من الذي يدير الشرطة في المجتمعات الرأسمالية؟
من الذي يدير الشرطة في المجتمعات الرأسمالية؟

الخبر:   في الرابع من آذار/مارس، احتجت مئات النساء في لندن على العنف ضد النساء والفتيات ولإبراز عدم اتخاذ إجراءات للتصدي لعنف الذكور. يأتي ذلك وسط كشف متزايد ومزاعم بالاعتداء الجنسي والعنف المنزلي وسوء السلوك الجنسي لمئات من ضباط الشرطة الحاليين والسابقين، لا سيما في قوة شرطة العاصمة في لندن. ففي الشهر الماضي، أقر ديفيد كاريك بأنه مذنب في 49 اعتداءً وجريمة جنسية، بما في ذلك 24 تهمة اغتصاب امتدت على مدى عقدين من الزمن عندما كان ضابطاً في الخدمة. كان كاريك في وقت من الأوقات ضابطا مسلحا في قيادة الحماية البرلمانية والدبلوماسية. ...

0:00 0:00
Speed:
March 13, 2023

من الذي يدير الشرطة في المجتمعات الرأسمالية؟

من الذي يدير الشرطة في المجتمعات الرأسمالية؟

(مترجم)

الخبر:

في الرابع من آذار/مارس، احتجت مئات النساء في لندن على العنف ضد النساء والفتيات ولإبراز عدم اتخاذ إجراءات للتصدي لعنف الذكور. يأتي ذلك وسط كشف متزايد ومزاعم بالاعتداء الجنسي والعنف المنزلي وسوء السلوك الجنسي لمئات من ضباط الشرطة الحاليين والسابقين، لا سيما في قوة شرطة العاصمة في لندن. ففي الشهر الماضي، أقر ديفيد كاريك بأنه مذنب في 49 اعتداءً وجريمة جنسية، بما في ذلك 24 تهمة اغتصاب امتدت على مدى عقدين من الزمن عندما كان ضابطاً في الخدمة. كان كاريك في وقت من الأوقات ضابطا مسلحا في قيادة الحماية البرلمانية والدبلوماسية. وقبل عامين، أدين واين كوزينز، ضابط شرطة مِيت، باختطاف واغتصاب وقتل سارة إيفيرارد. كما أدين بارتكاب سلسلة سابقة من التعرض غير اللائق. ووجدت مراجعة لشرطة ميت أن ضباط الشرطة كانوا يستخدمون سلطاتهم في التوقف والتفتيش لإيقاف النساء الجذابات، كما وجدوا محادثات جماعية على واتساب حيث كان الضباط في الخدمة يتحدثون عن الاعتداء على شركائهم. كما كانت هناك العديد من الحالات التي أساء فيها ضباط الشرطة استخدام سلطتهم لارتكاب أعمال عنف ضد النساء. واعترف مارك رولي، مفوض شرطة ميت أن هناك تمييزاً على أساس الجنس في القوة وأنه يتم الآن التحقيق مع أكثر من 1000 ضابط في ميت لادعاءات العنف المنزلي والجرائم الجنسية.

التعليق:

هذه المشكلة ليست معزولة عن شرطة العاصمة في لندن. ففي الأيام الأخيرة، ذكرت وسائل الإعلام أنه تم تأديب العشرات من ضباط الشرطة البريطانية بسبب الاتصال الجنسي بضحايا الجريمة والشهود. وتم الإبلاغ عن أن ما يقرب من 80 ضابطاً في 22 قوة في جميع أنحاء إنجلترا وويلز واجهوا إجراءات بسبب العلاقات الجنسية غير اللائقة أو الاتصال بالضحايا والشهود والمشتبه بهم منذ عام 2018. ويعتقد أن هذا الرقم ليس سوى قمة جبل الجليد لأنهم يمثلون فقط نصف قوات الشرطة في إنجلترا وويلز. هؤلاء أفراد يفترض بهم حراسة الناس ومنع هذه الجرائم بدلا من ارتكابها!

على الرغم من أن حجم هذه المشكلة التي تؤثر على قوة الشرطة في بريطانيا مقلق للغاية، إلا أنها ليست مفاجئة، لأنها تعكس ببساطة المستويات الوبائية للعنف والجرائم الجنسية ضد النساء داخل البلاد والمجتمعات الرأسمالية بشكل عام. فبحسب أرقام وزارة الداخلية، سجلت الجرائم الجنسية التي سجلتها الشرطة في إنجلترا وويلز رقماً قياسياً في العام المنتهي في أيلول/سبتمبر 2022 (199.021 جريمة جنسية و70.633 جريمة اغتصاب)، وعكست زيادة بأكثر من الخمس مقارنة بما قبل الوباء. ووفقاً للشبكة الوطنية للاغتصاب وسفاح المحارم، أكبر منظمة مناهضة للعنف الجنسي في أمريكا، فإنه كل 68 ثانية، يتم الاعتداء الجنسي على أمريكي، وهناك أكثر من 460.000 ضحية للاغتصاب والاعتداء الجنسي كل عام في البلاد. غالبية الضحايا من النساء. هذه مشكلة من الواضح أنها خارجة عن السيطرة في العديد من الدول الرأسمالية في جميع أنحاء العالم!

اقترح البعض أن طريقة معالجة التحيز الجنسي والجرائم الجنسية من أفراد الشرطة هي التدقيق الأفضل عند توظيف الأفراد وإقالة أكثر فاعلية للضباط المدانين بمثل هذه السلوكيات والمواقف. ومع ذلك، فإن هذا لا يعالج جوهر المشكلة، وهو ما خلق عقلية لدى الكثير من الرجال تدفعهم إلى مضايقة النساء أو ممارسة العنف تجاههن وحتى المزاح حول ذلك مع أصدقائهم وزملائهم، بما في ذلك أولئك الذين يحملون مسؤولية حماية المرأة! هذه الوقفات الاحتجاجية والمظاهرات والحملات والمؤتمرات التي تُعقد حول المرأة والعنف، تفشل في فهم أن القيم الليبرالية الفعلية داخل هذه الدول هي التي تغذي هذه الجرائم.

لقد أوجدوا بيئة أدت بشكل منهجي إلى تدهور وضع المرأة من خلال السماح لهم بالتشويش والتحول إلى الجنس في المجتمع، ما أدى إلى عدم الاحترام تجاههن. هذا بالتوازي مع تعزيز الحريات الجنسية وتشجيع الأفراد على إشباع رغباتهم الجنسية بأي طريقة يرغبون فيها، ما يخلق بيئة خطرة على المرأة. علاوة على ذلك، فإن التهميش المتزايد للدين والمعتقدات الدينية داخل هذه المجتمعات قد عزز الشخصيات التي تشعر أنها ليست مسؤولة أمام أي كائن سوى أنفسهم، وبالتالي فإنهم سيرتكبون هذه الجرائم إذا شعروا أنه يمكنهم الإفلات من العقاب. في النهاية، خلقت الليبرالية مجتمعات يسود فيها السعي وراء الملذات الجسدية.

ومن هنا، فإن القيم الليبرالية هي التي يجب أن تكون في قفص الاتهام إلى جانب مرتكبي هذه الجرائم ضد المرأة!

في المقابل، يروج الإسلام لمفهوم التقوى الذي يخلق عقلية المساءلة للخالق، وفهماً أن كل فعل له عواقب الثواب أو العقاب في الآخرة. هذا هو خط الدفاع الأمامي ضد أي شكل من أشكال العنف أو سوء السلوك الجنسي تجاه المرأة. إلى جانب ذلك، يضع الإسلام حماية كرامة المرأة والحفاظ عليها في مستوى حماية الحياة نفسها. وعليه، يحظر تجسيدها أو إضفاء الطابع الجنسي عليها أو أي عمل ينتقص من مكانتها أو يمس كرامتها أو يلحق بها الأذى أو يؤجج الجرائم بحقها، ويترتب على هذه الأفعال عقوبات شديدة. كما يرفض الإسلام مفهوم الحرية الجنسية ويحدد نظاماً اجتماعياً واضحاً ينظم العلاقة بين الرجل والمرأة من أجل ضمان قصر أي اتصال أو علاقة جنسية على الزواج وحده. والواقع أن الإسلام لا يحرم التحرش الجنسي بالنساء فحسب، بل يحرم على الرجل النظر بشهوة إلى أي امرأة غير زوجته، أو النظر إلى أي جزء من جسد المرأة الأجنبية غير وجهها وكفيها، ويلزمه أن يغض بصره. يقول الله سبحانه وتعالى: ﴿قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ﴾.

لكن، للأسف اليوم تنتشر الجرائم ضد المرأة في بلادنا الإسلامية أيضاً بسبب استيراد الثقافة الليبرالية كما هو الحال في الغرب. والطريقة الوحيدة لمعالجة هذه المشكلة هي إقامة نظام الخلافة على منهاج النبوة الذي يضمن تطبيق جميع شرائع الإسلام بشكل صحيح وكامل، وبالتالي حماية كرامة المرأة.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. نسرين نواز

مديرة القسم النسائي في المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست