مخاطر تعرُّض جنوب إيطاليا لأعمال النهب والشغب إذا فقدت إيطاليا قبضتها في الجنوب
مخاطر تعرُّض جنوب إيطاليا لأعمال النهب والشغب إذا فقدت إيطاليا قبضتها في الجنوب

الخبر: في الوقت الذي يصارع فيه رئيس الوزراء جوزيبي كونتي للحفاظ على المجتمع الإيطالي متماسكاً من خلال الإغلاق المدمّر المفروض على مستوى البلاد، يتحول الجنوب المحبَط إلى برميل بارود.

0:00 0:00
Speed:
April 04, 2020

مخاطر تعرُّض جنوب إيطاليا لأعمال النهب والشغب إذا فقدت إيطاليا قبضتها في الجنوب

مخاطر تعرُّض جنوب إيطاليا لأعمال النهب والشغب إذا فقدت إيطاليا قبضتها في الجنوب
(مترجم)


الخبر:


في الوقت الذي يصارع فيه رئيس الوزراء جوزيبي كونتي للحفاظ على المجتمع الإيطالي متماسكاً من خلال الإغلاق المدمّر المفروض على مستوى البلاد، يتحول الجنوب المحبَط إلى برميل بارود.


تم نشر الشرطة في شوارع عاصمة صقلية باليرمو وسط تقارير تفيد بأن العصابات تستخدم وسائل التواصل في التخطيط للهجوم على المتاجر. حيث أوقفت شركة عبّارات مفلسة خدمتها على الجزيرة، بما في ذلك الإمدادات الحيوية من المواد الغذائية والأدوية. في الوقت الذي تصرخ فيه الدولة تحت وطأة وباء فيروس كورونا، يشعر المسؤولون بالقلق من أن المافيا قد تستعد للتدخل.


وقال عمدة باليرمو ليولوكا أورلاندو لصحيفة لاستامبا: "نحن بحاجة إلى التصرف بسرعة أكبر من السرعة، الأزمة قد تتحول إلى عنف". (بلومبيرغ، 30/03/2020)


التعليق:


يوجد في إيطاليا حالياً أكبر عدد من الإصابات المؤكدة - 120 ألفاً وأعلى عدد من الوفيات يصل إلى 11 ألفاً - وتواجه منطقتها الجنوبية المتخلفة تداعيات الإغلاق لمدة أربعة أسابيع فعلاً.


غالباً ما تصور أفلام هوليوود انهياراً للمجتمع بعد نهاية العالم حيث يلجأ الناس إلى الجريمة ويقاتلون من أجل البقاء كأفراد، لإدراكهم أن حكوماتهم غير قادرة أو غير راغبة في القيام بما فيه الكفاية. ومن المحزن أن هذا الواقع بدأ يحدث في أجزاء من الجنوب حيث ينفد المال من الناس، وتم الإبلاغ عن حالات عدة من عمليات السطو، وشهد عدد من المتاجر الكبرى زيادة في حالات السرقة. إن ما يقرب من 3.7 مليون يعملون في الاقتصاد تحت الأرض، مع وظائف يومية لتغطية نفقاتهم ما يسبب قلقا حقيقيا حول عودة ظهور العصابات، ولا سيما المافيا. وبالنظر إلى أننا رأينا مبيعات الأسلحة النارية في أمريكا وأستراليا، حيث الناس يُكبّون لتخزين الأسلحة، فإن مثل هذا السيناريو المقلق هو أكثر احتمالاً في المدن التي تنتشر فيها الجريمة والفساد بشكل خاص، والجريمة المنظمة، والاتجار بالمخدرات والأشخاص، وانتشار غسيل الأموال.


في هذه الأوقات الاستثنائية، من المهم فهم ديناميكيات المجتمع وعلاقته مع الحكومة. عندما يفشل حكام مثل ترامب وبولسانارو البرازيلي، إلى جانب كثيرين آخرين - في التصرف بسرعة، ولا يقدمون التمويل الكافي للمستشفيات وموظفيها، أو يقللون من خطورة الفيروس من حيث الذين يمكن أن يؤثر عليهم، فإنهم يفشلون بالفعل، بل ويضطهدون شعبهم. وبدون الوعي الكامل على احتياجات الناس، وإجبارهم على إغلاق المجتمعات المحلية التي لا تستطيع العمل من المنزل، والأقل احتمالاً لتخزين الغذاء والضروريات، والذين لا يستطيعون عزل أنفسهم بشكل فعال لأن المنازل صغيرة أو مكتظة بالفعل، يجب أن يفهموا ذلك والتصرف بخصوصه بشكل صحيح.


لا يكفي أن تطالب الحكومات بالاستثمار في أجهزة التنفس الصناعي والملابس الواقية، إذا لم تتمكن حتى من فهم كيفية تلبية احتياجات الناس، وتعتقد أنه من خلال إبقاء الجميع في المنازل، فإن المشكلة ستزول. فماذا عن المشاكل التي يتم إنشاؤها؟


اقتصادات العملة الإلزامية مثل بريطانيا، تضخ المال بكل سرور على كل من يطلب منه البقاء في المنزل، وتقدم العطل والإجازات المدفوعة الأجر من الدولة تصل إلى 80٪... ولكن لا يوجد أي نقاش حول كيفية تعويض الدولة عن هذا الضخ الهائل للنقد الافتراضي وعواقبه.


في حين إن ولايات في أمريكا مثل كاليفورنيا شهدت تسجيل 3.5 مليون شخص كعاطلين عن العمل في أقل من أسبوع، ولكن لا تزال إدارة ترامب تنفي الانتشار الواضح للفيروس وتلعب علنا بالحقيقة للانحراف عن مسؤوليتهم تجاه الشعب، وذلك لحماية الاقتصاد بدلا من ذلك.

حتى إن العديد من كبار قادة وول ستريت ذكروا أن "الأمريكيين الوطنيين المسنين ضحوا بحياتهم بسرور من أجل الاقتصاد الأمريكي"!


ومع وجود زعماء مثل هؤلاء، وغيرهم في مناطق آسيا الوسطى الذين حظروا حتى الحديث عن كوفيد-19، ما الذي يمكن توقعه غير أن يتحول الناس إلى الجريمة أو على أقل تقدير مستويات متطرفة من الفردية؟ بعد كل الفردية التي تم تعزيزها من خلال القيم الليبرالية للرأسمالية في القرن الماضي على الأقل، فإن الناس الذين تم تلقينهم لإعطاء الأولوية لأنفسهم على حساب الآخرين ويرون أنها قيمة تقدمية، هؤلاء في نهاية المطاف سوف يفعلون أي شيء لرعاية أنفسهم، حتى لو كان يؤثر سلبا على الآخرين.


في ظل النظام الإسلامي، فإن أمير المومنين هو المسؤول عن رعيته، وإن المحاسبة التي تترتب على وجوده في هذا المنصب تجبره على إعطاء الأولوية لاحتياجاتهم ودراسة مختلف الوقائع التي تواجهها التركيبة السكانية المختلفة. كما يظهر مفهوم الرزق في الإسلام في النظام الاقتصادي الإسلامي، وفي التقلب الطبيعي بين أوقات الرخاء وأوقات الصعوبة بسبب الكوارث الطبيعية أو حتى الأحداث المناخية، فإن هناك استعدادا لقبول تغير الحال الاقتصادي من وقت لآخر من الراحة أو المشقة بدلاً من السعي الدائم لجمع الثروة والرخاء المادي طوال الوقت كما تفعل الرأسمالية.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
مليحة حسن

#كورونا

#Covid19

#Korona

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست