محمد بن سلمان في أمريكا من جديد لتقديم الخدمات وتسليم ثروات الأمة لأعدائها
محمد بن سلمان في أمريكا من جديد لتقديم الخدمات وتسليم ثروات الأمة لأعدائها

الخبر:   وصل الأمير محمد بن سلمان بن عبد العزيز، ولي ولي العهد، النائب الثاني لرئيس مجلس الوزراء، وزير الدفاع، إلى العاصمة الأمريكية واشنطن أمس، ليترأس وفد المملكة في الاجتماع الثاني للتحالف الدولي لمحاربة تنظيم الدولة، وذلك في القاعدة العسكرية في ميريلاند. ويبحث الاجتماع الآتي: تطورات سير العمليات العسكرية للتحالف في محاربة تنظيم الدولة وعدد من المسائل المتعلقة بهذا الشأن... (المصدر: جريدة المدينة 2016/7/21م)

0:00 0:00
Speed:
July 24, 2016

محمد بن سلمان في أمريكا من جديد لتقديم الخدمات وتسليم ثروات الأمة لأعدائها

محمد بن سلمان في أمريكا من جديد

لتقديم الخدمات وتسليم ثروات الأمة لأعدائها

الخبر:

وصل الأمير محمد بن سلمان بن عبد العزيز، ولي ولي العهد، النائب الثاني لرئيس مجلس الوزراء، وزير الدفاع، إلى العاصمة الأمريكية واشنطن أمس، ليترأس وفد المملكة في الاجتماع الثاني للتحالف الدولي لمحاربة تنظيم الدولة، وذلك في القاعدة العسكرية في ميريلاند. ويبحث الاجتماع الآتي:

تطورات سير العمليات العسكرية للتحالف في محاربة تنظيم الدولة وعدد من المسائل المتعلقة بهذا الشأن... (المصدر: جريدة المدينة 2016/7/21م)

التعليق:

إنها الزيارة الرابعة لولي ولي العهد السعودي إلى أمريكا في مدة لا تتجاوز العام والثانية في مدة أقل من شهر، حيث قام في زيارته الأخيرة بتقديم أوراق الاعتماد والتسجيل لدى الحكومة الأمريكية وأصحاب رؤوس الأموال من الشركات والمؤثرين على القرار السياسي لكي يحصل على دعمهم ومباركتهم له من طرف السلطة الأمريكية، علهم يوافقون على الطلب فينصبوه الملك التالي على بلاد الحرمين بعد أبيه مباشرة.

لقد عنونت الصحافة الداخلية لهذه الزيارة بعنوان الاجتماع الثاني المتعلق بمناقشة آخر تطورات التحالف الدولي لمحاربة تنظيم الدولة وسير العمليات العسكرية وما يتبعها من مسائل متعلقة بهذا الشأن وعلى وجه الخصوص موضوع محاربة التنظيم وخصوصا في العراق، وهو ما لفت الانتباه إليه حضور سفير السعودية في العراق ثامر السبهان وهو صاحب الدور الخبيث الذي تلعبه السعودية من خلال التحالف في قتل الشعب العراقي في الموصل والفلوجة وتهجير أهله وتشريدهم، فهل كانت معاناة هؤلاء من ضمن أولويات الاجتماع التي ناقشها كما ناقش موضوع الحرب على الإرهاب؟ وهل تناولت الصحف الداخلية من ضمن عناوينها هذا الموضوع أو حتى التفتت إليه؟

إن الجواب قطعا لا. لا لم يناقش هذا الموضوع ولم يكن من ضمن أي أولويات ولا ثانويات هذه المؤامرات الخبيثة التي لا يروح ضحيتها إلا المسلمون من سكان هذه البلاد الإسلامية وكل ذلك خدمة لمصالح أمريكا وأشياعها.

لقد تناولت الصحف الأمريكية هذه الزيارة بغير ذلك كله ومن زاوية تهم مصالحهم، فعلى سبيل المثال لا الحصر جاء في مقالة للكاتب سيمون ونج في صحيفة النيويورك تايمز نشرت في اليوم التالي لوصول محمد بن سلمان إلى أمريكا بتاريخ (2016/7/22م) المقالة كانت تحت عنوان (إذا ما طرحت شركة أرامكو السعودية ذات 2 تريليون دولار للاكتتاب العام، فهل سوف تصمد أمام التدقيقات الخارجية). وقد اعتبر الكاتب ضمن مقالته أن مرجعية شركة النفط أرامكو للعائلة الحاكمة في القرارات والمصالح عبر تاريخ الشركة سوف لن يتوافق مع معايير الشفافية المطلوبة من أي شركة تتوجه نحو الاكتتاب العام بحسب المعايير الدولية، وأن هذه الخطوة يجب أن يسبقها تعيين مجلس إدارة كامل يكون أعضاؤه من خارج العائلة الحاكمة بل من ضمنهم أعضاء من دول أخرى غربية يكونون أصحاب قرار، ولا يفترض على العائلة الحاكمة أن يكون لها تأثير بالمصالح أو القرار، وفي هذه الموضوع امتدح الكاتب تشكيل مجلس إدارة الشركة الأخير واعتبره خطوة جيدة في هذا السياق وأن الأمر بحاجة إلى عدة خطوات مماثلة قبل أن تطرح للاكتتاب العام في الأسواق الدولية. أيضا علق الكاتب على موضوع دعم الشركة لمشاريع حكومية داخلية أخرى ليست ذات علاقة بالمجال النفطي مثل المشاريع التي تقوم بها شركة أرامكو في الوقت الحالي في مجال التعليم والصحة وغيرها من المشاريع والتي يقترح الكاتب بأنها يجب أن تفصل عن موضوع اكتتاب الشركة في السوق العالمية، وأن ذلك يتطلب أن تقوم الشركة بكشف كامل أرقامها وميزانياتها أمام الجميع لكي تقوم الحكومة السعودية بالالتزام بتكاليف هذه المشاريع - في حال استمرارها - وذلك بعيدا عن موضوع الاكتتاب وذلك لضمان نجاح عملية الاكتتاب وشفافيتها.

إن مستوى تعليقات الكاتب في هذه المقالة ينقل صورة واضحة لما يتم مناقشته داخل أمريكا تجاه السعودية، وهو ما يعكس مدى العمالة التي وصل إليها هؤلاء الحكام، ومدى الخيانة في تسليم مقدرات الأمة وثرواتها لأعداء الأمة، وإن الأمور الاقتصادية عندما تصل إلى هذه المرحلة من التسليم والانبطاح فإنه لا بد وأن يسبقها تسليم وانبطاح على المستوى السياسي والقرار المصيري لكيان الأمة وسلطانها.

إن الواجب على الإعلام وأصحاب الرأي في السياسة والاقتصاد والعلماء والمشائخ وكل واعٍ في هذه الأمة، أن يفضح هذه المؤامرات الخبيثة، ويكشف عمالة هؤلاء الخونة لكي تتحرك الأمة على نفث خبثهم واستبدال دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة بهم.

كما أن على هؤلاء الحكام العملاء أن يعلموا أن في الأمة أفراداً وجماعات يعرفون حقيقتهم، وينكرون عليهم سياساتهم، ويفضحون أمرهم، وأن الناس في بلاد الحرمين الشريفين لا يرضون بالباطل وأن الباطل إلى زوال، وأن وعد الله قادم ولو بعد حين.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

ماجد الصالح – بلاد الحرمين الشريفين

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست