ماذا بعد خروج بريطانيا من الاتحاد الأوروبي؟
ماذا بعد خروج بريطانيا من الاتحاد الأوروبي؟

الخبر: فعّلت رئيسة الوزراء البريطانية (تيريزا ماي) في الأسبوع الماضي العمل بالمادة (50) من معاهدة لشبونة، حيث أرسلت إشعاراً رسمياً إلى الاتحاد الأوروبي حول قرار بريطانيا مغادرة الاتحاد. ويأتي طلاق بريطانيا من الاتحاد الأوروبي بعد مرور 44 عاماً، وسوف تستمر المحادثات لمدة عامين. كما انتهزت رئيسة الوزراء الفرصة لتعبئة الناس للعمل معاً خلال فترة الانفصال، وقالت: "إننا شعب متحد وعظيم وله دولة ذات تاريخ عريق ومستقبل مشرق، والآن وبعد أن تم اتخاذ القرار بمغادرة الاتحاد الأوروبي، فقد حان الوقت للالتقاء معاً". بينما قال رئيس مجلس الاتحاد الأوروبي (دونالد تاسك): "لا يوجد سبب للتظاهر بأن هذا يوم سعيد فلم نفز بشيء". إن عملية خروج بريطانيا من الاتحاد الأوروبي الآن تتركز على السيطرة على حجم الأضرار، وقد أدى خروج بريطانيا من الاتحاد الأوروبي إلى تكهنات مكثفة بشأن مستقبل الاتحاد الأوروبي.

0:00 0:00
Speed:
April 07, 2017

ماذا بعد خروج بريطانيا من الاتحاد الأوروبي؟

ماذا بعد خروج بريطانيا من الاتحاد الأوروبي؟

الخبر:

فعّلت رئيسة الوزراء البريطانية (تيريزا ماي) في الأسبوع الماضي العمل بالمادة (50) من معاهدة لشبونة، حيث أرسلت إشعاراً رسمياً إلى الاتحاد الأوروبي حول قرار بريطانيا مغادرة الاتحاد. ويأتي طلاق بريطانيا من الاتحاد الأوروبي بعد مرور 44 عاماً، وسوف تستمر المحادثات لمدة عامين. كما انتهزت رئيسة الوزراء الفرصة لتعبئة الناس للعمل معاً خلال فترة الانفصال، وقالت: "إننا شعب متحد وعظيم وله دولة ذات تاريخ عريق ومستقبل مشرق، والآن وبعد أن تم اتخاذ القرار بمغادرة الاتحاد الأوروبي، فقد حان الوقت للالتقاء معاً". بينما قال رئيس مجلس الاتحاد الأوروبي (دونالد تاسك): "لا يوجد سبب للتظاهر بأن هذا يوم سعيد فلم نفز بشيء". إن عملية خروج بريطانيا من الاتحاد الأوروبي الآن تتركز على السيطرة على حجم الأضرار، وقد أدى خروج بريطانيا من الاتحاد الأوروبي إلى تكهنات مكثفة بشأن مستقبل الاتحاد الأوروبي.

التعليق:

على الرغم من تقليل المسؤولين البريطانيين والأوروبيين من حجم تداعيات خروج بريطانيا من الاتحاد الأوروبي، فإن الاتحاد لن يكون هو نفسه مرة أخرى، وتصريحات (تاسك) تدلل على حجم الحقائق القاسية التي تواجه كلا الجانبين اللذين يتنافسان في لعبة وضع المؤامرات الجيوسياسية.

لقد منح الاتحاد الأوروبي ميزان القوى لصالح إسبانيا على أراضي جبل طارق المتنازع عليها، وقد تقف بريطانيا مع المطالب الأمريكية لأعضاء الناتو بزيادة الإنفاق الدفاعي إلى 2٪ من الناتج المحلي الإجمالي أو تختار عدم الاهتمام بالمخاطر، وفي الوقت نفسه روسيا حريصة على الاستفادة من معضلة الاتحاد الأوروبي لبيع مقاتلات نفاثة لصربيا ودعم التحركات الشعبية في جميع أنحاء القارة؛ لذلك فإن وضع الاتحاد يسير نحو المجهول بالنسبة للأوروبيين.

مع ذلك، فإن توسيع سياق محادثات الطلاق هو حيلة متعمدة تهدف إلى تعزيز مواقف المتفاوضين، ولكن لها عواقب طويلة الأمد على أوروبا، ومن المثير للاهتمام قول (مونيت) مؤسس الاتحاد الأوروبي: "عندما تكون لديك مشكلة لا يمكنك حلها، فاعمد إلى توسيع سياقها". من وجهة نظر بريطانيا فإن أوروبا المقسمة التي ستظهر بعد المحادثات هي الهدف المنشود لها، ومن ناحية أخرى تطمح الدول الأعضاء الأساسية في الاتحاد الأوروبي إلى تعزيز الاتحاد من خلال تقديم مثال من بريطانيا.

لقد كانت سياسات القوة العظمى دائماً سمة من سمات السياسة الأوروبية، ويعتقد الكثير من الأوروبيين أن ما يمر به الاتحاد ليس من صنع أيديهم وليس هو ما يرغبون فيه. لقد أكد العالم الأمريكي (كاغان) أنه بدون الضامن الأمريكي لن يكون هناك وجود للاتحاد الأوروبي، فقد كان الإبداع والمال الأمريكيان محوريّين في المشروع الأوروبي، فبعد الحرب العالمية الثانية كان الهدف الرئيسي لأمريكا هو مواجهة التوسع السوفيتي وإيجاد أوروبا موحدة مزدهرة بالرأسمالية؛ لعزل الشيوعية الروسية.

كان مشروع مارشال الأمريكي لتحويل المجتمع الأوروبي إلى تحويل الفحم والصلب إلى كتلة موحدة يمكن أن تقف ضد الإمبراطورية الحمراء. إن الإخفاق الذي تعرضت له بريطانيا وفرنسا، والسباق الذري بين القوى القطبية الثنائية، وغزو روسيا للمجر، أكد الحقيقة المروعة بأن أوروبا قد نزلت إلى المركز الثالث من بين القوى العالمية، وهي غير قادرة على التصرف بالأحداث العالمية والمحلية، وقد وفر ذلك الزخم اللازم لمعاهدة روما في عام 1957م، التي وضعت الأسس لتجربة التكامل في أوروبا.

إذا كان الاتحاد الأوروبي اليوم رهيناً للقوى الخارجية مثل أمريكا، فإن الفكرة الفعلية لأوروبا الموحدة لها أصول غريبة. في القرن الخامس عشر، تخوف بعض الأوروبيين من الدولة العثمانية من تحقيق الوحدة في القارة، فقد قاد جورج بوديبراد (ملك بوهيميا) تلك الجهود بما سُمي برسالة السلام. وفي القرن السابع عشر، رد دوق سولي - وهو "المجلس المسيحي في أوروبا" الذي يضم 15 دولة - على الهيمنة العثمانية.

بصرف النظر عن فكرة أوروبا، فقد لعب الإسلام دوراً أساسياً في تشكيل الحضارة الغربية، فنقاط التفاعل بين الإسلام والغرب، مثل: إسبانيا وصقلية، والمشرق، وطرق التجارة، والسياسة العثمانية في قلب أوروبا، وفّر كل ذلك لأوروبا رأس المال الفكري اللازم لبث الحياة فيها، فعلى سبيل المثال: قدم النبلاء العائدون من الحروب الصليبية مساهمات كبيرة في الدعوة إلى مزيد من الحقوق بين الملك ورعاياه، ووثيقة (ماغنا كارتا) لعام 1215م هي مثال على الطبقة النبيلة في إنجلترا التي تستعير الأفكار السياسية في الإسلام لتشكل حقوقاً محلية.

بغض النظر عن مدى صعوبة قدرة أوروبا على إخفاء ماضيها الذي تأثر بالإسلام، فإن الإسلام لا بد أن يلعب دوراً محورياً في مستقبل أوروبا. من غير المرجح أن يبقى الاتحاد الأوروبي من دون بريطانيا في شكله الحالي، وبالنسبة لبريطانيا فإنها لن تتسامح أبداً مع وجود قوة قارية قوية، وينطبق الأمر نفسه على أمريكا وروسيا وهما تسعيان إلى تحديد مجالات نفوذهما. ثم هناك شهية شريرة شعبية، والتي من المرجح أن تشجع على إشعال القومية التي من شأنها تدمير القارة.

على الرغم من أن هذه القوى تتنافس على الأسبقية في القارة، فإن تحدي الإسلام ليس بعيداً، فأوروبا تعاني حالياً من عدد كبير من القضايا الإسلامية، بدءاً من الأمن... إلى وجود المسلمين الذين يعيشون في الغرب، ومن المرجح أن تكون هذه القضايا على سلم أولويات الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة القائمة قريباً بإذن الله وتوظّف لصالح المسلمين، وقد تنبأ أحد العلماء الفرنسيين (بوألم سنسال) بالفعل بزوال أوروبا، وتوقع أن يحكم الإسلام العالم بحلول عام 2084م.

عَنْ أَبِى قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِى أَسْمَاءَ الرَّحَبِىِّ، عَنْ ثَوْبَانَ، أَنَّ نبي اللَّهِ rقَالَ: «إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى زَوَى لي الأَرْضَ حَتَّى رَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا، وأعطاني الْكَنْزَيْنِ الأَحْمَرَ وَالأَبْيَضَ».

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عبد المجيد بهاتي – باكستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست