ماذا تعني اتفاقية تركيا مع الصين؟
ماذا تعني اتفاقية تركيا مع الصين؟

الخبر: التقى وزير الخارجية التركي مولود جاويش أوغلو بممثلي الصحف والقنوات التلفزيونية في أنقرة خلال اجتماع تقييم السياسة الخارجية 2020 في 30 كانون الأول/ديسمبر 2020. وردا على سؤال بشأن اتفاقية تسليم المجرمين الموقعة بين تركيا والصين في عام 2017 ولكن لم تتم الموافقة عليها بعد من الجمعية الوطنية الكبرى لتركيا، صرح جاويش أوغلو أن تركيا وقعت معاهدات تسليم المجرمين العادية أو معاهدات التعاون القضائي مع العديد من البلدان،

0:00 0:00
Speed:
January 07, 2021

ماذا تعني اتفاقية تركيا مع الصين؟

ماذا تعني اتفاقية تركيا مع الصين؟
(مترجم)


الخبر:


التقى وزير الخارجية التركي مولود جاويش أوغلو بممثلي الصحف والقنوات التلفزيونية في أنقرة خلال اجتماع تقييم السياسة الخارجية 2020 في 30 كانون الأول/ديسمبر 2020. وردا على سؤال بشأن اتفاقية تسليم المجرمين الموقعة بين تركيا والصين في عام 2017 ولكن لم تتم الموافقة عليها بعد من الجمعية الوطنية الكبرى لتركيا، صرح جاويش أوغلو أن تركيا وقعت معاهدات تسليم المجرمين العادية أو معاهدات التعاون القضائي مع العديد من البلدان، وقال إن المعاهدة تتعلق بتسليم المجرمين. وصرح جاويش أوغلو أنه حتى اليوم، تلقت تركيا من الصين طلبات تسليم تتعلق بالإيغور الموجودين في تركيا، لكن الأخيرة لم تتخذ خطوات في هذا الصدد. قال جاويش أوغلو: "نقول إنه يجب التمييز بين الإرهابيين والأبرياء. وبالمثل، نقول إنه لا ينبغي إساءة استخدام هذا. نحن نقول للجميع، الصين والآخرين. لذلك نحن لا نقبل اضطهاد الأبرياء تحت ذريعة محاربة الإرهاب". وقال جاويش أوغلو، الذي ذكر أن هذه الاتفاقية هي اتفاقية روتينية بشأن تسليم المجرمين تم توقيعها مع الجميع، وأنها غير مرتبطة بالإيغور الأتراك، إن أمر الموافقة على هذه الاتفاقية أم لا منوط بمجلس النواب.

التعليق:


تمت الموافقة على "اتفاقية تسليم المجرمين" التي تم توقيعها بين الصين وتركيا خلال زيارة الرئيس أردوغان لبكين في عام 2017، في اللجنة الدائمة للمجلس الوطني لنواب الشعب في الأيام السابقة. بعبارة أخرى، تقول الصين الآن لتركيا "حان دورك"، وإذا وافقت تركيا على هذه الاتفاقية في الجمعية الوطنية الكبرى لتركيا، فستبدأ مرحلة التنفيذ وعملية تسليم "المجرمين". الاتفاق الذي سُئل عنه وزير الخارجية جاويش أوغلو والذي أجاب عنه يتطلب ذلك. ومع ذلك، لم يتحدث مولود جاويش أوغلو بوضوح ولا بشكل صحيح.


إنه لا يتحدث بوضوح، لأنه قلق من تأثير أحزاب المعارضة في البرلمان على الحكومة لمجرد المصلحة السياسية. نعم إنه يتحدث بحذر لأنه يعلم أن أحزاب المعارضة التي تسعى إلى تحقيق الذات في البرلمان ستستغل هذه القضية ضد الحكومة كوسيلة ضغط وليس لأنه يفكر في المهاجرين المسلمين ويؤمن ببراءتهم وسيحمي حقاً مهاجري الإيغور. إنه يكذب، لأن تركيا سلمت بهدوء أكثر من مهاجر من الإيغور إلى الصين حتى هذه اللحظة. والآن هناك عشرات المهاجرين محتجزين في مراكز الإعادة مرة أخرى ومصيرهم غير واضح.


بادئ ذي بدء، دعونا نؤكد على ذلك، لم يحضر أردوغان الزيارة في عام 2017 والتي فيها تم هذا الاتفاق بمفرده ولكن مع وفد وفي سياق: "اتفاقية التسليم المتبادل للمجرمين"، "الاتفاقية الدولية للنقل على الطرق السريعة"، ووقعت بين الوفود "اتفاقية مع جمهورية الصين الشعبية حول إنشاء مراكز ثقافية مشتركة". وحضر حفل التوقيع وزير العدل آنذاك بكير بوزداغ، ووزير الخارجية مولود جاويش أوغلو، ووزير النقل والشؤون البحرية والاتصالات آنذاك أحمد أرسلان. كما قام أردوغان بزيارة أخرى للصين في عام 2019، تم خلالها إبرام اتفاقيات ثنائية في التجارة والطاقة والدفاع والعديد من المجالات الأخرى. لذلك، يمكننا القول بوضوح شديد إنه عندما ساءت علاقات تركيا مع الغرب، وتحديداً أوروبا، سعت إلى التحالف مع الصين كبديل في سياق اقتصادي. لأن الاقتصاد التركي يواجه صعوبات ويحتاج بشكل عاجل إلى علاقات تجارية جيدة. على الرغم من كل هذه العوائد التجارية، ألزمت تركيا نفسها بسياسة الإيغور الصينية.


يشير تصريح وزير الخارجية جاويش أوغلو إلى أن المصادقة على هذه الاتفاقية وفقاً لتقدير البرلمان، تشير إلى أن الاتفاقية ستُعرض على البرلمان في وقت لاحق ومن المرجح أن تتم المصادقة عليها. ومن جديد، فإن تصريح مولود جاويش أوغلو "نقول إنه يجب التمييز بين الإرهابيين والأبرياء" حول الأشخاص المشمولين بـ"اتفاقية التسليم"، هو بيان الهدف منه تخفيف الضغوط في الرأي العام، لأننا نعلم جيداً أن النظام الصيني يعتبر جميع المهاجرين الذين هربوا من الاضطهاد في تركستان الشرقية ولجأوا إلى تركيا أو غيرها، يعتبرهم إرهابيين دون أي تمييز.


إذا كانت الحكومة التركية تعتبر نفسها الحامي والوصي على المسلمين، فما يجب أن تفعله هو الضغط على النظام الصيني لتحرير الإيغور المسلمين الذين تحتجزهم في معسكرات الاعتقال ويعذبون في الزنازين لسنوات أو حتى لعقود، وعدم المصادقة على الاتفاقية التي أبرمتها تركيا مع الصين في البرلمان وعدم تسليم الإيغور المسلمين الأبرياء الذين تعتبرهم الصين "إرهابيين". إذا ما فعل أردوغان ذلك، فيمكنه عندها حقاً أن يكون حامي المسلمين ووصيهم. ولكن من أجل القيام بذلك، عليك أن تكون شجاعاً وأن تظهر موقفاً مشرفاً وقوياً. ولن يكون ذلك مع سياسات التاجر الذي يهتم بمصالحه الشخصية والتي تنحني تحت ضغط الشيوعيين من أجل علف الدجاج الصيني.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
محمود كار
رئيس المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية تركيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست