ماذا بقي من شعاراتكم الإسلامية بعد أن صوتّم لصالح رئاسة كيان يهود للجنة القانونية بالأمم المتحدة؟!
ماذا بقي من شعاراتكم الإسلامية بعد أن صوتّم لصالح رئاسة كيان يهود للجنة القانونية بالأمم المتحدة؟!

الخبر:   نشر عدد من المواقع الإلكترونية في 6/25 ومنها موقع هسبريس بيان مجموعة العمل الوطنية من أجل فلسطين بالمغرب‎ بمناسبة ما تم تداوله إعلامياً من ظهور اسم المغرب ضمن المصوتين لفائدة رئاسة كيان يهود للجنة القانونية في هيئة الأمم المتحدة، حيث طالبت الحكومة بإصدار توضيح رسمي في شأنه.

0:00 0:00
Speed:
June 27, 2016

ماذا بقي من شعاراتكم الإسلامية بعد أن صوتّم لصالح رئاسة كيان يهود للجنة القانونية بالأمم المتحدة؟!

ماذا بقي من شعاراتكم الإسلامية

بعد أن صوتّم لصالح رئاسة كيان يهود للجنة القانونية بالأمم المتحدة؟!

الخبر:

نشر عدد من المواقع الإلكترونية في 6/25 ومنها موقع هسبريس بيان مجموعة العمل الوطنية من أجل فلسطين بالمغرب‎ بمناسبة ما تم تداوله إعلامياً من ظهور اسم المغرب ضمن المصوتين لفائدة رئاسة كيان يهود للجنة القانونية في هيئة الأمم المتحدة، حيث طالبت الحكومة بإصدار توضيح رسمي في شأنه.

ورصدت المجموعة تصويت بلاد عربية وإسلامية لفائدة رئاسة كيان يهود للجنة السادسة بهيئة الأمم المتحدة، معتبرة أن هذا التصويت "خيانة عظمى لثوابت الأمة، وتحريض صريح، بل ودعم مباشر للإرهاب الصهيوني وجرائمه ضد شعب وأرض ومقدسات فلسطين"، مطالبة المنتظم الدولي بـ"إلغاء القرار".

وفيما ألحت المجموعة، على ضرورة إخراج مقترح قانون تجريم التطبيع في المغرب إلى الوجود، حذرت من المنحى التصاعدي الذي تأخذه ما وصفتها بـ"مخططات اختراق النسيج الوطني المغربي، التي يستعمل فيها كأدواتٍ خُدَّامُ الأعتاب الصهيونية"، كما عبرت عن رفضها "الابتزاز بقضايانا الوطنية، وفي مقدمتها قضية الوحدة الترابية المغربية، من أجل تسويغ التطبيع".

وتوقفت المجموعة عند مظاهر ما قالت إنها "محاولة لتنويع مجالات الاختراق الإسرائيلي للمغرب"، ذاكرة أن "أبرزها فضيحة التمور الصهيونية المنتجة في الأراضي الفلسطينية المغتصبة، والتي عمل الصهاينة بمختلف الوسائل على أن تغزو السوق المغربية بمناسبة شهر رمضان المبارك"، مضيفة أنها ما زالت تنتظر ردا من الحكومة المغربية، خاصة وزارتَي العدل والداخلية، على الرسالة المفتوحة التي وجهت لهما من طرف المجموعة في هذا الشأن، "وإخبار الرأي العام عن نتائج البحث الذي قاما به في هذا المجال".

وانتقد البلاغ "احتفال صهاينة وعملائهم بمراكش، علناً وبدون خجل، مع رفع العلم الصهيوني في الذكرى 68 لنكبة اغتصاب فلسطين"، و"ظهور آليات طبية وانتشار تجهيزات فلاحية واردة من الكيان الصهيوني في الأسواق المغربية، والتي وصل تحدي أصحابها درجة عرض منتجاتهم في المعرض الفلاحي الأخير بمكناس"، إلى جانب "تنظيم رحلات للكيان الصهيوني الغاصب تحت ذريعة زيارة القدس، بدأت جد محتشمة وتكاد تكون سرية، وأصبح الأمر يتسع إلى درجة الإعلان عن تنظيمها، كما هو الشأن بالنسبة لعدد من الوكالات السياحية".

التعليق:

مرة أخرى تظهر الحكومة بكل وضوح تراجعها عن وعودها، واحداً تلو الآخر، فحتى قضية فلسطين التي كانت تعتبر خطاً أحمر وكانت ولا تزال موضوع الندوات واللقاءات الجماهيرية التي ينظمها حزب العدالة والتنمية وذراعه حركة التوحيد والإصلاح والتي يتم فيها تجييش الناس وإلهاب مشاعرهم بالشعارات، حتى هذه القضية، تراجعت فيها الحكومة وسارت فيها على خطى من سبقها من دول التطبيع بل والتشجيع. فالتصويت لصالح رئاسة كيان يهود للجنة القانونية في الأمم المتحدة ليس مجرد تطبيع بل تشجيع وتنسيق ومباركة. وكان موقع تحرير نيوز قد أكد في 2016/06/16، أن ما يزيد عن ثماني دول عربية ممن توصف "بدول الاعتدال" صوتت لكيان يهود، وأن من ضمن الدول التي تأكد تصويتها لصالح كيان يهود، الإمارات ومصر والأردن والمغرب.

أي تفسير يمكن أن تقدمه الحكومة لهذه الفعلة الشنعاء؟ هل ستلجأ إلى الصمت كعادتها؟ أم أنها ستتحجج بأن العلاقات الخارجية لا تدخل ضمن اختصاصاتها وأنها موكولة إلى الملك وحاشيته؟

لقد أصبحت هذه الحجة ممجوجة مستهلكة، كلما أطلت فضيحة تلو فضيحة وآخرها تلك المتعلقة بوثائق بنما وتهريب الأموال، قيل لنا هذا ليس من اختصاصنا، وأن العفاريت والتماسيح لا تزال آخذة بمفاتيح الأمور.

إذا استشرى الفساد وتضخم الفاسدون قيل لنا ليس لنا من الأمر شيء، وإذا اعتدى الأمن على الناس ونكل بالمحتجين، قيل لنا لم نُستشر في ذلك، وإذا استأسد العلمانيون ودعاة التغريب والإفساد، قيل لنا الأمر أكبر منا، وإذا انتهكت الأحكام الشرعية جهاراً نهاراً قيل لنا ما لتطبيق الشرع قَدِمنا، الشام تستغيث ولا من مجيب، الفلوجة تحترق ولا من معين، أهل فلسطين يُقنصون يوميا ولا من نصير... قولوا لنا بربكم، ما الفائدة من وجودكم في الحكم إن كانت كل الكبائر ترتكب باسمكم وتمرر من تحت عباءتكم؟

يا أعضاء وكوادر حزب العدالة والتنمية،

إنكم لتعلمون أننا لا ننافسكم على مقاعد في البرلمان أو الحكومة، وأننا لسنا في سباق معكم حول نصيب من كعكة الحكم، وأنه إنما يحركنا حب الإسلام والحرص على مصالح المسلمين، وها أنتم ترون كيف يمعن قادتكم في مسايرة النظام الذي طالما تغنوا بمعارضته، وتحت ستار وأد الفتنة وتجنب ما آلت إليه دول الربيع العربي، يتم تبرير السكوت عن الفساد والظلم والنهب والقمع ومحاربة الإسلام و... وحتى الشعار البراق، شعار اليد النظيفة الذي لطالما كان رمزاً لكم، يبدو أنه في أفول أيضاً بعد تصريحات بنكيران عن وجوب المرسيدس للوزير وسيارات الدفع الرباعية للنواب السبعة لرئيس جهة درعة تافيلالت، إلى غير ذلك...

إن استمرار حزبكم في هذه الطريق، طريق التي لا ترد يد لامس، يجعله يسير في طريق الانتحار السياسي، تماماً كما فُعل بالحزب الإسلامي العراقي وحزب النهضة في تونس وحزب النور في مصر، فلا تكونوا كالتي نقضت غزلها من بعد قوة أنكاثاً. شُدُّوا على أيدي قادتكم، وأعيدوهم إلى جادة الصواب، وألزموهم شرع الله، ولتكن مصلحة الإسلام أحب إليكم من مصلحة الحزب، فإن سكوتكم عليهم هو تفويضٌ مفتوحٌ لهم، ومدعاةٌ لهم لمزيد من التنازل والمسايرة للظالمين، قال الشاعر:

بني تميمٍ، ألا فَانْــهَوْا سَفِيهَكُمْ          إنَّ السَّفِيهَ إذا لم يُـــنْـــهَ مَأْمُور

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمد عبد الله

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست