محمد بن سلمان على خُطا السيسي وأردوغان لإحكام القبضة الحديدية وإنقاذ أمريكا
محمد بن سلمان على خُطا السيسي وأردوغان لإحكام القبضة الحديدية وإنقاذ أمريكا

أيّد الرئيس الأمريكي "تطهير الفساد" السعودي الذي بدأه ولي العهد الأمير محمد بن سلمان ضد أمراء بارزين وضباط ورجال أعمال، وقال ترامب على تويتر "لدي ثقة كبيرة في الملك سلمان وولي عهد المملكة العربية السعودية، وهم يعرفون بالضبط ما يفعلونه... وبعض هؤلاء الذين تم التعامل معهم بقسوة كانوا يحلبون بلادهم لسنوات".

0:00 0:00
Speed:
November 09, 2017

محمد بن سلمان على خُطا السيسي وأردوغان لإحكام القبضة الحديدية وإنقاذ أمريكا

محمد بن سلمان على خُطا السيسي وأردوغان

لإحكام القبضة الحديدية وإنقاذ أمريكا

(مترجم)

الخبر:

أيّد الرئيس الأمريكي "تطهير الفساد" السعودي الذي بدأه ولي العهد الأمير محمد بن سلمان ضد أمراء بارزين وضباط ورجال أعمال، وقال ترامب على تويتر "لدي ثقة كبيرة في الملك سلمان وولي عهد المملكة العربية السعودية، وهم يعرفون بالضبط ما يفعلونه... وبعض هؤلاء الذين تم التعامل معهم بقسوة كانوا يحلبون بلادهم لسنوات".

 

التعليق:

أدّى اعتقال السعوديين المشهورين، ومنهم أمراء بارزون وشخصيات تجارية وشخصيات إعلامية، جنبا إلى جنب مع تحطم طائرة هليكوبتر تحمل الأمير منصور وغيره من كبار المسؤولين، أدّى إلى تكهنات بأنّ محمد بن سلمان أحبط انقلاباً مفترضاً، ومهما كان السبب فإنّ أمراً واحداً واضحاً تماما هو أنّ "رؤية 2030" تحمل معالم المساعي الأمريكية لإعادة هيكلة النظام في البلاد من خلال الملك سلمان وابنه محمد.

وقد أثبتت زيارة ترامب للسعودية في شهر أيار/مايو من هذا العام أنّها مؤلمة وتشكل بداية خطة انتقالية متعددة الأوجه تقوم على تركيز السلطة في أيدي محمد بن سلمان. والمحطة الأولى من هذه الخطة هي اتفاق أمني بين الملك سلمان وأمريكا، ومقابل المليارات من الدولارات، وافقت أمريكا بشروط على دعم جناح سلمان من العائلة السعودية. وتشير الزيارة التي قام بها مؤخراً صهر ترامب إلى إعطاء الضوء الأخضر من إدارة ترامب لسلمان لاتخاذ مثل هذه التحركات الجريئة. والهدف من التخلص من كبار الأمراء والشخصيات تحت ستار إزالة الفساد، الاستغناء عن التقاليد القديمة من تقاسم السلطة بين مختلف الأجنحة في العائلة المالكة. إنّ مساعي سلمان لتسريع تركيز السلطة بيد محمد تشير إلى أنّ الملك الضعيف يبذل قصارى جهده لضمان انتقال سلس للسلطة إلى ولي العهد قبل أن يتنازل عنها له.

أمّا الجانب الثاني من خطة التحول الأمريكي للسعودية فهو التسريع في علمانية المجتمع السعودي. والإعلان الأخير للسماح للمرأة بالقيادة، واستضافة النشاطات الرياضية النسوية ورفع الحظر عن الحفلات الماجنة وغيرها من الأنشطة التي تشجّع على الانحلال هو مجرد غيض من فيض. ويؤكد حشد المؤسسة الوهابية من قبل محمد بن سلمان على تصميمه على الشروع في "تحديث الإسلام"، الذي هو في الأساس نسخة من الإسلام المستساغ لدى واشنطن.

أمّا الجانب الثالث للخطة الانتقالية الأمريكية فهو سلب السعودية ثروتها، من خلال التحرير المطلق للاقتصاد والاستسلام الكامل للسيادة الاقتصادية لواشنطن والشركات الأمريكية متعددة الجنسيات. فبينما كان محمد بن سلمان يقوم بعملية التطهير، كتب ترامب على تويتر مذكرا الوريث السعودي بأنه ينبغي عليه خصخصة شركة "أرامكو" في بورصة نيويورك، وقد كان محمد بن سلمان حريصاً جداً على الخصخصة، حيث أعلن عن نيته في تشرين الأول/أكتوبر عن بناء المدينة السعودية الكبرى، وأنها ستكون "أول مدينة رأسمالية في العالم"، مع إمكانية الاكتتاب قبل أو بعد عام 2030.

ومما لا شك فيه أنّ سرعة التغييرات الهيكلية التي قام بها الملك سلمان وابنه بعد زيارة ترامب تؤكد على إصرارهما على التحرر من الماضي، وتذويب السعوديين في عهد جديد من الشمولية لم يشهد لها من قبل مثيل. ومع ذلك، فإنّ رياح الاستبداد الجديدة جرّت السعودية إلى تقليد بلاد أخرى في المنطقة. ففي ظل الوصاية الأمريكية، كان السيسي وأردوغان يركزان أيضاً على إحكام قبضة السلطة في أيديهم، وإن كان ذلك لأسباب مختلفة. فقد برر السيسي استبداده بحماية الديمقراطية، وانتزع أردوغان السلطة تحت ستار حماية الدولة من العلمانيين الانقلابيين، ولحق بهم محمد بن سلمان لفرض هيمنته من خلال الحرب الزائفة على الفساد، فمن يشتري يختاً بـ 500 مليون دولار وإنفاق والده 100 مليون دولار على عطلة فخمة في المغرب ليس مؤهلاً لشن حرب على الفساد، في الوقت الذي يواجه السعوديون فيه الفقر المدقع.

بعد فشل بوش في تصدير الديمقراطية وفشل أوباما بالرقص مع الإسلاميين في السلطة، فعلتها أمريكا الآن من خلال ترامب، وما حدث في مصر وتركيا والآن في السعودية هو اعتراف لا لبس فيه أنّه لا مجال للحديث عن الإسلام والدعوة إليه بين الأمة، والمسموح به هو فقط الخضوع لليبرالية الغربية.

قد تحدث هذه التغييرات بعض الاكتئاب بين المسلمين على المدى القصير، ولكن هذه المبادرات الأمريكية نذير نهاية الهيمنة الغربية، فقد حاول الغرب على مدى مئة عام مضت، حاول بشتى السبل انتزاع الإسلام من قلوب وعقول المسلمين، لكنه فشل في كل محاولاته. ومن خلال اللجوء إلى القبضة الحديدية، سواء أكان من خلال دعم الاستبداد أم من خلال القوة العسكرية الأمريكية، فقد ثبت بكل وضوح أنّ الغرب مفلس فكريا وغير قادر على التنافس مع الإسلام أو حتى تقديم بديل قابل للحياة، عوضا عن الخلافة على منهاج النبوة التي تتوق إليها الأمة.

بينما كان الشرق الأوسط معقل الاستقرار لأمريكا هو الآن هاوية هشة، ومصدر لعدم الاستقرار والقلق، وما ذلك إلا بما كسبت أيدي أمريكا نفسها، ولم تفقد أمريكا السيطرة على الأمة فقط، ولكن مكانتها كقوة عظمى اقتربت من نهايتها. إلا أنّ قليلاً من الناس يدركون ذلك ويفهمون أنّ التغيير حاصل لا محالة، وأنّ الزمن زمن النور الذي يكسر عتمة الظلام الدامس، ولكن الله سبحانه وتعالى يمحّص الناس حتى ينزل نصره على المؤمنين. ﴿أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُمْ مَثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ مَسَّتْهُمُ الْبَأْسَاءُ وَالضَّرَّاءُ وَزُلْزِلُوا حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَى نَصْرُ اللَّهِ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ﴾.

 

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عبد المجيد بهاتي – باكستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست