ماذا كشفت المناظرة بين هاريس وترامب؟
ماذا كشفت المناظرة بين هاريس وترامب؟

الخبر:   جرت المناظرة الرئاسية الأولى التي استضافتها شبكة إيه بي سي الإخبارية بين الرئيس السابق والمرشح الجمهوري دونالد ترامب، وبين نائبة الرئيس والمرشحة الديمقراطية كامالا هاريس، في 10 أيلول/سبتمبر 2024، وسط ترقب كبير. كانت المناظرة فرصة حاسمة لكل مرشح لتعزيز موقفه في سباق انتخابي محتدم، قبل بدء التصويت المبكر في عدة ولايات رئيسية، وقبل شهرين من موعد تصويت الناخبين الأمريكيين في الخامس من تشرين الثاني/نوفمبر المقبل. وقد شهدت المناظرة تركيزاً على قضايا محورية مثل: الإجهاض، والهجرة، والاقتصاد، وأظهرت أداءً متبايناً بين المرشحين.

0:00 0:00
Speed:
September 18, 2024

ماذا كشفت المناظرة بين هاريس وترامب؟

ماذا كشفت المناظرة بين هاريس وترامب؟

الخبر:

جرت المناظرة الرئاسية الأولى التي استضافتها شبكة إيه بي سي الإخبارية بين الرئيس السابق والمرشح الجمهوري دونالد ترامب، وبين نائبة الرئيس والمرشحة الديمقراطية كامالا هاريس، في 10 أيلول/سبتمبر 2024، وسط ترقب كبير. كانت المناظرة فرصة حاسمة لكل مرشح لتعزيز موقفه في سباق انتخابي محتدم، قبل بدء التصويت المبكر في عدة ولايات رئيسية، وقبل شهرين من موعد تصويت الناخبين الأمريكيين في الخامس من تشرين الثاني/نوفمبر المقبل. وقد شهدت المناظرة تركيزاً على قضايا محورية مثل: الإجهاض، والهجرة، والاقتصاد، وأظهرت أداءً متبايناً بين المرشحين.

التعليق:

اًولا: اتبعت هاريس خلال هذه المناظرة نهجا استفزازيا لترامب من أجل دفعه للوقوع في الخطأ، وهذه النقطة خطيرة حيث إنها تدرك أن إثارة ترامب قد تدفعه لردات فعل غير متوقعة، وكانت حريصة على الهجوم لتجعله مدافعا عن مواقفه وهذا أسلوب ترامب نفسه في الحوار.

ثانيا: أثارت هاريس نقطة غاية في الأهمية والدقة وهي اتهام ترامب وارتباطه بمشروع 2025 "خطة إعادة هيكلة الحكم في أمريكا"، وهو ما نفاه ترامب. وهذا المشروع أصدرته مؤسسة التراث، وهي مؤسسة بحثية وتعليمية مهمتها بناء وتعزيز السياسات العامة المحافظة ومقرها واشنطن.

"تتكون خطة المشروع من 920 صفحة، وتمثل رؤية المحافظين لما يجب أن يكون عليه شكل الحكومة الأمريكية المقبلة من خلال توسيع السلطات الرئاسية وإصلاح القوى العاملة الفيدرالية بحيث يمكن استبدال الموالين الحزبيين بها"، وفقا لموقع إن بي آر.

ويقول الموقع: "إن المشروع لا يمثل خطة ترامب، ولكنها خطة وُضعت من أجل رئاسته في حال فوزه في الانتخابات. وسبق لبايدن أن قال: "إن مشروع 2025 يجب أن يخيف كل أمريكي لأنه سيمنح ترامب سلطة لا حدود لها على حياتنا اليومية".

هذا المشروع يرتكز على أربع ركائز من شأنها أن تمهد الطريق لإدارة "محافظة فعّالة: أجندة السياسات، والموظفين، والتدريب، وكتاب قواعد اللعبة الذي يستغرق 180 يوما"، بحسب الموقع الرسمي للمشروع.

وتتناول الخطة تفاصيل الإصلاحات الشاملة للسلطة التنفيذية، ومن بينها تجريم المواد الإباحية وفرض حظر شامل عليها وحل وزارتي التجارة والتعليم، ووقف مبيعات حبوب الإجهاض.

كما تدعم الخطة نشر الجيش "للمساعدة في عمليات الاعتقال" على طول الحدود بين الولايات المتحدة والمكسيك وعمليات ترحيل جماعية لملايين المهاجرين غير الشرعيين، وفقا لصحيفة نيويورك تايمز.

كذلك تدعو الخطة، التي يقودها مسؤولون سابقون في إدارة ترامب، إلى إقالة الآلاف من موظفي الخدمة المدنية وتوسيع سلطة الرئيس وتخفيضات ضريبية شاملة.

فيما قال ترامب "لا أعرف شيئا عن مشروع 2025.. ليس لدي أي فكرة عمن يقف وراء ذلك. أنا لا أتفق مع بعض الأشياء التي يقولونها وبعض الأشياء التي يقولونها سخيفة وسخيفة للغاية".

وللخروج من علاقة ترامب وفريقه بالمشروع فإن مجرد التفكير بإعادة النظر ببعض القضايا الدستورية وتوزيع السلطات لحساب السلطة التنفيذية تدل على خطورة قادمة في تفكير نخب يمينية ستجعل من أمريكا دولة دكتاتورية ليس فقط بوأد مبادئ الثورة الأمريكية خارجيا وإنما أيضاً داخليا فيما يتعلق بالحريات.

ثالثا: إن المتابع للمناظرة يجد أنها خلت من مشروع سياسي كامل من الطرفين حيث انصب البحث على الهجوم وإثارة الطرف الآخر ومحاولات الدفاع، فيما طرحت بعض القضايا من بعض التصورات في كيفية التعامل مع الاقتصاد والتعرفة الجمركية وأثرها على التضخم والحروب التجارية، فمثلا يقول ترامب إنه "سينهي الحرب في غزة وأوكرانيا" ولكن لا نعلم كيف؟ وعلى حساب من؟ وهل هذا القول استراتيجية سياسية أم مغامرة سياسية لها آثارها الضخمة وتبعاتها الخطيرة؟ ومثلا قالت هاريس: "إن هذه الحرب يجب أن تنتهي ويتم وقف إطلاق النار وتحرير الرهائن، ويجب أن يكون هناك حل دولتين لإعادة بناء غزة". في حين، سعى ترامب لجذب يهود أمريكا، وقال "إن هاريس تكره (إسرائيل)، ولن تكون خلال سنتين إذا فازت هاريس".

وختاما: إن سقوط وضعف الإمبراطوريات لا يأتي عادة فجأة، بل له أسباب ومقدمات في مرحلة زمنية قد تقصر وقد تطول لاعتبارات متعددة لكنها في طريق الأفول، وأمريكا ركبت هذه السكة نحو الانحدار، وهذا القول ليس ضربا من الخيال ولا تمنياً بل كثير من المفكرين الأمريكيين ذكروه وألفت المجلدات في الحديث عن الأفول والانحدار، ولكن أفول أمريكا الحقيقي سيكون على يد دولة مبدئية تنافسها على القيادة الدولية.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

حسن حمدان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست