مغتصبو الحرمين الشريفين والبلاد الإسلامية العلمانيون جعلوا الحج استثمارا رأسماليا باهظ التكلفة
مغتصبو الحرمين الشريفين والبلاد الإسلامية العلمانيون جعلوا الحج استثمارا رأسماليا باهظ التكلفة

الخبر:   تكافح بنغلادش للوفاء بحصتها من الحج في ظل فقدان العملة المحلية قيمتها، كما أن الارتفاع الشديد في أسعار تذاكر السفر هذا الموسم يجعل رحلة الحج مستحيلة للعديد من الحجاج المتفائلين. ويمكن في هذا العام لـ127,000 حاج بنغالي المشاركة في الحج، وهي الرحلة الروحية وأحد أركان الإسلام الخمسة. واتفقت حكومتا السعودية وبنغلادش على الحصة في وقت سابق من هذا العام. وتم فتح التسجيل للحج في 8 شباط/فبراير، ولكن حتى الآن تقدّم 32,000 شخص فقط بطلبات للحج. وتقول السلطات إن الوضع غير مسبوق. (عرب نيوز)

0:00 0:00
Speed:
March 06, 2023

مغتصبو الحرمين الشريفين والبلاد الإسلامية العلمانيون جعلوا الحج استثمارا رأسماليا باهظ التكلفة

مغتصبو الحرمين الشريفين والبلاد الإسلامية العلمانيون

جعلوا الحج استثمارا رأسماليا باهظ التكلفة

الخبر:

تكافح بنغلادش للوفاء بحصتها من الحج في ظل فقدان العملة المحلية قيمتها، كما أن الارتفاع الشديد في أسعار تذاكر السفر هذا الموسم يجعل رحلة الحج مستحيلة للعديد من الحجاج المتفائلين. ويمكن في هذا العام لـ127,000 حاج بنغالي المشاركة في الحج، وهي الرحلة الروحية وأحد أركان الإسلام الخمسة. واتفقت حكومتا السعودية وبنغلادش على الحصة في وقت سابق من هذا العام. وتم فتح التسجيل للحج في 8 شباط/فبراير، ولكن حتى الآن تقدّم 32,000 شخص فقط بطلبات للحج. وتقول السلطات إن الوضع غير مسبوق. (عرب نيوز)

التعليق:

زادت تكلفة حزمة الحج بنسبة 30٪ تقريباً في عام واحد لتصل إلى 683018 تاكا، وعلى الرغم من أنه يقال إن السبب الرئيسي لهذه الزيادة هو انخفاض قيمة العملة، إلا أن الفرق في الصرف هو فقط 17٪. بمعنى أنه يجب أن يكون هناك سبب آخر أعظم من سعر الصرف، وهو أنه يجب على الحاج أن يدفع أكثر من ثلاثة أضعاف ما يدفعه المسافر العادي. ومن هذا المنطلق، ستكسب شركتا الطيران المملوكتان للحكومة في البلدين 17.52 مليار تاكا إضافية من مسافري الحج في بنغلادش. كما تقوم السعودية بجمع الأموال من كل حاج مقابل إقامتهم في منى وعرفة ومزدلفة وهو ما يسمى بالرسوم المعلومة. وقد وصلت الرسوم هذا العام إلى 160,630 تاكا، وهي أعلى بنسبة 162٪ من رسوم العام الماضي. وتقوم الحكومة بجني 89,000 تاكا من ضريبة القيمة المضافة من كل حاج بنغالي، وعلى هذا النحو، فإن إجمالي دخل حكومة بنغلادش فقط من ضريبة القيمة المضافة من الحجاج سيكون حوالي 11.32 مليار تاكا، لذلك من الواضح أن حكومتي البلدين تستخدمان الحجاج كوسيلة لجني الثروات الهائلة.

يقول الله تعالى: ﴿وَأَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالاً وَعَلَى كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ﴾، لذلك من واجب حكام المسلمين وخدّام الحرمين الشريفين أن يبذلوا قصارى جهدهم للتسهيل على المسلمين حجهم. ولكن ليس من المستغرب أن نرى هذه الحكومات الرأسمالية العلمانية تتخلى عن هذا الواجب بل واغتنامها فرصة لتعظيم أرباحها. وبما أن العلمانية تتجاهل الثواب والعقاب في الآخرة على أفعالهم في هذه الحياة الدنيا، فإن حكوماتها أيضاً لا تستطيع الترفيه عن الحجاج من أجل تحقيق القيم الروحية. وبالنسبة لهم، فإن الدوافع الروحية عند المسلمين هي فرصة لهم يمكنهم الاستفادة منها بشكل جيد من خلال زيادة أسعار الخدمات بناءً على الطلب المتزايد المتوقع في فترة ما بعد فيروس كورونا. ومن الواضح أن العلمانية جعلتهم عميان التفكير لدرجة أنهم وصلوا إلى الاستيلاء على بيت الله الحرام والمسجد النبوي الشريف ومنى وعرفة ومزدلفة لتعظيم أرباحهم كما لو كانت مجرد أماكن سياحية، وضيوف الله الكرام مجرد سائحين!

ومن ناحية أخرى، وفي حين إن الخلفاء كانوا أمناء على الحرمين الشريفين، فقد كانوا يخافون الله في الحجاج، وكانوا يجعلون رحلة الحج سهلة وميسورة وبأسعار معقولة قدر الإمكان. وإحدى هذه المبادرات البارزة كانت طريق زبيدة، التي شقها الخليفة العباسي هارون الرشيد وسماها على اسم زوجته. فقد كان طريقاً سريعاً حديثاً يمتد من مكة إلى الكوفة وبغداد في العراق. وأقامت نظام اتصالات يربط الحرمين الشريفين بأفريقيا والصين. وقاموا ببناء العديد من أماكن الراحة على الطريق السريع لتقديم الطعام والشراب والإقامة مجاناً للمسافرين. وتم الحفاظ على تقديم خدماتها على مدار العام تكريما للحجاج. فكانت هذه الطرق والخدمات سببا في تزايد عدد الحجاج بشكل كبير. وبطبيعة الحال، فقد تم تحقيق تنمية اقتصادية هائلة في البلاد الإسلامية حول هذا الطريق السريع. وكان طريق زبيدة عظيما وتاريخياً لدرجة أن اليونسكو لم تستطع إلا أن تعتبره تراثا عالميا. ومشروع آخر من هذا القبيل هو سكة حديد الحجاز للخليفة العثماني عبد الحميد، والتي كان من المفترض أن تنقل الحجاج من إسطنبول إلى مكة في غضون خمسة أيام فقط. ومع ذلك، أوقفت المؤامرة البريطانية تكملة بنائها.

اللهم خلّص الحرمين الشريفين من هؤلاء الحكام العلمانيين العملاء، وانصرنا لإقامة الخلافة ومبايعة الخليفة الراشد الذي يحفظ على المسلمين حجهم، ويعيد للحرمين الشريفين حرمتهما!

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

طلحة محمد

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية بنغلادش

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست