مبررات النظام المصري لن تنجيه أمام محكمة العدل الإلهي
مبررات النظام المصري لن تنجيه أمام محكمة العدل الإلهي

نفى رئيس هيئة الاستعلامات المصرية ضياء رشوان، الجمعة، ما وصفها بـ"مزاعم وأكاذيب" التي قالها فريق الدفاع (الإسرائيلي) أمام محكمة العدل الدولية عن أن مصر "مسؤولة عن منع دخول المساعدات الإنسانية والإغاثية إلى قطاع غزة من الجانب المصري لمعبر رفح". ...

0:00 0:00
Speed:
January 16, 2024

مبررات النظام المصري لن تنجيه أمام محكمة العدل الإلهي

مبررات النظام المصري لن تنجيه أمام محكمة العدل الإلهي

الخبر:

نفى رئيس هيئة الاستعلامات المصرية ضياء رشوان، الجمعة، ما وصفها بـ"مزاعم وأكاذيب" التي قالها فريق الدفاع (الإسرائيلي) أمام محكمة العدل الدولية عن أن مصر "مسؤولة عن منع دخول المساعدات الإنسانية والإغاثية إلى قطاع غزة من الجانب المصري لمعبر رفح".

وقال رشوان، في بيان، إن "كل المسئولين (الإسرائيليين)، وفي مقدمتهم رئيس الوزراء ووزير الدفاع ووزير الطاقة، أكدوا عشرات المرات في تصريحات علنية منذ بدء العدوان على غزة، أنهم لن يسمحوا بدخول المساعدات لقطاع غزة وخاصة الوقود، لأن هذا جزء من الحرب التي تشنها دولتهم على القطاع".

وأضاف أن (إسرائيل) "بعد كل هذه التصريحات، والتي لم تكن تعتبر هذا المنع والحصار جرائم حرب وإبادة جماعية بموجب القانون الدولي، عندما وجدت نفسها أمام محكمة العدل الدولية متهمة بأدلة موثقة، لجأت إلى إلقاء الاتهامات على مصر في محاولة للهروب من إدانتها المرجحة من جانب المحكمة".

وأكد أن "سيادة مصر تمتد فقط على الجانب المصري من معبر رفح، بينما يخضع الجانب الآخر منه في غزة لسلطة الاحتلال الفعلية، وهو ما تجلى فعليا في آلية دخول المساعدات من الجانب المصري إلى معبر كرم أبو سالم الذي يربط القطاع بالأراضي (الإسرائيلية)، حيث يتم تفتيشها من جانب الجيش (الإسرائيلي)، قبل السماح لها بدخول أراضي القطاع". (CNN بالعربية)

التعليق:

لعن الله الوطنية القطرية التي كرسها الاستعمار الغربي وصدقها المضبوعون بثقافته، الخاضعون لقوانينه الدولية التي لا تخدم إلا مصالحه، المتنصلون من أحكام رب البشر.

ها هو كيان يهود يحاول التنصل أمام محكمة "عدل" في الأرض! فماذا أنتم فاعلون عندما تقفون أمام محكمة العدل الإلهي؟!

جاء في وثيقة المدينة دستور الدولة الإسلامية: «هَذَا كِتَابٌ مِنْ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ، بَيْنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ مِنْ قُرَيْشٍ وَيَثْرِبَ، وَمَنْ تَبِعَهُمْ، فَلَحِقَ بِهِمْ، وَجَاهَدَ مَعَهُمْ، إنَّهُمْ أُمَّةٌ وَاحِدَةٌ مِنْ دُونِ النَّاسِ، وَإِنَّ ذِمَّةَ اللهِ وَاحِدَةٌ، يُجِيرُ عَلَيْهِمْ أَدْنَاهُمْ، وَإِنَّ الْمُؤْمِنِينَ بَعْضُهُمْ مَوَالِي بَعْضٍ دُونَ النَّاسِ، وَإِنَّ سِلْمَ الْمُؤْمِنِينَ وَاحِدَةٌ، لَا يُسَالَمُ مُؤْمِنٌ دُونَ مُؤْمِنٍ فِي قِتَالٍ فِي سَبِيلِ اللهِ».

فكل ما جئت به يا ضياء رشوان، ورغم أنه لا يرقى إلى الرد الرسمي الذي يعتمد دبلوماسيا، فإنه لن يفيدك ولن يفيد الحاكم وأعوانه في مصر أمام رب العالمين وقت السؤال والحساب عن كل قطرة دم أهرقت من مسلم وكل صرخة رضيع أو طفل جائع أو متألم لا يملك علاجا، لا يحول بين النظام في مصر وبين كل هؤلاء إلا خيانة متعمدة وخنوعٌ تمت هندسته بوضع اقتصادي، تعمّد القائمون عليه أن يكون شماعة يعلق عليها الخوف على انفراط سلام مزعوم مع كيان يهود.

رُبّ عذر أقبح من ذنب يا ضياء رشوان... ما أسهل على النساء عدم الالتزام بكلمتهن، إذ يكفيهن الاعتذار بكلمة واحدة: "زوجي منعني من ذلك"!

ولك أن تستنتج من هذا الموقف من هو الزوج ومن هي الزوجة المطيعة لزوجها!

ولو رضيت أنت ومن تدافع عنهم بهذا الدور فهل سيرضى به جيش مصر؟! أستثني طبعا المستفيدين من القيادات العليا الشركاء في الخيانة، أما المخلصون في جيش مصر وما أكثرهم فقد بدأت تصل إلى مسامع القاصي والداني، غمغمتهم كمقدمة للغليان الذي لن يمنعه حركة تنقلات ولا سجن ولا إقالات...

وبما أن الغمغمة نسمعها منهم ففي المقابل لا بد أن المخلصين في الجيش المصري يسمعون صراخ الأمة التي تستصرخ الجيوش: #أسقطوا_العروش_وحركوا_الجيوش

يا أمة الإسلام، ويا أهل القوة فيها: أسقطوا العروش وحركوا الجيوش، وانصروا دين الله بإقامته وتحكيمه!

يا أمة أحمد خير أمة أخرجت للناس: إن كيان يهود المتهالك الذي يبقيه في الأرض المباركة هم الحكام العملاء الذين يكبلونكم ويمنعونكم من تحرير بيت المقدس، فماذا أنتم فاعلون؟!

أما نحن في حزب التحرير فقد آلينا على أنفسنا أن نكون ممن يقع علينا عبء قيادة الأمة في التصدي لهؤلاء الحكام الرويبضات، وفي الصدع بكلمة الحق والدعوة إلى تطبيق شرع الله كاملا غير منقوص، وعلى رأس ذلك إحياء فريضة الجهاد ليس فقط لتحرير الأراضي المحتلة، وإنما لنشر الإسلام في العالم.

اللهم حقق لنا وعدك بالاستخلاف والتمكين والأمان، وهيئ لنا أهل قوة ينصروننا، ومكنا من تحرير بيت المقدس وتطهيره من رجس يهود الغاصبين.

﴿وَأُخْرَى تُحِبُّونَهَا نَصْرٌ مِّنَ اللهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

جمال علي

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست