ماذا وراء "ميثاق قيم الجمهورية" الذي دعا إليه ماكرون؟؟
ماذا وراء "ميثاق قيم الجمهورية" الذي دعا إليه ماكرون؟؟

الخبر:   "الإسلام دين يعيش أزمة اليوم في جميع أنحاء العالم" "العلمانيّة لم تقتل أحدا" "ستة ملايين نسمة من المسلمين يُمثّلون خطر تشكيل (مجتمع مُضادّ)" "يجب التصدّي للانعزاليّة الإسلاميّة"

0:00 0:00
Speed:
November 24, 2020

ماذا وراء "ميثاق قيم الجمهورية" الذي دعا إليه ماكرون؟؟

ماذا وراء "ميثاق قيم الجمهورية" الذي دعا إليه ماكرون؟؟

الخبر:

"الإسلام دين يعيش أزمة اليوم في جميع أنحاء العالم"

"العلمانيّة لم تقتل أحدا"

"ستة ملايين نسمة من المسلمين يُمثّلون خطر تشكيل (مجتمع مُضادّ)"

"يجب التصدّي للانعزاليّة الإسلاميّة"

التعليق:

هذه كانت بعض تصريحات إيمانويل ماكرون حول خططه التي أعلن عنها لسنّ قوانين أكثر صرامة للتصدّي لما سماّه "الانعزال الديني" والدفاع عن القيم العلمانيّة.

وقد كان "ميثاق قيم الجمهورية" جزءا من حملته التي يقودها هذه الفترة بشراسة ضدّ المسلمين في فرنسا بتقديم مهلة للمجلس الفرنسي للعقيدة الإسلامية أقصاها 15 يوما للقبول بهذا الاتفاق.

ومنذ وصوله للسلطة، اعتاد ماكرون على ذكر الإسلام والمسلمين في كثير من خطاباته بصيغة التحذير أو التهديد أو الاستفزاز، وقد بات موقفه العدائيّ واضحا من الإسلام.

وقد يرى الكثير من معارضيه المسلمين وغير المسلمين أنّ مهاجمته للإسلام باتت ملجأ له للهروب من إخفاق سياسته وتدهور شعبيّته التي لم يعرفها أي رئيس فرنسي من قبله، فيما يرى آخرون أنّ مهاجمته للإسلام هي استثمار انتخابي للإسلاموفوبيا المنتشرة حاليّا في دول الغرب وفرنسا خاصّة، أمام تراجع أسهمه أمام اليمين المتطرّف الذي تتصاعد شعبيّته في الوسط السياسي الفرنسي حالياً.

والمُدقّق في تصريحات ماكرون يرى أنّ خشيته من انهيار القيم العلمانيّة أمام تصاعد الإسلام السياسيّ هي الدافع الرئيسي لحملته وفرض الضغوطات على المسلمين في بلاده!

فالدولة الفرنسيّة تعتمد نظاما علمانيّا ضاربا في القِدم، وهو جزء من إرث الثورة الفرنسية، وفلاسفتها التنويريين الذين نظّروا لفصل الكنيسة عن الدولة والمجتمع، لذلك يُحاول ماكرون دقّ نواقيس الخطر ولفت انتباه الرأي العامّ الفرنسي وتبنّي موقفه نفسه لمنع مزيد تغلغل الإسلام في فرنسا خاصّة وأنه يُعتبر الدين الثاني في بلد العلمانيّة، وقد أشار بتصريحه أنّ على فرنسا التصدّي للانعزاليّة الإسلاميّة الساعية إلى "إقامة نظام موازٍ" و"إنكار الجمهورية" وأنّه ليس ضدّ الإسلام كدين - وإن كان كاذبا - وإنّما هو ضدّ الإسلام كحركة سياسيّة، من هنا جاءت خطّته بعرض "ميثاق قيم الجمهوريّة" ليضمن الحقّ القانوني في الردّ والتعامل مع المسلمين في فرنسا الذين لا يؤمنون بقيم العلمانيّة بل يرونها فكرة واهية منتهية الصلاحيّة، وقد أدرك ماكرون أنّ الإسلام في فرنسا هو تهديد لجمهوريّته وأنّه قد يُصبح نظاما موازيا داخل بلد العلمانيّة الأولى فجعل من ميثاق قيم الجمهوريّة قفصاً يزجّ فيه بكلّ من يحاول نقض القيم العلمانيّة أو الخروج عنها.

على إثر تصريحاته وخططه، كثر المعارضون والمنتقدون لماكرون باتّهامه بعدم احترام مبادئ الثورة الفرنسيّة التي أسّست لقيم العلمانيّة وتقديس الحريّات وحماية التنوّع، فيتساءل البعض: لماذا لا يحترم ماكرون أوّلا قيم العلمانيّة التي تضمن التعدّد الديني وحريّة المعتقد والتعبير؟

والجواب أنّ العلمانيّة نفسها لا تحترم ما يُهدّدها فكريّا ونظاميّا ولا تسمح للدين أن يكون أساسا للدولة ولا تمنح الحقّ لمن يطالب بذلك بل تُعاديه، ويبدو أن الرئيس الفرنسي أكثر تعمّقا في فهم قيم العلمانيّة من بعض معارضيه إذ يعتبر الإسلام السياسي هو اللكمة القاضية لقيم جمهوريّته فجعل من قبول الميثاق ضمانا تشريعيّا وقضائيّا لكلّ مخالف.

فاستمراريّة القيم العلمانيّة ومنها الديمقراطية في بلاد الغرب وفي بلاد المسلمين لا يعني نجاحا للمبدأ الذي تقوم عليه ولا للأفكار والأنظمة المنبثقة عنه، فالعالم اليوم ينهار وعُراه تتهاوى عُروة عُروة في ظلّ الرأسماليّة وقيم العلمانيّة، لكنّ امتداد هذه الفكرة وأنظمتها يكمُن في تصدّيها ومُحاربتها للإسلام كمشروع سياسي مبدئي.

ولهذا كان من الطبيعي لحُماة العلمانيّة وبعض المتهوّرين السياسيين كإيمانويل ماكرون أن يتحدّث عن الإسلام والمسلمين أكثر من حديثه عن أزماته الداخليّة في بلاده، فيما يُسَلّم في مشاكل بلاده يجعل من الإسلام شُغلَه الشاغل لأنّه "دين مرتبط بالتوترات بين الأصوليين والمشاريع الدينية السياسية"، حسب قوله.

لقد أصبح حكّام الشرق والغرب يستشعرون جيّدا اقتراب نهاية ملكهم ومبادئهم التي أسّسوا عليها دُولهم وأنّ حماية ملكهم تكون بإخضاع المسلمين لأفكارهم عنوة دون غيرهم من الأمم؛ إمّا بمسمّى الدّمج كما تزعم بريطانيا، أو بالميثاق الجمهوري كما تفعل فرنسا اليوم، أو بمحاربة الإرهاب كما تتبنّى أمريكا، أو بالتطهير العرقي كما تفعل الصين، أو بسياسة النار والحديد والسجون والمعتقلات كما تفعل الأنظمة في بلاد المسلمين.

﴿يُرِيدُونَ أَن يُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَيَأْبَى اللَّهُ إِلَّا أَن يُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

نسرين بوظافري

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست