ماذا بعد إعلان غامبيا جمهورية إسلامية؟
ماذا بعد إعلان غامبيا جمهورية إسلامية؟

 الخبر:   أعلن الرئيس الغامبي يحيى جامع في خطاب نقله القصر الرئاسي يوم 2015/12/11 أن بلاده باتت جمهورية إسلامية وأن هذه الخطوة تأتي لتخليص البلاد من الحقبة الاستعمارية، وقال وهو يحمل المصحف "تمشيا مع الهوية والقيم الدينية للبلاد أعلن غامبيا دولة إسلامية". (الجزيرة – رويترز).

0:00 0:00
Speed:
January 05, 2016

ماذا بعد إعلان غامبيا جمهورية إسلامية؟

ماذا بعد إعلان غامبيا جمهورية إسلامية؟

الخبر:

أعلن الرئيس الغامبي يحيى جامع في خطاب نقله القصر الرئاسي يوم 2015/12/11 أن بلاده باتت جمهورية إسلامية وأن هذه الخطوة تأتي لتخليص البلاد من الحقبة الاستعمارية، وقال وهو يحمل المصحف "تمشيا مع الهوية والقيم الدينية للبلاد أعلن غامبيا دولة إسلامية". (الجزيرة – رويترز).

التعليق:

انضمت غامبيا بهذا التصريح الرئاسي لمن سبقها من دول اتخذت المسمى الإسلامي تماشيا مع هويتها الدينية وإرضاءً لشعوبها المسلمة. وقد استقبل المسلمون عبر العالم هذا الخبر بسرور وحمدوا الله على رغبة الحاكم الغامبي في الانتساب للإسلام والاعتزاز بالهوية الإسلامية، خصوصا أن غامبيا ليست حديثة عهد بالإسلام، والوجود الإسلامي يمتد لإمبراطورية مالي الإسلامية. ولكن اللافت أن هذه التصريحات التي تناقلتها وكالات الأنباء لم تتبعها أي خطوات تنفيذية أو تغيير في ماهية الدولة وشكلها وعلاقاتها. ولم يتساءل المهنئون: ماذا بعد إعلان غامبيا جمهورية إسلامية وما هي تبعات هذا الإعلان؟

لم يأت الخبر كمفاجأة حيث إن نسبة المسلمين في هذا البلد الأفريقي الصغير تتجاوز 90% من السكان البالغ عددهم 1.8 مليوناً. إذن الإعلان لم يقصد به تغيير ديانة الأفراد بل تغيير شكل الدولة، والغريب في المسمى الجديد أن الرئيس اختار الشكل الجمهوري كنظام للحكم بالرغم من التناقض الظاهر بين المفردين. فالنظام الجمهوري يعبر عن الإرادة الشعبية العامة ويستند لحكم الشعب وأن السيادة للشعب، بينما النظام الإسلامي يستند إلى مبدأ السيادة للشرع والحاكمية لله وللشعب أن يختار من يمثله ويحكم بشرع الله وللشعب الحق في أن يحاسب الحاكم. ولم يتطرق الإعلان الرئاسي للرد على التناقض بين النظام الإسلامي ودستور البلاد الذي ينص على أن غامبيا دولة علمانية وما يترتب عليه من تعديل دستوري واستفتاء شعبي.

لم يبدأ رئيس هذا البلد الأفريقي الصغير بالانضمام إلى جارته المسلمة السنغال التي تحيط به من الجهات الثلاث فجميع حدود البلد المتكونة من 740 كم تشترك مع السنغال ما عدا الحد الغربي بطول 80كم من الساحل الأطلسي وقد جمعهما اتحاد لم يدم طويلا بين 1982-1989 أطلق عليه اسم "سينيغامبيا". أعلنت غامبيا أنها جمهورية إسلامية سعيا منها لقطع صلتها بالحقبة الاستعمارية ولكنها ما زالت متباهية باستقلالها محتفظة بحدود الدولة القطرية التي نتجت عن اتفاق بين بريطانيا وفرنسا في 1889 ورسمت من قبل جنودها كعبث سايكس وبيكو بالخارطة السياسية للمشرق العربي. وبالرغم من أن رسم حدود البلد استغرق 15 عاما من المداولات إلا أن الأمر استقر على رسم خارطة على شكل لسان أرضي على ضفاف نهر غامبيا يخترق وسط السنغال لتصبح غامبيا بذلك أصغر بلد في البر الأفريقي. لا تتجاوز أعرض نقطة في البلد 48 كيلو متراً، وتصل المساحة الكلية للبلد 11,300 كيلو متر مربع. وتعتبر بانجول عاصمة غامبيا أصغر عاصمة أفريقية.

نالت غامبيا استقلالها في عام 1965 وعاشت كغيرها من الدول الأفريقية دوامة الانتخابات والأحزاب السياسية المتصارعة والانقلابات والاعتماد على الآخر في كافة المجالات. كما أن الجيش الوطني الغامبي يصل إلى نحو 1900 فرد واعتمد بشكل كامل في السابق على المساعدات الأمريكية والصينية والتركية، وبالرغم من مشاركته في قوات حفظ السلام إلا أنها مشاركة رمزية وبأعداد بسيطة.

ومن جهة أخرى، تصادف هذا الإعلان مع تأزم العلاقات بين غامبيا والدول الغربية المانحة للمعونات وتعليق الاتحاد الأوروبي لبرنامج المساعدات بسبب سوء سجل حقوق الإنسان وقمع المعارضة وارتفاع أصوات معارضي يحيى جامع في الداخل، وعلق البعض بأن هذا التصريح لم يكن إلا مناورة من الرئيس الغامبي وأن الإعلان غير دستوري وليس له قيمة.

بعيدا عن تكهنات المعلقين والدوافع السياسية وراء إعلان غامبيا جمهورية إسلامية فلعل في النموذج الغامبي خير مثال لأهمية وعي الأمة على المصطلحات ومدلولاتها. لم يعد الأمر مقتصرا على وضع كلمة الإسلام بجانب اسم الدولة ولم يعد من الممكن تجاهل البون الشاسع بين مسمى وواقع الدولة الإسلامية والجمهورية الإسلامية. مسمى الجمهورية الإسلامية يناقض نفسه من حيث الفلسفة والتطبيق ويثير تعجب المسلم والعلماني الملحد على حد سواء.

إن نظام الحكم في الإسلام هو الكيان التنفيذي الذي شرعه الله عز وجل، والدولة الإسلامية ليست دولة قُطرية رسم المستعمر حدودها بل هي دولة تجمع شتات هذه الأمة تحت راية التوحيد ولا بد للدولة التي تتسمى بالإسلام أن يكون الحكم فيها إسلاميا صرفا تطبق فيها الأحكام الشرعية وتحمله للعالم، ولا بد أن يكون أمانها بأمان المسلمين أي بسلطان المسلمين وحمايتها بشوكة المسلمين ومنعتهم أي بجند المسلمين، وإلى أن تتوفر هذه الشروط في غامبيا فستظل كغيرها من بلاد المسلمين أرضا طيبة تتوق لتطبيق شرع الله والعيش بأمان المسلمين.

الإعلان لم يأت بأي جديد سوى انضمام غامبيا لباكستان وأفغانستان وإيران وموريتانيا حيث أصبحت خامس جمهورية إسلامية لا تطبق الشريعة ولا تتوفر فيها مقومات الدولة الإسلامية! ولعل الأهم من الإعلان نفسه هو ردة فعل المسلمين والفرحة الغامرة التي يستقبل بها المسلمون كل من يتوجه للإسلام وتطبيق شرع الله تعالى. فرحة المسلمين بإعلان غامبيا أو من سبقها أشبه بالطلق الوهمي الذي يسبق الولادة وتقلصات الرحم التي يسميها أهل الاختصاص "براكستون هيكس"، قد تبدو كل تجربة على أنها مخيبة للآمال ومحبطة ولكن لعلها تحضر رحما عفيا لولادة طبيعية، وقد يختلط الطلق الكاذب والمخاض الحقيقي على البعض ولكن اللحظة الحاسمة لا لبس فيها ولا تحتاج لبراهين.. لن يكون نبأ إعلان دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة المرتقبة قريبا بإذن الله مجرد نبأ عاجل على شاشات الأخبار ولن يحتاج لبحث وتحليل فالشمس لا تحجب بغربال.

﴿وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ * بِنَصْرِ اللَّهِ يَنْصُرُ مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ * وَعْدَ اللَّهِ لَا يُخْلِفُ

اللَّهُ وَعْدَهُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

هدى محمد (أم يحيى)

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست