من انتصار ملاذكرد إلى توترات بين تركيا واليونان (مترجم)
من انتصار ملاذكرد إلى توترات بين تركيا واليونان (مترجم)

الخبر:   "ستحصل تركيا على ما هو حق لها في البحر الأبيض المتوسط وبحر إيجة والبحر الأسود. وكما أننا لا نتطلع إلى أراضي أي شخص أو سيادته أو مصالحه، فإننا لن نقدم أبدا أي تنازلات بشأن ما يخصنا أيضا. وتحقيقا لهذه الغاية، نحن مصممون على أن نفعل كل ما يلزم من الناحية السياسية والاقتصادية والعسكرية. ونريد أن يرى الجميع أن تركيا لم تعد بلدا يمكن اختبار صبره أو قراره أو قدراته أو شجاعته". (tccb.gov.tr)

0:00 0:00
Speed:
August 31, 2020

من انتصار ملاذكرد إلى توترات بين تركيا واليونان (مترجم)

من انتصار ملاذكرد إلى توترات بين تركيا واليونان

(مترجم)

الخبر:

"ستحصل تركيا على ما هو حق لها في البحر الأبيض المتوسط وبحر إيجة والبحر الأسود. وكما أننا لا نتطلع إلى أراضي أي شخص أو سيادته أو مصالحه، فإننا لن نقدم أبدا أي تنازلات بشأن ما يخصنا أيضا. وتحقيقا لهذه الغاية، نحن مصممون على أن نفعل كل ما يلزم من الناحية السياسية والاقتصادية والعسكرية. ونريد أن يرى الجميع أن تركيا لم تعد بلدا يمكن اختبار صبره أو قراره أو قدراته أو شجاعته". (tccb.gov.tr)

التعليق:

حقق السلطان ألب أرسلان، أحد القادة البارزين للأمة الإسلامية، انتصار معركة ملاذكرد، أحد أهم الانتصارات في تاريخ الإسلام، على الجيش البيزنطي الذي يبلغ قوامه 200 ألف رجل تحت قيادة رومانوس ديوجينيس في 7 من ذي القعدة 463هـ الموافق 26 آب/أغسطس 1071م. ونظرا لأن هذا الانتصار وقع في منطقة ملاذكرد التابعة لمقاطعة موش في منطقة جنوب شرق الأناضول، يتم الاحتفال سنويا بهذا النصر. وفي احتفال هذا العام، استخدم الرئيس أردوغان هذه التصريحات بشأن التوتر حول حقول النفط والغاز في شرق البحر الأبيض المتوسط بين تركيا واليونان.

وقال مولود جاويش أوغلو، الذي عقد مؤتمراً صحفياً مشتركاً مع وزير الخارجية الألماني هايكو ماس، الذي قدم إلى أنقرة في 25 آب/أغسطس 2020: "إن رفضت، سوف ندافع عن حقوقنا، ارفُض وسوف نقوم بمناورات عسكرية أو إن قمت بخطأ هذه المرة لن نتصرف بلا وعي بل سوف نفعل ما هو ضروري بلا تردد. لذلك، تصرف بعقلانية ولا تنجذب لغوايات هذه الدول". في التصريحات التي أدلى بها كل من أردوغان وجاويش أوغلو، تعتبر تهديداً واضحاً لليونان وموقفاً صريحاً (!) ظاهراً. وفي هذا السياق، نود أن نوضح النقاط التالية:

1- أعلنت اليونان المنطقة الاقتصادية الخالصة فوق جزيرة ميس، التي تبعد مسافة كيلومترين عن تركيا و580 كم عن اليونان، بناء على الاتفاق الذي تم إبرامه مع مصر. ومع ذلك، بعد هدم الخلافة العثمانية، ترك حكام تلك الفترة الذين كانوا خدما للبريطانيين هذه الجزر لليونان. لذلك، ليست هي لليونان ولا لدول الاتحاد الأوروبي، بقيادة ألمانيا وفرنسا، ويجب أن لا ننسى بالتأكيد أنه ليس فقط هذه الجزر، ولكن أيضا الأراضي بأكملها من اليونان إلى فينا هي أراض إسلامية. وبإذن الله، بعد إقامة الخلافة الراشدة، كل هذه الأراضي ستكون مرة أخرى تحت حكم الإسلام.

2- على حكام تركيا الحاليين أن ينظروا إلى هذه المسألة بهذه الطريقة. من مصر إلى الجزائر، أي أبعد نقطة في البحر المتوسط، إلى المغرب وموريتانيا وإسبانيا، كل هذه الأراضي هي أراض إسلامية وتعود إلى الأمة الإسلامية. ليست هناك حاجة للحصول على إذن من دول مثل أمريكا، وبريطانيا وفرنسا أو حتى الجلوس حول نفس الطاولة وإجراء مناقشات من أجل المشاركة في أنشطة التنقيب عن النفط والغاز. وإذا كان أردوغان وجاويش صادقين في تصريحاتهما، فإن تركيا لديها أيضاً القدرة على القيام بذلك.

3- ومع ذلك، لكي تكون تركيا غير قادرة على فعل الأشياء التي ذكرت، يجب عليها أن تترك كل التحالفات التي تخدم القوى الاستعمارية مثل حلف شمال الأطلسي والأمم المتحدة، ويجب أن تبذل كل جهد لإعادة الخلافة الإسلامية. وفي هذه الحالة فقط، سيكون لها رأي ليس فقط في شرق البحر الأبيض المتوسط حيث أعلنت عن نافتكس، ولكن أيضا في جميع الأماكن التي أعلنت فيها المنطقة الاقتصادية الخالصة على أساس الاتفاقات المبرمة مع الوجود اليوناني واليهودي.

4- في هذه المناسبة، نود أن نذكر أردوغان الذي أدلى بمثل هذه الخطب البطولية في ذكرى انتصار ملاذكرد، بموقف السلطان ألب أرسلان تجاه رومانوس ديوجينيس، قائد الجيش البيزنطي الذي تم القبض عليه بعد النصر.

"قال ألب أرسلان لديوجينيس الذي تم إحضاره بالأصفاد في نهاية الحرب: "ماذا كنت تصنع بي لو أسرتني؟" قال: "وهل تشك أنني كنت أقتلك؟"، فقال له ألب أرسلان: "أنت أقل في عيني من أن أقتلك، اذهبوا به، فبيعوه لمن يزيد فيه".

فكان ملك الروم يقاد والحبل في عنقه، وينادى عليه: "مَن يشتري ملك الروم"، وما زالوا كذلك يطوفون به على الخيام، ومنازل المسلمين، وينادون عليه بالدراهم، فلم يدفع فيه أحد شيئاً، حتى جاء رجل وأراد مبادلته بكلبه، فأخذهما الجنود وذهبوا إلى الملك ألب أرسلان، وأبلغه الخبر فقال: "قد أنصفك إن الكلب خير منه". ثم أمر ألب أرسلان بعد ذلك بإطلاقه فذهب إلى القسطنطينية".

وعلى الرغم من وجود تفسيرات أخرى حول هذا الموضوع في كتب التاريخ، إلا أن هذا التقرير صحيح أيضاً. ومع ذلك فإن المهم هنا هو صدق السلطان ألب أرسلان، عبادته وإخلاصه للإسلام ونظرته إلى الكفار. لقد أظهر بوضوح مدى قوة الجيش الإسلامي، حتى وإن كان عددهم قليلاً. انتصار معركة ملاذكرد لا يحتفل به بالخطب البطولية، بل عن طريق وضع أعداء الإسلام في أماكنهم من خلال الجيوش تحت قيادته للجهاد ضد الكفار المتغطرسين.

ومع ذلك فإننا نعتقد أن هذه القوة موجودة في مسلمي اليوم ونحتاج فقط إلى قادة وخلفاء مثل السلطان ألب أرسلان، وصلاح الدين الأيوبي والمعتصم الذين سيظهرون هذه القوة للمستعمرين المتغطرسين مثل فرنسا وأمريكا وروسيا وبريطانيا ويزجون بهم في أماكنهم، وبإذن الله، هذه الأيام قريبة.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمد حنفي يغمور

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست