التطور على طول محور المواد والأشياء بدلاً من الإنسان، يصبح الإنسان هو العنصر الأقل قيمة، سواء داخل المجتمع نفسه أو خارجه.

ومن ثمّ فإن الطمع في الثروة والطموح إلى الروعة المادية هو في الحقيقة تدمير وليس تنمية. عن كعب بن مالك رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: «مَا ذِئْبَانِ جَائِعَانِ أُرْسِلاَ فِي غَنَمٍ بِأَفْسَدَ لَهَا مِنْ حِرْصِ الْمَرْءِ عَلَى الْمَالِ وَالشَّرَفِ لِدِينِهِ» الترمذي، وقال حديث حسن صحيح.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. فيكا قمارة

عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست