مكتب التحقيقات الفدرالي الأمريكي FBI يتبع فشل استراتيجية "المنع" البريطانية عن طريق التجسس على الشباب المسلم عبر شبكة "لجان المسؤوليات المشتركة"
مكتب التحقيقات الفدرالي الأمريكي FBI يتبع فشل استراتيجية "المنع" البريطانية عن طريق التجسس على الشباب المسلم عبر شبكة "لجان المسؤوليات المشتركة"

إن خطة مكتب التحقيقات الفدرالي  FBIلحشد قادة الجالية المحلية في "لجان المسؤولية المشتركة" في جميع أنحاء البلاد بهدف تحديد الأفراد "المتطرفين" يثير القلق بين نشطاء الحقوق المدنية.

0:00 0:00
Speed:
April 20, 2016

مكتب التحقيقات الفدرالي الأمريكي FBI يتبع فشل استراتيجية "المنع" البريطانية عن طريق التجسس على الشباب المسلم عبر شبكة "لجان المسؤوليات المشتركة"

مكتب التحقيقات الفدرالي الأمريكي FBI يتبع فشل استراتيجية "المنع" البريطانية

عن طريق التجسس على الشباب المسلم عبر شبكة "لجان المسؤوليات المشتركة"

الخبر:

إن خطة مكتب التحقيقات الفدرالي FBI لحشد قادة الجالية المحلية في "لجان المسؤولية المشتركة" في جميع أنحاء البلاد بهدف تحديد الأفراد "المتطرفين" يثير القلق بين نشطاء الحقوق المدنية.

وقال عبد أيوب، المدير القانوني للجنة مناهضة التمييز الأمريكي – العربي ومناهضة العنصرية، أن لجان المسؤولية المشتركة، والمعروفة باسم SRCs، "توسع برنامج المخبر تحت ستار برنامج التدخل، والذي يناقضها تماماً".

إن فكرة مكتب التحقيقات الفدرالي FBI هي أن يقوم الأخصائيون الاجتماعيون والمعلمون والعاملون في مجال الصحة العقلية، والشخصيات الدينية، وغيرهم بمنع الشباب الذين يعتقدون أنهم على الطريق نحو التطرف. وقد تم الكشف عن البرنامج لأول مرة في تشرين الثاني/نوفمبر الماضي، بينما لا تزال التفاصيل شحيحة، ويعتقد أنه تم وضعه على غرار برامج مماثلة "لمكافحة التطرف" في بريطانيا. (المصدر:theintercept )

التعليق:

لقد مدد مكتب التحقيقات الفدرالي مجالات مساحات التحقيق الجنائية لتشمل الآن الجالية الإسلامية لأنه يستهدف بشكل مباشر الشباب المسلم من خلال تعيين الآباء والمعلمين والصحة والأخصائيين الاجتماعيين والشباب للتجسس لصالحهم. ويتوقع مكتب التحقيقات الفيدرالي أن خلايا مراقبة المسلمين والمعروفة باسم "لجان المسؤوليات المشتركة" ستسلم الشباب المسلم إلى السلطات باسم مكافحة التطرف والراديكالية. ووفقا لليزا أو. موناكو، مساعدة رئيس شؤون الأمن الداخلي ومكافحة الإرهاب، كما نشر في موقع البيت الأبيض فإن أنواع السلوكيات التي يتوقع الإبلاغ عنها بالغة الدقة لا يمكن وصفها، "على سبيل المثال، قد يرى الآباء تغيرات مفاجئة في شخصية أطفالهم في المنزل - كأن يصبحوا جدليين؛ أو قد يلاحظ الزعماء الدينيون اشتباكات غير متوقعة بسبب خلافات عقائدية؛ أو قد يسمع المعلمون طالباً يبدي الاهتمام في السفر إلى منطقة نزاع في الخارج؛ أو قد يلاحظ أصدقاء وجود اهتمام جديد في مشاهدة أو تبادل مواد عنيفة".

إن صانعي السياسات الحكومية، وسلطات الاستخبارات والشرطة، يحملون رأياً مفاده أن الجالية المسلمة الأمريكية ستكون أكثر تعاونا في إقامة شبكة من الجواسيس المسلمين من نظرائهم في بريطانيا. وهذه حقيقة ثابتة أن تنفيذ "برنامج المنع" في بريطانيا قد فشلت فشلا ذريعا، حيث إن 8.6% فقط من التقارير صدرت من داخل الجالية الإسلامية. وكانت الغالبية العظمى من التقارير من مهنيين غير مسلمين يعملون بين الشباب المسلم.

ومن الأمثلة على هذا التعاون الواضح مع السلطات والجالية الإسلامية يمكن ملاحظته في ديربورن بولاية ميشيغان. ووفقا لتقارير صحفية فإن قسم الشرطة على سبيل المثال يقوم بزيارات منتظمة إلى مدارس ديربورن الـ38 ومساجدها العديدة. ويرعى رئيس الشرطة، رون حداد، برنامجاً يسمى "تصعيد"، والذي يتضمن حفلاً سنوياً لتوزيع الجوائز (والقادم بتاريخ 12 نيسان/أبريل) للأشخاص الذين يبلغون عن الجرائم. وقد قام آباء مسلمون مرتين على الأقل في السنوات القليلة الماضية، بتسليم أبنائهم خوفا عليهم من تأثير تنظيم الدولة أو تأثير الأكاذيب على الإنترنت، بحسب حداد، فإن آباء مسلمين سلموا أبناءهم. وفي حالة أخرى، قام طالبٌ في مدرسة ثانوية ذات أغلبية مسلمة بالإخبار عن طالب مثير للقلق.

وقد صمم مكتب التحقيقات الفدرالي أيضا موقعاً إلكترونياً لتوفير التوعية حول مخاطر متطرفي العنف المفترسين على شبكة الإنترنت، والذي شمل مداخلات من قادة الجالية المحلية والمعلمين والطلاب. ويسمى هذا الموقع، "لا تكن ألعوبة"، ومن المفترض أن يتم استخدامه من قبل المعلمين والطلاب لمساعدة مكتب التحقيقات الفدرالي لمنع التطرف العنيف للشباب.

إن تنميط الشباب المسلم من قبل المعلمين وإنفاذ القانون يعزز انعدام الثقة بين الطلاب ورموز السلطة، الذين سيكونون بمثابة المخبرين الفعليين. فمثال أحمد محمد ذي الـ14 عاما الذي أحضر إلى المدرسة ساعةً صنعها في البيت، أو المعلم في ولاية تكساس الذي وصف طالباً في الصف السابع بأنه "إرهابي" عندما كان يضحك وهو يشاهد فيلم “Bend It Like Beckham”.

إن الهدف الرئيسي لدى الحكومات الديمقراطية العلمانية مثل الولايات المتحدة وبريطانيا والحكومات الأوروبية وأستراليا وغيرها في الأعمال الشرطية وتجريم الشباب المسلم من خلال شبكة من الجواسيس في الجالية، إن الهدف هو لإجبارهم على تبني وممارسة إسلام علماني شخصي، كدين فردي، على قدم المساواة مع الأديان الأخرى وإخضاعهم للنظام الديمقراطي العلماني السائد. في المقابل، فإن الهدف هو دمج الشباب من خلال إشراكهم في الحياة السياسية، والرياضية، والثقافية، وصرفهم بعيدا عن المفاهيم العقائدية الإسلامية الأساسية، وعن أعمال مثل الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر، واعتماد مفهوم أمة عالمية واحدة والعمل لمصالحها، كالخلافة والجهاد، ومحاسبة الحكام، وعرض الحياة الإسلامية كبديل جذري للنظام الحالي.

ولذلك، فإن المعركة من أجل دمج الشباب المسلم في مجتمع أمريكا الليبرالي العلماني قد فشلت من خلال أي شكل من أشكال الإدانة الفكرية المعتمدة فقط على الإكراه والإجبار.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

ثريا أمل يسنى

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست