محاكمة مبنية على الأخطاء
محاكمة مبنية على الأخطاء

الخبر:   أُبلغت محكمة إسلام آباد العليا يوم الجمعة أن الرئيس الأمريكي السابق جو بايدن رفض التماس العفو الذي تقدمت به الدكتورة عافية صديقي. وصرح القاضي سردار إعجاز قائلاً: "إن الولايات المتحدة تظهر لنا قيمتنا". كما انتقد القاضي الإدارة الأمريكية، وقارن بين عفو ​​بايدن عن عقوبة ابنه ورفضه العفو عن الدكتورة عافية، وهي سيدة باكستانية.

0:00 0:00
Speed:
January 28, 2025

محاكمة مبنية على الأخطاء

محاكمة مبنية على الأخطاء

(مترجم)

الخبر:

أُبلغت محكمة إسلام آباد العليا يوم الجمعة أن الرئيس الأمريكي السابق جو بايدن رفض التماس العفو الذي تقدمت به الدكتورة عافية صديقي. وصرح القاضي سردار إعجاز قائلاً: "إن الولايات المتحدة تظهر لنا قيمتنا". كما انتقد القاضي الإدارة الأمريكية، وقارن بين عفو ​​بايدن عن عقوبة ابنه ورفضه العفو عن الدكتورة عافية، وهي سيدة باكستانية.

التعليق:

كانت السيدة المعروفة باسم "سيدة القاعدة" أو "سيدة باغرام الرمادية"، الضحية الرمزية للوحشية الأمريكية، تبلغ من العمر 36 عاماً فقط، عندما اختطفتها وكالة الاستخبارات الباكستانية مع أطفالها الثلاثة عام 2003، وسلمتها إلى وكالة الاستخبارات المركزية الأمريكية، التي نقلتها إلى قاعدة باغرام الجوية في أفغانستان. اعتقلت الدكتورة عافية رسمياً في أفغانستان عام 2008، وقيل إنه كان بحوزتها مادة السيانيد ووثائق تشير إلى معالم أمريكية. وأثناء الاستجواب، زُعم أنها أمسكت ببندقية ضابط أمريكي وفتحت النار، وهو الفعل الذي أدى إلى إطلاق النار عليها. وفي عام 2010، أدينت وحُكم عليها بالسجن لمدة 86 عاماً.

وقد احتج شعب باكستان والمسلمون في جميع أنحاء العالم وطالبوا بالإفراج عنها، وأملوا في كل مناسبة أن تستغل الحكومة الباكستانية ذلك لإطلاق سراحها من براثن الأمريكيين، ولكن دون جدوى. لقد أصبحت الدكتورة عافية صديقي رمزاً لأمور كثيرة، وذلك بحسب وجهة النظر التي ترى قضيتها، بدءاً من الفشل الإنساني، وحرمانها من العدالة، إلى الجشع والخداع، وفي حالتها هي التي تقف شامخة، وكل العيون عليها. لقد تمسكت بإيمانها بالله في حين عانت من كل الآلام والإهانات التي لحقت بها. ولا بد أن يعلم المارة الصامتون أن كل ما تمر به ليس مجرد اختبار لها فحسب، بل هو اختبار لهم أيضاً. وإذا نظرنا عن كثب إلى تسلسل الأحداث، فسوف نجد أن خداع وجشع النظام الباكستاني كانا الخطوة الأولى نحو المسار الطويل والمستمر من الأهوال، التي لم تؤثر على حياتها فحسب، بل كان لها تأثير شديد على حياة أطفالها وأسرتها أيضاً.

إن المحاولة الأخيرة لإطلاق سراحها من خلال العفو الرئاسي كانت واحدة من العديد من المحاولات التي تمت من خلال الطرق الأمريكية. وحتى لو أطلقنا سراحها من خلال إحدى هذه الوسائل، فلن نعتبر ذلك عدالة. إن العدالة لعافية ستكون عندما يحصل كل عنصر مساهم، على العقوبة على فعله. بالتأكيد نحن المسلمين نؤمن بيوم القيامة، عندما تنصب الموازين، ولكننا نؤمن أيضاً بأن الله سبحانه وتعالى قد قدس الأرواح البشرية، وأخبرنا خاتم الأنبياء محمد ﷺ بأن حرمة دم المسلم أعظم عند الله من هدم الكعبة.

عندما اعتُدي على عرض امرأة من المدينة، اعتبر ذلك خرقاً للعهد بين المسلمين واليهود. لم يتم تعيين أي دبلوماسيين للبحث عن حل، بل تم اتخاذ إجراءات سريعة. وبالتالي لم تصبح المرأة قصة، ولكن القبيلة التي خلقت المشاكل أصبحت مثالاً وعبرة للآخرين.

لدينا في التاريخ مثال لأخت مسلمة تعرضت للهجوم في مدينة رومانية، حيث تم الاعتداء عليها وسجنها دون سبب. خائفة ووحيدة نادت باسم الخليفة "وا معتصماه"، وقد شهد رجل هذه الحادثة فهرع إلى الخليفة وأخبره بما حدث، وعندما سمع بمحنة هذه المرأة رد بشجاعة "لبيك"، ثم جهز جيشا كبيرا لإنقاذ المرأة، فهزم العدو وحرر المرأة المسلمة من خاطفيها. لا أحد يعرف اسم المرأة، لكن اسم المحرر يتلألأ في فصول التاريخ. قال النبي ﷺ: «كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالأَمِيرُ رَاعٍ».

إن اختطاف الدكتورة عافية صديقي وسجنها ومحاكمتها وإصدار الحكم عليها كل ذلك من نتاج النمط الغربي في الحكم، الذي يسهل عليهم إبقاء دول العالم الثالث تحت سيطرتهم، وخاصة تلك الموجودة في البلاد الإسلامية. إن توقع أي نوع من الإغاثة من هذا النظام هو السذاجة بعينها. إن إطلاق سراح عافية وتحقيق العدالة لها لن يكون إلا بتطبيق الشريعة الإسلامية. إن إخراجها من ذلك السجن وإعادتها إلى أسرتها التي لم ترها منذ 21 عاماً ليس عدالة. لقد أصر المعتصم بالله على أن يكون موجودا وقت إطلاق سراح المرأة المسلمة التي استغاثت به وعندما رآها مندهشة قال "قد سمعتك"، بينما في حالة عافية لم يحضر السفير الباكستاني في الولايات المتحدة أي اجتماعات بخصوص قضية الدكتورة عافية.

لقد تم أخذ الدكتورة عافية بالقوة والخيانة وما لم نسحق الرأس الخائن فلن نتمكن من استخدام قوة قواتنا بالمعنى الحقيقي، وسيستمرون في خدمة المصالح الغربية لتحقيق مكاسب دنيوية.

إن مؤشر جي إف بي (Global Fire Index) يشير إلى أن باكستان من بين أكبر 15 قوة عسكرية عالمية. وبشكل عام، تعد باكستان قوة عسكرية عالمية من الدرجة الأولى في المسرح الآسيوي بجيش بري ضخم قادر على الردع والعمليات الهجومية المستمرة. كما تتميز باكستان بأكبر سابع أسطول دبابات في العالم إلى جانب سابع أكبر قوة جوية على مستوى العالم. وبما أن باكستان شاركت بنشاط في "حرب أمريكا على الإرهاب"، فبرغم هذه التدابير المبهرة والمثيرة للإعجاب، فإن القادة العسكريين الباكستانيين يظلون متواطئين عندما يتعلق الأمر بشعبهم، ويتصرفون فقط ككلاب حراسة للقوى الغربية. إن الشعب، بما في ذلك الجنود الباكستانيين، لم يعد مستعداً للخداع في حرب بالوكالة. لقد آن الأوان ليتعرفوا على العدو الحقيقي ومحاربته. إن السلامة الوحيدة للمرأة المسلمة لن تكون إلا تحت حكم الحاكم المسلم الذي يخاف الله ويطيعه، والذي يطبق أوامر الله سبحانه وتعالى ويقاتل من أجل نشر الإسلام. إن سجون الكفار وخدمهم المطيعين في البلاد الإسلامية تحمل قصصاً ثقيلة جداً على القلوب التي تخاف الله. إن قيام الخلافة على منهاج النبوة ستخلق قصصاً تبث الرعب في قلوب أعداء الله، وتجلب السلام إلى أمة محمد ﷺ.

﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنَافِقِينَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ وَمَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

إخلاق جيهان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست