محنة اللاجئين واضطهاد المهاجرين ستستمر تحت العلمانية
محنة اللاجئين واضطهاد المهاجرين ستستمر تحت العلمانية

الخبر: جمعت الجمعية العامة للأمم المتحدة يوم الاثنين الدول الأعضاء لأول قمة بشأن اللاجئين والمهاجرين. وقد صدر بالفعل مشروع إعلان تكريس النتائج الذي يعد بنهج أكثر تنسيقاً وإنسانية ومسؤولية تجاه المهاجرين. إلا أن أهدافها النبيلة تتناقض مع ممارسات العديد من الدول المشاركة في قمة نيويورك.

0:00 0:00
Speed:
September 20, 2016

محنة اللاجئين واضطهاد المهاجرين ستستمر تحت العلمانية

محنة اللاجئين واضطهاد المهاجرين ستستمر تحت العلمانية

(مترجم)

الخبر:

جمعت الجمعية العامة للأمم المتحدة يوم الاثنين الدول الأعضاء لأول قمة بشأن اللاجئين والمهاجرين. وقد صدر بالفعل مشروع إعلان تكريس النتائج الذي يعد بنهج أكثر تنسيقاً وإنسانية ومسؤولية تجاه المهاجرين. إلا أن أهدافها النبيلة تتناقض مع ممارسات العديد من الدول المشاركة في قمة نيويورك.

فبدلاً من احترام حقوق الأفراد والتمسك بالالتزامات القائمة من قبل، فإن عدداً كبيراً جداً من الحكومات تتبنى نهجاً أكثر تعقيداً والذي يبدو أنه يهدف إلى مزيد من الضرر للمستضعفين من الرجال والنساء والأطفال ويحتفظ بهم بعيداً عن الأنظار قدر الإمكان. (المصدر: العربية)

التعليق:

إن قمة الأمم المتحدة لشؤون اللاجئين والمهاجرين التي عقدت الاثنين في نيويورك والتي وصفت بأنها "ستغير قواعد اللعبة" من قبل المفوضية سوف يليها يوم الثلاثاء قمة زعماء العالم والتي يرأسها الرئيس الأمريكي باراك أوباما. يبدو أن هذا التجمع عالي المستوى لزعماء العالم سيظهر تعهداً بالتزامات جديدة للاجئين. إن إعلان نيويورك "ومعالمه المهمة" قد تمت الموافقة عليه من قبل قادة الدول في قمة الاثنين ووفقاً للمتحدثة باسم المفوضية ميليسا فيلمنغ فإن الإعلان "سوف يعلن تضامنهم العميق بشأن الناس الذين يجبرون على الفرار من منازلهم وسيؤكد التزامهم بالاحترام الكامل لحقوق الإنسان للاجئين والمهاجرين وتعهدهم بتقديم الدعم الكبير لتلك البلدان التي تعاني من تحركات المهاجرين واللاجئين الكبيرة".

ولكن ماذا يمكن لـ21 مليون لاجئ بما في ذلك ستة عشر مليوناً من الرجال والنساء والأطفال الذين يقبعون في معسكرات اللجوء المميتة والمزرية وغير الإنسانية وفي مراكز اللجوء، ماذا يمكنهم أن يتوقعوا من العالم الذي يهيمن عليه النظام العلماني الرأسمالي وقيمه المتآكلة؟ وماذا يمكن لأربعين مليون مشرد داخلي في بلاد إسلامية مثل سوريا والعراق وأفغانستان وجمهورية أفريقيا الوسطى أو ميانمار، ماذا يمكنهم أن يتوقعوا من قادة العالم الذين أظهروا تجاهلهم التام بأهمية حياة الإنسان وكرامته خلال الحروب والاحتلال الرأسمالي الأجنبي المتشدد، والذي أثبت عدم مقدرته على حل هذه الأزمة بالإضافة إلى عدد كبير من المشاكل السياسية والاقتصادية والإنسانية الأخرى التي يعاني منها العالم؟

كيف ستتغير محنة أكثر من 10 ملايين طفل لاجئ بما في ذلك الأطفال المعتقلون والمسجونون في مراكز اللجوء حيث يعانون من الويلات والاعتداء الجنسي الذي يدفعهم إلى اليأس ويشوه أمامهم الحياة فيؤدي بهم إلى إيذاء أنفسهم والانتحار؟ هل ستؤدي مثل هذه القمة إلى موافقة الدول القومية ورؤسائها على عدم اعتقال الأطفال اللاجئين وتحررهم وتطلقهم في المجتمع، أم أنها ستواصل تنفيذ سياسات الهجرة والمراقبة القاسية للحدود بهدف اعتقال الأطفال الذين يصلون بواسطة القوارب، "بهدف وضع حد الهجرة"، مع العلم أنه "نادراً ما يكون، إن لم يكن مستحيلاً، أن يكون في صالح الطفل"؟

وماذا بالنسبة لزيادة معاداة الإسلام وسياسات الهجرة العنصرية والمشاعر تجاه المهاجر المسلم والمهاجر غير المسلم من قبل الدول في الاتحاد الأوروبي وأمريكا وأستراليا وغيرها من الدول المتقدمة؟ وهل يمكننا أن نتوقع من قادة العالم أن يتخلوا عن قيادتهم إلى الرأي العام القومي اليمني المتطرف والمطالبات السخيفة التي أدلى بها القادة السياسيون الانتهازيون ومطالباتهم الحساسة للمسلمين الذين يغمرون مجتمعاتهم؟

هل يستطيع أوباما تغيير موقف 29 من أصل 50 من ممثلي الدول الذين قالوا لا لقبول اللاجئين من سوريا ولا حتى "اليتيم ابن الثلاث سنوات" بعد إعلانه في أيلول/سبتمبر 2015 عن زيادة استيعاب لاجئي سوريا من 1600 لاجئ مقبول منذ 2011 إلى 10000 منذ 2016 فصاعداً؟

من الواضح أن الطريقة غير الإنسانية والمزرية التي تم بها التعامل مع أزمة اللاجئين تعكس النظام العالمي الذي هو في حالة يرثى لها. هذا بسبب أن الدول تقبع تحت هذا النظام العالمي الحالي ولن تتحمل أية دولة المسؤولية عن سلامة ورفاهية المضطهدين والمقهورين بسبب المصالح السياسية والاقتصادية الأنانية.

بالتأكيد فإن كل هذا يؤكد على الحاجة الملحة لولادة نظام عالمي جديد يسوده نظام يرفض النهج المادي والوطني لمعالجة مشاكل الإنسان ويخدم حقاً الاحتياجات الإنسانية بطريقة الإيثار البحتة، وبطريقة غير مشروطة - حيث يضع المعايير الدولية للدول الأخرى لتطمح بذلك. هذا النظام ليس إلا نظام الخلافة على منهاج النبوة حيث إن أحكامه هي قوانين الخالق سبحانه وتعالى القادر وحده على تحديد النموذج السياسي الصالح للبشر. إنها الدولة التي كانت معروفة من قبل العالم بكرمها وإنسانيتها. الدولة التي فتحت حدودها أمام المظلومين دون أية قيود - المسلمين وغير المسلمين - ووفرت لهم الحماية والحياة الطيبة وحقوق التابعية الكاملة كما أمرنا الله سبحانه وتعالى. ولذلك فإنه النظام الذي نحتاجه حقاً لهذه الأوقات العصيبة.

قال سبحانه وتعالى: ﴿وَإِنْ أَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ فَأَجِرْهُ حَتَّى يَسْمَعَ كَلاَمَ اللّهِ ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَأْمَنَهُ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لاَّ يَعْلَمُونَ

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

ثريا أمل يسنى

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست