مضايا.. الكاشفة الفاضحة لكذبة حقوق الإنسان
مضايا.. الكاشفة الفاضحة لكذبة حقوق الإنسان

الخبر:   ذكرت الجزيرة يوم الثلاثاء بتاريخ 2016/1/12 خبرا مفاده اكتمال وصول المساعدات الدولية إلى بلدة مضايا المحاصرة من قبل قوات النظام السوري وحزب الله في ريف دمشق، في الوقت الذي طالبت فيه الأمم المتحدة بإجلاء أربعمئة مريض من مستشفى مضايا يتهددهم الموت بسبب مضاعفات سوء التغذية.

0:00 0:00
Speed:
January 13, 2016

مضايا.. الكاشفة الفاضحة لكذبة حقوق الإنسان

مضايا.. الكاشفة الفاضحة لكذبة حقوق الإنسان

الخبر:

ذكرت الجزيرة يوم الثلاثاء بتاريخ 2016/1/12 خبرا مفاده اكتمال وصول المساعدات الدولية إلى بلدة مضايا المحاصرة من قبل قوات النظام السوري وحزب الله في ريف دمشق، في الوقت الذي طالبت فيه الأمم المتحدة بإجلاء أربعمئة مريض من مستشفى مضايا يتهددهم الموت بسبب مضاعفات سوء التغذية.

وقد وصلت 44 شاحنة مساعدات إلى مضايا المحاصرة من قبل قوات النظام وحزب الله بريف دمشق منذ سبعة شهور، كما أدخلت المساعدات المقررة بلدتي كفريا والفوعة بريف إدلب،

ومن جهته، أكد منسق الأمم المتحدة لشؤون المساعدات الإنسانية ستيفن أوبراين أن الدلائل على وجود مظاهر لمجاعة حادة في مضايا واضحة وموثقة، وأنها طالت سكانا من كل الأعمار.

وأضاف أوبراين، في تصريحات عقب جلسة لمجلس الأمن الدولي بحثت الوضع الإنساني في البلدة المحاصرة، أن أربعمئة مريض في أحد مستشفيات البلدة مهددون بالموت وأنهم بحاجة إلى إجلاء فوري.

وقال أيضا إن لديه تقارير مؤكدة تتعلق بمشاهد مروعة في مضايا وغيرها من المناطق المحاصرة في سوريا، مضيفا "علينا أن نضع الترتيبات لإجلاء المرضى"، وقال إنهم يواجهون خطرا بالغا وقد يفقدون حياتهم بسبب سوء التغذية أو بسبب مضاعفات طبية أخرى.

التعليق:

تنص اتفاقية جنيف الرابعة لعام 1949 بشأن حماية المدنيين في حالة الحروب على إقرار ترتيبات لنقل الجرحى والمرضى والعجزة والمسنين والأطفال والنساء من المناطق المطوقة والمحاصرة، وعلى ضرورة وصول أفراد الخدمات الطبية إلى هذه المناطق.. كما لا يجوز بأي حال من الأحوال الهجوم على المستشفيات المدنية المتخصصة بتقديم الرعاية للجرحى والمرضى.. كما أن المدنيين محميون بموجب هذه الاتفاقية فلا يجب الاعتداء على حياتهم وسلامتهم البدنية، أو أخذهم كرهائن، أو الاعتداء على كرامتهم الشخصية، أو انتهاك آدميتهم من تجويع وإذلال... بهدف تركيعهم وإخضاعهم لإملاءات المتسلط وتمرير مخططاته ولو على حساب البشر وحياتهم..

فبالرغم من الكم الهائل من الديباجات والمواد والمقررات الحقوقية، ما الذي يواجهه الإنسان في معظم أرجاء الدنيا إن لم يكن كلها؟! فبالرغم من كثرتها فهي أمام معاناة البشر والاضطهاد والقهر الذي يحيونه يوميا لا تساوي ثمن الحبر الذي استخدم في كتابتها، وكلها أصبحت عبارة عن كليشيهات توظفها الدول في تمرير مصالحها وتحقيق أهدافها، كما يلاحظ أن أكبر خرق لهذه الحقوق يأتي من قبل الدول العظمى والكبرى التي تدعي أنها حارسة لهذه الحقوق والراعية لها، فكيف يزعمون حقوق الإنسان ونحن ندفن كل ليلة بل كل ساعة وكل ثانية أكثر من ضحية قتلتها يد مجرمة لا تقر ولا تعترف بحق البشر في الحياة...

وبمناسبة رعايتكم لهذه الحقوق فكم من المرات وقفت هيئات أممكم المتحدة ومؤسساتكم الحقوقية صماء بكماء لا ترى ولا تسمع وكأنها شاهد زور تشهد بما لا ترى وتحجب أنظارها عما يُرى..

ألا تلعنون أنفسكم وقد أصبح البشر من أكثر المخلوقات تعرضا للاضطهاد والفناء والتشريد والتهجير القسري والمعاناة والموت جوعا..

نحن لا نستغرب موقفكم فلسنا بالخب ولا الخب يخدعنا فنعلم تماما أن أمريكا ومن يحذو حذوها في استهدافها للأمة الإسلامية مرتكزة على الشرعية الدولية وأداتها المتمثلة بالأمم المتحدة والمؤسسات التابعة لها التي تحرص على إشراكها في حملتها ضد الأمة الإسلامية، كما ترتكز على وسائل الإعلام في الترويج للشعارات البراقة وذلك بمعاونة الحكام العملاء التابعين ومن حولهم من النفعيين والمضبوعين، لقد رفعت أمريكا شعار حقوق الإنسان الذي له بريق أخاذ في عيون الكثيرين من المسلمين بسبب الظلم والبطش الواقع عليهم من حكامهم...

 كيف يزعمون حمايتهم للإنسانية وهم يصدرون الإرهاب ويدعمونه جهارا نهارا، ألا يأتمر طاغية الشام بأمرهم؟! أليس في بطشه وقتله المدنيين ينفذ أوامرهم ويتبع مخططاتهم؟! أليس أهل الشام ضحايا تآمر حكامنا معهم تثبيتا لمصالحهم؟ إذن كيف يقتلون ويجرحون وفي الوقت ذاته يدعون الإنسانية واحترام الآدمية؟!

إن مضايا ومحنة المسلمين في الشام ليست الأولى في كشف افتراءاتكم وادعاءاتكم في الحرص والخوف على المسلمين وتقديم يد العون والمساعدة والإسراع في رفع الظلم عنهم، بل سبقتهم في ذلك محنة أهل فلسطين والعراق وبورما، فكان إبداء القلق من مبعوثيكم والشجب والتنديد أقصى ما قامت به مؤسساتكم وقدمته للمضطهدين من أهل تلك البلاد..

إن المسلمين في الشام لن يركعهم الجوع ولا الحصار، ولن يفتك بإرادتهم إجرام النظام ولا تحالف قوى الشر عليه، وما طلبهم برفع الحصار وإغاثة المرضى والجوعى إلا حق لهم كفلته الشرعية الظالمة في حالة الحروب، فلم لا تضطلع هذه المؤسسات بدورها وتقوم بحماية المدنيين ورفع الظلم والقهر عن كاهلهم؟!

وأخيرا نحن نعلم تماما موقف العالم الكافر من الإسلام والمسلمين، ونعلم حربه المعلنة على الإسلام وعلى أهله، وخوفه ورعبه من عودته ووقوفه شامخا من جديد يعتلي الصدارة بين الأمم، ولكن المخزي والمعيب هو موقف أنظمة وحكومات بلاد الإسلام مما يتعرض له المسلمون في الشام من قتل وتشريد وتجويع وتركيع قسري؟!

إن أهل الشام لا يحتاجون للغذاء ولا للدواء بقدر حاجتهم للإغاثة العسكرية، بحاجة لإنهاء معاناتهم وليس لإطعامهم، بحاجة لإحيائهم وليس لدفنهم، فهل ننتظر موتهم لنقيم لهم الجنائز وندفنهم أم نسرع بإغاثتهم ونجدتهم وتخليصهم من هذا المجرم الذي يفتك بهم منذ سنوات.. أين جيوشكم؟ أين أسلحتكم وطائراتكم؟ فطعامكم لم يعد ينفعهم!! وقلقكم لا يزيل معاناتهم ولا يضمد جراحهم...

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

رائدة محمد

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست