محاذير ما بعد السيطرة على كابول
محاذير ما بعد السيطرة على كابول

الخبر:   عقد مدير وكالة المخابرات المركزية وليام بيرنز اجتماعاً سرياً في أفغانستان يوم الاثنين مع زعيم طالبان الفعلي عبد الغني برادار، وهو أعلى لقاء دبلوماسي منذ أن أطاحت الجماعة المسلحة بالحكومة في كابول، وكان الرئيس بايدن قد أرسل كبير الجواسيس للولايات المتحدة للقاء برادار في كابول يوم الاثنين في الوقت الذي تواصل فيه الإدارة جهودها لإجلاء المواطنين الأمريكيين والحلفاء وسط الفوضى في مطار العاصمة التي سقطت؛ حسبما صرّح مسؤولون أمريكيون لصحيفة واشنطن بوست شريطة عدم الكشف عن هويتهم، ...

0:00 0:00
Speed:
August 25, 2021

محاذير ما بعد السيطرة على كابول

محاذير ما بعد السيطرة على كابول

الخبر:

عقد مدير وكالة المخابرات المركزية وليام بيرنز اجتماعاً سرياً في أفغانستان يوم الاثنين مع زعيم طالبان الفعلي عبد الغني برادار، وهو أعلى لقاء دبلوماسي منذ أن أطاحت الجماعة المسلحة بالحكومة في كابول، وكان الرئيس بايدن قد أرسل كبير الجواسيس للولايات المتحدة للقاء برادار في كابول يوم الاثنين في الوقت الذي تواصل فيه الإدارة جهودها لإجلاء المواطنين الأمريكيين والحلفاء وسط الفوضى في مطار العاصمة التي سقطت؛ حسبما صرّح مسؤولون أمريكيون لصحيفة واشنطن بوست شريطة عدم الكشف عن هويتهم، وبرادار الذي يرأس المكتب السياسي لطالبان في قطر هو أحد القادة البارزين في الجماعة الإسلامية التي اجتاحت أفغانستان وتولت السلطة في كابول في 15 من آب/أغسطس، وأفادت صحيفة واشنطن بوست أنه أمضى ثماني سنوات خلف القضبان بعد أن اعتقلته وكالة المخابرات المركزية قبل 11 عاماً في عملية مشتركة أجرتها الوكالة مع باكستان، وبرادار هو الصديق المقرب للمرشد الأعلى المؤسس لطالبان محمد عمر، شغل لاحقاً منصب كبير مفاوضي طالبان في محادثات السلام مع الولايات المتحدة في قطر والتي أسفرت عن اتفاق مع إدارة ترامب بشأن انسحاب القوات الأمريكية (نيويورك بوست).

التّعليق:

فرح المسلمون في أفغانستان وفي شتى أنحاء البلاد الإسلامية بانتصار أهل أفغانستان على رأس الكفر أمريكا، في معركة من المعارك التي شنّتها على البلاد الإسلامية بعد أحداث الحادي عشر من أيلول/سبتمبر عام 2001م، في الحرب التي أسمتها أمريكا "الحرب الصليبية" أو "الحرب على الإرهاب"، ودلالات هذا الانتصار على أمريكا كثيرة، أهمها فشل أمريكا في مواجهة المسلمين في أيّة معركة، حتى لو كانت ضد قليلي العدد والعدة والثروة، كما فرح المسلمون استبشاراً بعودة الحكم بما أنزل الله الذي غاب عنهم أكثر من مائة عام، منذ هدم دولة الخلافة العثمانية في عام 1924م. لهذين السببين فرح المسلمون بانتصار إخوانهم في أفغانستان على أمريكا.

يجب أن لا تنسينا نشوة الانتصار ما يتوجب على المسلمين في جميع أنحاء العالم - ومنهم المسلمون الذين سيطروا على أفغانستان - القيام به في المرحلة القادمة، ولمعرفة ذلك فإنه يجب علينا الرجوع إلى السيرة النبوية المطهرة التي ترشد إلى ما يجب القيام به بعد النصر والتمكين، ونجد ذلك واضحا فيما فعله رسول الله ﷺ حينما وصل إلى المدينة المنورة مهاجرا من مكة المكرمة، حيث آخى بين المهاجرين والأنصار، وأرسى دعائم الدولة الإسلامية الوليدة، ووضع لها دستوراً من القرآن والسنة، وأمّنها من الدول والقبائل المحيطة بها، ثم بدأ بالفتوحات الإسلامية، حتى وصل حدود الفرس والروم. لذلك يجب على إخواننا الذين استلموا الحكم في كابول التأسي بفعل رسول الله ﷺ، ووضع أيديهم بأيدي المخلصين من هذه الأمة، حزب التحرير الذي أنعم الله عليه بالعلم الشرعي والوعي السياسي، فكان الأقدر على إدارة دفة الحكم بالإسلام في ظل نظام الخلافة، فبوضع المخلصين في الطالبان أيديهم بأيدي حزب التحرير سيتمكنون من وضع خطة شرعية وعملية لإقامة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة وإعلان عودة حكم الإسلام بإذن الله.

إن الحفاظ على النصر والتحضير لإعلان الخلافة والحكم بالإسلام يقتضي الحذر من العدو الداخلي المندس والعدو الخارجي المتربص بالإسلام والمسلمين؛ أما العدو في الداخل فهو العملاء الذين ربّتهم أمريكا وجاؤوا معها على ظهر الدبابة الأمريكية، من أمثال عبد الله عبد الله وحامد كرازاي، هؤلاء العملاء الموالون لرأس الكفر أمريكا والملطخة أيديهم بدماء المسلمين لا يجوز الجلوس والتفاوض معهم على أيّة خطوات لاحقة، بل تجب محاسبتهم على ما اقترفوه من خيانات عظمى. صحيح أن رسول الله ﷺ عفا عن أهل مكة الذين ظلموه، وقال لهم: «اذْهَبُوا فَأَنْتُمُ الطُّلَقَاءُ» ولكنه لم يعفُ عن الستة الذين أمعنوا في أذية الإسلام والمسلمين، أخرج النسائى في سننه عن مصعب بن سعد عن أبيه قال: «لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ أَمَّنَ رَسُولُ اللَّهِ النَّاسَ إِلَّا أَرْبَعَةَ نَفَرٍ وَامْرَأَتَيْنِ وَقَالَ اقْتُلُوهُمْ وَإِنْ وَجَدْتُمُوهُمْ مُتَعَلِّقِينَ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ». إضافة إلى أن هؤلاء العملاء - من أمثال حامد كرزاي وكل من كان معه في الحكومات السابقة - لن يتوانوا عن النيل من الإسلام والمسلمين إن أوعزت أمريكا لهم بذلك، ومن هؤلاء المندسين ممثلون لدول عميلة مثل دولة قطر وغيرها، قال الله سبحانه وتعالى: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ﴾.

أما بشأن الحذر من العدو الخارجي، فإن أمريكا لم تأت إلى بلادنا للتجارة أو السياحة، بل جاءت مستعمرة لتحول دون إقامة الإسلام في ظل دولة الخلافة ولنهب ثروات المسلمين، لذلك لا يظننّ ظانّ من طالبان أو من غيرهم أن أمريكا يمكن أن تكون صديقاً أو حليفاً، بل ستظل العدو اللدود الذي يتبرص بالإسلام والمسلمين، ومثل هذه اللقاءات مع كبير الجواسيس الأمريكي لا تخدم مشروع الإسلام ونهضته، ودونكم من سبقكم في النضال، من منظمة التحرير الفلسطينية الذين قبلوا بالجلوس مع يهود، وانتهى بهم الحال إلى موالاة يهود! ﴿وَلَا تُؤْمِنُوا إِلَّا لِمَن تَبِعَ دِينَكُمْ قُلْ إِنَّ الْهُدَى هُدَى اللَّهِ أَن يُؤْتَى أَحَدٌ مِّثْلَ مَا أُوتِيتُمْ أَوْ يُحَاجُّوكُمْ عِندَ رَبِّكُمْ قُلْ إِنَّ الْفَضْلَ بِيَدِ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ﴾.

#أفغانستان    #Afganistan     #Afghanistan

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

بلال المهاجر – ولاية باكستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست