من الذي يخدمه ممر الحبوب الذي فتحته تركيا؟
من الذي يخدمه ممر الحبوب الذي فتحته تركيا؟

الخبر:   تم توقيع اتفاقية في إسطنبول بين روسيا وأوكرانيا من خلال وساطة من الأمم المتحدة وتركيا لاستئناف صادرات الحبوب من الموانئ الأوكرانية. واعتبر رئيس تركيا، رجب طيب أردوغان، الذي ألقى كلمة قبل التوقيع، اعتبر يوم التوقيع على اتفاقية الحبوب "يوماً تاريخياً"، وقال إن الاتفاقية ستسهم في منع المجاعة التي تنتظر المليارات من الناس في جميع أنحاء العالم. (صوت أمريكا بالتركية، 22 تموز/يوليو 2022)

0:00 0:00
Speed:
August 08, 2022

من الذي يخدمه ممر الحبوب الذي فتحته تركيا؟

من الذي يخدمه ممر الحبوب الذي فتحته تركيا؟

(مترجم)

الخبر:

تم توقيع اتفاقية في إسطنبول بين روسيا وأوكرانيا من خلال وساطة من الأمم المتحدة وتركيا لاستئناف صادرات الحبوب من الموانئ الأوكرانية. واعتبر رئيس تركيا، رجب طيب أردوغان، الذي ألقى كلمة قبل التوقيع، اعتبر يوم التوقيع على اتفاقية الحبوب "يوماً تاريخياً"، وقال إن الاتفاقية ستسهم في منع المجاعة التي تنتظر المليارات من الناس في جميع أنحاء العالم. (صوت أمريكا بالتركية، 22 تموز/يوليو 2022)

التعليق:

أصبحت قضية الحظر الذي فرضته روسيا على السفن المحملة بالحبوب التي كانت تنتظر في الموانئ الأوكرانية رداً على عقوبات الولايات المتحدة والاتحاد الأوروبي، قد تم حلها مؤقتاً بموجب اتفاقية ممر الحبوب الموقعة بوساطة تركيا. وفقاً للاتفاقية، يمكن تصدير 20 إلى 25 مليون طن من الحبوب المحظورة في أوكرانيا. صادرات الحبوب والأسمدة الروسية التي تم تقييدها بسبب العقوبات المفروضة على روسيا، ستصبح أسهل مرة أخرى.

بعد الاتفاق، كانت الولايات المتحدة في المقام الأول، أعربت الأمم المتحدة وحلف شمال الأطلسي والاتحاد الأوروبي وروسيا عن ارتياحها وشكرت تركيا. وأبرزت تركيا القضية من حيث خطر المجاعة والبعد الإنساني، وحاولت إخفاء دورها السياسي الخاص الذي قدمته أمريكا. إن ما يسمى بالدور السياسي لتركيا، يشمل كونها دولة وسيطة يمكنها من إقامة حوار مع روسيا عندما يكون هناك تطور قد يقطع الخطط والمصالح الأمريكية في عملية الغزو الروسي لأوكرانيا. إن تدخلاتها في سلطتها السياسية فيما يتعلق بأزمة الحبوب والنتائج التي حققتها هي مؤشر واضح على دور تركيا. وقال في تصريحاته "تركيا مستعدة للعب أي دور تستطيعه في تخفيف التوتر بين روسيا وأوكرانيا. نحن نفعل ذلك كحليف لروسيا وأوكرانيا، بالإضافة إلى حقيقة كوننا حليفاً في الناتو". (Turkiye Gazetesi 20.01.2022)، وصرح المتحدث باسم الرئاسة إبراهيم كالين رسمياً بالدور الدولي الممنوح لتركيا خلال خطابه في حلقة نقاش عقدتها مؤسسة فكرية مركزها لندن تسمى سيركل فاونديشن، قبل شهر واحد من الغزو الروسي لأوكرانيا.

في واقع الأمر، مع الاتفاقية الموقعة في إسطنبول بمبادرات تركية، مُنعت روسيا من استخدام قضية الحبوب كورقة سياسية كما فعلت في مسألة النفط والغاز الطبيعي.

على الرغم من أن روسيا صرحت بأنها راضية عن الاتفاقية، إلا أنها ضربت ميناء أوديسا الأوكراني بصواريخ كروز في اليوم التالي، مرسلةً رسالة مفادها أنها ستستخدم قضية الحبوب ورقة رابحة متى شاءت. كم هو مثير للاهتمام أنه بينما كانت وزارة الدفاع التركية تحاول الالتفاف على الموقف بالقول إن روسيا لا تقبل الهجوم على ميناء أوديسا، صرحت روسيا بوضوح أنها نفذت الهجوم. لأن تركيا تعلم أن فشل الاتفاقية سيؤثر على التآزر بين أمريكا وأوروبا. وتعتقد روسيا أنه مع استمرار أزمة الحبوب فإن مشاكل أوروبا الاقتصادية ستزداد أكثر بكثير وبهذه الطريقة ستضغط على أمريكا في مسألة تخفيف العقوبات على روسيا. لأن التضخم الذي ارتفع إلى 9 في المائة في منطقة اليورو يزعج الشعب الأوروبي. لذلك، عبرت روسيا، عن طريق أزمة الحبوب، عن نقاط الضعف التي تعاني منها أوروبا وأظهرت ما يمكن أن تفعله. وبموجب الاتفاقية الموقعة في إسطنبول، ألغت العقوبات المفروضة على الحبوب والأسمدة والمنتجات ذات الصلة إلى جانب الحبوب الأوكرانية.

أما أمريكا فقد فشلت في الوفاء بالتزاماتها تجاه أوروبا مقابل الزحف مع نفسها في الحرب الروسية الأوكرانية. لأن ثمن الحرب الروسية الأوكرانية لا تدفعه الولايات المتحدة، بل دول الاتحاد الأوروبي التي تعتمد على روسيا في مجال الطاقة والغذاء. لهذا السبب، فإن حل أزمة الحبوب مهم لأوروبا لمواصلة التحرك في فلك الولايات المتحدة. ومع ذلك، فمن المؤسف أن تحقق تركيا هذه المصالح المهمة للمستعمر الكافر الأمريكي من خلال الاختباء وراء الحجج الإنسانية. لكن تركيا نفسها لم تتخذ أي إجراء بينما كانت المدن التي يعيش فيها السوريون محاصرة من روسيا الكافرة ونظام الأسد. مرة أخرى، لم تلعب تركيا دورها الحيوي اليوم عندما مات الآلاف من المسلمين في سوريا جوعاً لأنهم لم يتمكنوا من الحصول على الطعام. وكانت مساعدة الأمم المتحدة إرسال أكياس جثث إلى الشعب السوري.

لذا، فإن اتفاقية ممر الحبوب الموقعة في إسطنبول ليست لحماية الناس من خطر المجاعة، ولكن لحماية مصالح أمريكا والغرب الكافر. لأن الدول الرأسمالية لا تفكر أبداً في الإنسانية. في العالم الذي يحكمون فيه اليوم، هناك 821 مليون شخص محكوم عليهم بالجوع. الشيء الوحيد المقدس عندهم هو مصالحهم الاستعمارية وحكمهم الفاسد.

إن الدولة الوحيدة التي تعامل الإنسان بوصفه إنساناً وتنقذ العالم من أزمات مصطنعة خلقها الكفار المستعمرون هي دولة الخلافة الراشدة التي هي علامة الرحمة والازدهار والعدالة.

﴿وَاِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا فِي الْاَرْضِ قَالُٓوا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمد أمين يلدريم

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست