مفتي داغستان يعبد الطاغوت (مترجم)
مفتي داغستان يعبد الطاغوت (مترجم)

الخبر:   في 16 آذار/ مارس، قام مفتي جمهورية داغستان، الشيخ أحمد أفندي، بالتحدث إلى أبناء رعية مسجد الجمعة المركزي في ماخاشكالا خلال خطبة الجمعة، وفي خطابه، تطرق أحمد أفندي إلى الانتخابات الرئاسية المقبلة في الاتحاد الروسي ودعا المسلمين للمشاركة في الانتخابات قائلا: "بعض الناس يقولون إنهم لن يذهبوا للانتخاب. أعتبر هذا رأيا خاطئًا، لأن روسيا، حيث يعيش 25 مليون مسلم، من الخطأ القول إنه لا يهم من سيكون رئيسًا للبلاد. يجب أن نقلق بشأن ما سيكون عليه رئيس بلدنا، وما سيكون عليه مستقبلنا، ونرى في روسيا، داخل البلاد، كيف أن المسلمين يشعرون بأنهم مواطنون كاملون، نرى ذلك والشكر للسياسة الصحيحة في قيادة البلاد. ولننظر إلى ما يحدث في العالم، في سوريا على سبيل المثال، وها هي روسيا تقف لدعم المسلمين.

0:00 0:00
Speed:
March 25, 2018

مفتي داغستان يعبد الطاغوت (مترجم)

مفتي داغستان يعبد الطاغوت

(مترجم)

الخبر:

في 16 آذار/ مارس، قام مفتي جمهورية داغستان، الشيخ أحمد أفندي، بالتحدث إلى أبناء رعية مسجد الجمعة المركزي في ماخاشكالا خلال خطبة الجمعة، وفي خطابه، تطرق أحمد أفندي إلى الانتخابات الرئاسية المقبلة في الاتحاد الروسي ودعا المسلمين للمشاركة في الانتخابات قائلا:

"بعض الناس يقولون إنهم لن يذهبوا للانتخاب. أعتبر هذا رأيا خاطئًا، لأن روسيا، حيث يعيش 25 مليون مسلم، من الخطأ القول إنه لا يهم من سيكون رئيسًا للبلاد. يجب أن نقلق بشأن ما سيكون عليه رئيس بلدنا، وما سيكون عليه مستقبلنا، ونرى في روسيا، داخل البلاد، كيف أن المسلمين يشعرون بأنهم مواطنون كاملون، نرى ذلك والشكر للسياسة الصحيحة في قيادة البلاد. ولننظر إلى ما يحدث في العالم، في سوريا على سبيل المثال، وها هي روسيا تقف لدعم المسلمين.

أدعو المسلمين جميعا للمشاركة في الانتخاب والتصويت لمن يريدونه أن ينوب عنهم، من تريدون رؤيته رئيسا لبلادنا، على سبيل المثال، خلال الحرب الوطنية العظمى، لم نلتفت إلى الجنسية والخلافات. خرج الجميع ودافعوا عن وطنهم الأم، وفي عام 1999، أظهرنا الوحدة عندما أرادوا من الخارج فرض إسلام جديد علينا، قلنا لهم بأننا لسنا بحاجة إلى هذا الإسلام "المستورد" وأظهرنا أننا شعب واحد على وطن واحد، لم يكن لدينا شيء لتقسيمه.

في عام 2012، سمع معظمكم ما كان يقوله الشيخ سعيد أفندي في المجلس، لذلك أنا لا أشجعكم على التصويت لشخص ما، أنا أحثكم على المجيء إلى مراكز الاقتراع والتصويت لمن تريدونه، وإذا ما كنتم تتساءلون: - من أختار؟ لمن أصوت؟ - أنا سأصوت لصالح الشخص الذي صوّت له سعيد أفندي، أسأل الله أن يكون مستقبل روسيا مباركا للغاية، وأن الإسلام وقيمه ستنتشر في جميع أنحاء روسيا والعالم، بفضل الدولة القوية والمزدهرة والقوية – روسيا".

التعليق:

كل هذا يقال بلسان رجل على رأس مسلمي داغستان، هذا الشخص وافق، في اجتماع للمسلمين، على زواج امرأة مسلمة بنصراني، وتمنى لو كان هناك مزيد من حالات الزواج هذه في البلاد. هذا هو الرجل الذي ترشحت زوجته للانتخابات الرئاسية في روسيا عام 2018! وهو الشخص ذاته الذي جاء للتصويت مع زوجته، حيث صوت هناك وقام بالدعاء!

إننا نعلم أن هذا الشخص تم تعيينه في هذا المنصب من قبل السلطات في الكرملين، وذلك من أجل أن يلبس على مسلمي داغستان دينهم، ومن أجل سلخ المسلمين في البلاد عن دينهم، ومن أجل قمع الدعوة الإسلامية ووقف إحياء القيم والمفاهيم الإسلامية بين الناس، والتي بدورها ستكون أساسا لإحياء دولة الخلافة الراشدة الثانية.

إذا ما سألت أي مسلم لديه قليل معرفة في أمور دينه، حول ما إذا كان سيرضى تزويج ابنته من غير المسلم، فإن جوابه سيكون – لا؛ فقد قرأ المسلمون القرآن، وعلموا أن الله عز وجل حرم زواج النساء المسلمات وبشكل صريح من غير المسلمين، يقول الله تعالى: ﴿فَإِنْ عَلِمْتُمُوهُنَّ مُؤْمِنَاتٍ فَلَا تَرْجِعُوهُنَّ إِلَى الْكُفَّارِ لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّونَ لَهُنَّ﴾.

أما بالنسبة لحقيقة أن زوجته كانت تسعى لخوض الانتخابات الرئاسية للاتحاد الروسي. فأي عار للرجل هذا، وهو الذي يجلس صامتا، وزوجته تعلن على الملأ أنها تريد أن تحكم البلاد ورجال البلاد؟! أين هي كرامة هذا الرجل؟! إن الشريعة الإسلامية تحرم على المرأة أن تكون حاكما، والنبي محمد r نهى عن تولي المرأة للحكم، روى الإمام البخاري عن أبي بكرة رضي الله عنه أنه قال: لما بلغ النبي r أن فارسا ملكوا ابنة كسرى قال: «لن يفلح قوم ولوا أمرهم امرأة».

دعوة المسلمين إلى التصويت في الانتخابات الطاغوت، بل وأكثر من ذلك مطالبته التصويت لكفار، ألا يعرف هذا الشخص بأن هذا أمر متعلق بالحكم والحاكمية.. وأن الله صرح بحرمة أن يكون الحاكم كافرا ﴿وَلَن يَجْعَلَ اللّهُ لِلْكَافِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلاً﴾؟!

إن التعبير في الآية بـ "لن"، يشير إلى المنع الكامل والمستمر، وهو قرينة على التحريم الجازم لحكم الكافر للمسلمين، وقد أمرنا الله سبحانه وتعالى بالحكم على أساس الوحي الإلهي، يقول تعالى: ﴿وَأَنِ احْكُم بَيْنَهُم بِمَآ أَنزَلَ اللّهُ وَلاَ تَتَّبِعْ أَهْوَاءهُمْ وَاحْذَرْهُمْ أَن يَفْتِنُوكَ عَن بَعْضِ مَا أَنزَلَ اللّهُ إِلَيْكَ

يا مسلمي داغستان! إن هذا المفتي المدعوم من الكرملين، والذي باع آخرته بصَغار تافه، ويدعوكم إلى ما يهلككم، لن تحل مشاكلنا إذا ما استمعنا لهؤلاء الأئمة الفاسدين وأتباعهم! إن مشاكل مسلمي داغستان والمناطق الأخرى من روسيا ستتفاقم بسبب أمثال عبدة الطاغوت هؤلاء الذين يدعون إلى معصية الله سبحانه وتعالى!

منذ إقامة الدولة الإسلامية الأولى على يد نبينا الحبيب محمد r في المدينة المنورة المباركة، وحتى آخر حاكم للمسلمين في إسطنبول، لم ينتخب المسلمون كافرا قط ولم يولوا عليهم امرأة، وفوق ذلك لم يوافقوا على فكرة أن يُحكم المسلمون بالطاغوت!

اليوم، عندما أصبح العالم في أجزاء كثيرة منه تتحدث شعوبه عن إحياء دولة الخلافة الراشدة الثانية، وعندما ارتفعت رايات الإسلام مرة أخرى في أجزاء كثيرة من الأرض، يبذل المستعمرون الكافرون، مع مساعدة أمثال هؤلاء الأئمة الفاسدين، قصارى جهدهم لإطفاء نور الدعوة لعودة الحياة الإسلامية.

يا مسلمي داغستان! انضموا لحزب التحرير، الذي لا يخدم المستعمر الكافر ولا يستمسك بالطغاة والخونة، والذي يكشف مؤامرات الكفار للغدر بالإسلام والمسلمين! سارعوا للانضمام إلى حزب التحرير، الذي يعمل لإقامة دولة الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة، نسأل الله العون.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

إلدر خمزين

عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست