محادثات السلام، استمرار خطر لعبة أمريكا في أفغانستان
محادثات السلام، استمرار خطر لعبة أمريكا في أفغانستان

الخبر:   يوم الثلاثاء، 3 آذار/مارس، أجرى دونالد ترامب، بحضور زلماي خليل زاد، مكالمة هاتفية مع الملا عبد الغني برادار، الممثل السياسي لحركة طالبان. وأكدت حركة طالبان في بيان لها أن المكالمة كانت تحاول بشكل أساسي مناقشة قضايا مثل "الحد من العنف" و"المفاوضات بين الأفغان". وأكد ترامب في وقت لاحق هذه المكالمة للصحفيين في البيت الأبيض، وقال إنه أجرى "محادثة جيدة" مع الملا برادار. وفي تصريح لاحق تم تأكيد أن ترامب أخبر الملا بارادار أن وزير الخارجية الأمريكي مايك بومبيو سيلتقي قريباً بالرئيس الأفغاني أشرف غاني حتى تتم إزالة الحواجز التي تعترض المحادثات بين الأفغان. إلى جانب ذلك، حث الملا بارادار دونالد ترامب على اتخاذ خطوات حازمة في سحب القوات الأجنبية من أفغانستان، لبناء علاقات إيجابية مع الأفغان في المستقبل، ولمنع أي شخص إذا حاول انتهاك شروط الاتفاقية الموقعة وإشراك أمريكا بشكل أكبر في هذه الحرب الطويلة. (صحيفة أتلات روز اليومية).

0:00 0:00
Speed:
March 08, 2020

محادثات السلام، استمرار خطر لعبة أمريكا في أفغانستان

محادثات السلام، استمرار خطر لعبة أمريكا في أفغانستان

(مترجم)

الخبر:

يوم الثلاثاء، 3 آذار/مارس، أجرى دونالد ترامب، بحضور زلماي خليل زاد، مكالمة هاتفية مع الملا عبد الغني برادار، الممثل السياسي لحركة طالبان. وأكدت حركة طالبان في بيان لها أن المكالمة كانت تحاول بشكل أساسي مناقشة قضايا مثل "الحد من العنف" و"المفاوضات بين الأفغان". وأكد ترامب في وقت لاحق هذه المكالمة للصحفيين في البيت الأبيض، وقال إنه أجرى "محادثة جيدة" مع الملا برادار. وفي تصريح لاحق تم تأكيد أن ترامب أخبر الملا بارادار أن وزير الخارجية الأمريكي مايك بومبيو سيلتقي قريباً بالرئيس الأفغاني أشرف غاني حتى تتم إزالة الحواجز التي تعترض المحادثات بين الأفغان. إلى جانب ذلك، حث الملا بارادار دونالد ترامب على اتخاذ خطوات حازمة في سحب القوات الأجنبية من أفغانستان، لبناء علاقات إيجابية مع الأفغان في المستقبل، ولمنع أي شخص إذا حاول انتهاك شروط الاتفاقية الموقعة وإشراك أمريكا بشكل أكبر في هذه الحرب الطويلة. (صحيفة أتلات روز اليومية).

التعليق:

عانت الولايات المتحدة من هزيمة كبرى في منطقة القتال في أفغانستان، والتي جعلت من المستحيل تقريباً على أي من رؤساء أمريكا تقديم المزيد من الأعذار الوهمية للرأي العام الأمريكي بعد الآن. وهكذا، بدأت الولايات المتحدة محادثات السلام مع طالبان للإعلان عن نهاية أطول حرب لها في التاريخ. أما الآن، فقد تمكنت أمريكا من تحقيق أشياء من خلال اتفاق السلام هذا على طاولة المفاوضات والتي كانت مستحيلة التحقق من خلال الحرب في ساحة المعركة. وبالتالي، بعد توقيع الاتفاقية مع طالبان، لن تحاول أمريكا فقط التظاهر كما لو أنها تفي بجميع الشروط والالتزامات الواردة في الاتفاقية ولكنها ستظهر أيضاً وكأنها ملتزمة بالشروط. بينما يمكن للمرء أن يرى بوضوح كيف انتهكوا الشروط يوم الأربعاء، 4 آذار/مارس، 2020 بعد أيام قليلة فقط من توقيع اتفاق السلام. وكما قال سوني ليجيت، المتحدث باسم القوات الأمريكية في أفغانستان "نفذت الولايات المتحدة ضربة جوية في 4 آذار/مارس ضد مقاتلي طالبان في منطقة نهر السراح بإقليم هلمند حيث كانوا يهاجمون بنشاط نقطة تفتيش تابعة لقوات الدفاع والأمن الوطنية الأفغانية".

في هذه الأثناء، بدأت اللعبة السياسية القذرة للولايات المتحدة مع جماعة طالبان من جديد حيث يبدو واضحاً في موقف رفض أشرف غاني إطلاق سراح 5000 سجين من طالبان بالإضافة إلى تحدي دعم باكستان للجماعة.

لتشغيل هذه اللعبة الفوضوية، ففي أعقاب مقاطعة وفضيحة انتخابات عام 2019 الرئاسية، تلقى أشرف غاني الضوء الأخضر من أمريكا باعتباره الفائز المعلن من أجل دفع حركة طالبان نحو الأسفل وتقليصها تدريجياً من موقفها السابق. وكبديل لذلك، ضاعفت كيانات المجتمع المدني والناشطات في مجال حقوق المرأة ومنظمات حقوق الإنسان جهودها للضغط على طالبان في المفاوضات الأفغانية عن طريق رفع صوتها من أجل حقوق المرأة وحرياتها.

تم الكشف عن الجانب الآخر من هذه اللعبة القذرة من خلال تصريحات وزير الخارجية، مايك بومبيو، الذي تحدث عن التزامات طالبان السرية مع الولايات المتحدة فيما وصفه بالملحقات السرية. يمكن أن تؤدي هذه التصريحات أيضاً إلى حدوث صدوع وانعدام ثقة واسع النطاق بين صفوف طالبان، مما يجعل من الصعب للغاية على قيادة طالبان معالجة هذه القضايا في ظل هذه الظروف الفوضوية.

البعد الآخر لهذه اللعبة القذرة هو إدارة وقف إطلاق النار مع قوات الاحتلال الأمريكي مع استمرار الحرب مع القوات الأفغانية، والتي سوف تقوض بشكل غير مسبوق شعبية طالبان في نظر الجمهور. بالإضافة إلى ذلك، فإن المرحلة الأكثر تحديا في ما يسمى محادثات السلام هي حول كيفية نجاح المفاوضات بين الأفغان في حين إن المتلاعب الرئيسي في هذه العملية هي سفارات الاحتلال نفسه. رغم أنهم يحاولون جعل الأفغان يتحملون مسؤوليتهم التاريخية في هذه اللعبة القذرة أيضاً.

ومع ذلك، فإن حركة طالبان تسلك الطريق الوعر نحو السلام الأمريكي. لأن طالبان إما أنها لم تفهم الواقع - فشل الولايات المتحدة في أفغانستان وعدم امتثالها للمعاهدات الدولية - أو أنها لم تفهم اللغة الأمريكية، وهي لغة دبلوماسية للربحية والبراغماتية. ونتيجة لذلك، فقد وقعوا للأسف في فخ أمريكا التي عُرضت أمورها الأساسية فيما يلي:

أ‌)    يجب على طالبان أن ترفض شن هجمات على القوات الأمريكية وحلفائها وتأمين المصالح الأمريكية في أفغانستان والعالم.

ب‌)  يجب على طالبان قطع العلاقات مع الجهاديين الدوليين في أفغانستان.

ج) يجب أن تعترف طالبان بالحوار مع الحكومة العميلة في كابول وجميع الفصائل التي يتم تغذيتها بالقيم الأمريكية والغربية على مدار 19 عاماً.

د) يجب أن تقبل طالبان جميع القوانين والمعايير الدولية، وأن تحترم في نهاية المطاف نموذج الدولة القومية.

بقبولها للشروط المذكورة أعلاه، يبدو أن طالبان قد تخلت عن الجهاد وعن انتماءاتها الأيديولوجية الدولية مع الجماعات الجهادية، وأكدت من جديد سقوطها في هوة نظام الدولة القومية في ظل النظام الدولي الحالي بقيادة الولايات المتحدة. أما الآن، فمن واجب المجاهدين المسلمين والأفغان إدراك الأبعاد المختلفة لهذه اللعبة الأمريكية القذرة، والضغط على السياسيين الأفغان والقادة المؤثرين وطالبان لإيقاف هذا السيناريو على الفور وإنهاء الغرور الأمريكي بدلاً من دعم هذه العملية الأمريكية. في الواقع، لن تنتهي الحرب الأفغانية بمجرد توقيع الاتفاقات لأن مشكلة أفغانستان ليست مشكلة داخلية، بل مشكلة إقليمية وعالمية. لن يتم حل هذه المعضلة حتى يتحد المسلمون تحت مظلة واحدة ويقيموا دولة الخلافة الراشدة الثانية. نسأل الله سبحانه وتعالى أن يعزنا بالنصر والتمكين وأن يوحد المسلمين تحت راية الخلافة التي ستحميهم من خداع الكفار والمنافقين. نسأل الله أن لا ينتهي هذا العام إلا ودولة الخلافة تظلنا، محتفلين بنصرنا في شهر رجب العام المقبل.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

سيف الله مستنير

رئيس المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية أفغانستان

#أفغانستان
Afghanistan#
Afganistan#

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست