من أين تأتي كل هذه العنصرية القاتلة؟ بوريس جونسون وأمثاله!!
من أين تأتي كل هذه العنصرية القاتلة؟ بوريس جونسون وأمثاله!!

الخبر: عقب الاحتجاجات العنيفة المستمرة التي وصلت إلى بريطانيا بعد مقتل جورج فلويد في أمريكا، اكتشفت وسائل الإعلام البريطانية مقالا قديماً كتبه رئيس الوزراء الحالي بوريس جونسون عام 2002، والذي يلقي الضوء فيه على العنصرية التي تقتل الكثير من الرجال السود. ووفقاً لصحيفة الإندبندنت في الثالث عشر من حزيران/يونيو، قال بوريس جونسون إن الاستعمار في أفريقيا ما كان يجب أن ينتهي أبداً وقلّل من دور بريطانيا في تجارة الرق.

0:00 0:00
Speed:
June 18, 2020

من أين تأتي كل هذه العنصرية القاتلة؟ بوريس جونسون وأمثاله!!

من أين تأتي كل هذه العنصرية القاتلة؟ بوريس جونسون وأمثاله!!
(مترجم)


الخبر:


عقب الاحتجاجات العنيفة المستمرة التي وصلت إلى بريطانيا بعد مقتل جورج فلويد في أمريكا، اكتشفت وسائل الإعلام البريطانية مقالا قديماً كتبه رئيس الوزراء الحالي بوريس جونسون عام 2002، والذي يلقي الضوء فيه على العنصرية التي تقتل الكثير من الرجال السود. ووفقاً لصحيفة الإندبندنت في الثالث عشر من حزيران/يونيو، قال بوريس جونسون إن الاستعمار في أفريقيا ما كان يجب أن ينتهي أبداً وقلّل من دور بريطانيا في تجارة الرق.

التعليق:


قبل ذلك بساعات فقط، قتلت الشرطة رجلاً أسود في أتلانتا غير جورج فلويد: رجلاً آخر أسود. أصيب برصاصة في ظهره أثناء هروبه من الشرطة بدون أن يرتكب أي جريمة باستثناء النوم في سيارته، التي كانت متوقفة خارج المطعم، احتفل بعيد ميلاد ابنته قبل ساعات وأمل أن يقضي معها اليوم التالي. اقترب منه الضباط ووجدوه بكامل وعيه وغير مسلح وهادئ في البداية، ولكن بعدما اعتقلوه للاشتباه في شرب الخمر أصبح مضطرباً وتصارع مع الضباط. بعد لحظات، توفي رجل أسود آخر على يد ضابط قال بفخر، "لقد تمكنت منه"...


لماذا حياة السود رخيصة جداً في أمريكا؟ من أين أتت كل هذه الكراهية؟ إنه ليس أمراً فريداً بالنسبة لأمريكا، ولكن أمريكا تحمل السلاح كرمز للحرية المنصوص عليها في دستورها مما أدى إلى عسكرة الشرطة. هذه الكراهية هي غطاء للذنب، وقد عبّر بوريس جونسون في مقالته عام 2002 لمجلة سبيكتاتور الاستعماري يجسدها جونسون في رحلته إلى أفريقيا كوزير للخارجية، عبر عن انزعاجه من الوضع الذي تعيشه القارة، حيث كتب: "لكنها ليست وصمة عار علينا. لا تكمن المشكلة في أننا كنا مسؤولين مرة واحدة، ولكن أننا لم نعد مسؤولين أبدا".


وفقاً لجونسون، كانت أوغندا في حاجة إلى بريطانيا لإنقاذها من "العبيد العرب" وأسوأ من ذلك حسب قوله: "أن ثمرة جاك، المعلقة أكبر من رأسك ومغطية بعقد رباعية السطوح الخضراء" وصفها بـ"مقرفة بشكل أو بآخر"، وبالتالي يبرر بهذا مزارع البن والقطن والتبغ البريطانية. لا يكتفي جونسون بوصفه أنه أنقذ السود من ثمرة جاك المزعجة، التي لا يريد الرجال البيض شراءها، ولكن يوجه جونسون غضبه على حبهم لفاكهة خبيثة أخرى: الموز. وقال "إذا اعتمدوا على أنفسهم، فلن يحصل السكان الأصليون على شيء سوى إشباع أنفسهم من الكربوهيدرات الموجودة في الموز. على الرغم من أن السكان كانوا يستمتعون به، رأى المستعمرون أن سوق التصدير كانت محدودة". بعد أن وصف جونسون السكان بالغباء وإدمانهم على الكربوهيدرات، انتقل إلى مجاز استعماري مشترك آخر، قائلا "يتنقل الناس على دراجات سوداء كبيرة". قاصدا أن الأوغنديين لم يتطوروا من الناحية التكنولوجية لصنع دراجاتهم الخاصة، ولكن المعنى الضمني لهذا هو أن هؤلاء السود كسالى. غير وصفه لنا بالغباء والإدمان والكسل يظهر أن السود جماعة اغتصاب وقتل، حيث قال، "أخبرني أحدهم كنا نغتصب، وكنا نقتل"، وقيم أحد الرجال البيض الناس جميعهم بالفساد: "كما قال أحد المسؤولين البريطانيين، "لقد كنت في أفريقيا منذ زمن بعيد، وهناك شيء واحد لم أستطع فهمه، لماذا يعاملون بعضهم البعض بوحشية شديدة؟"


سيكون من السهل على الأفريقي أن يقارن عكسيا نفس المقارنة من خلال فحص انتقائي للتاريخ الأوروبي الأبيض. ألا يوجد نقص في الغباء والكسل عندهم؛ عندما يستلقي صفوف من الناس تعرض جسمها للسرطان الذي يسببه الأشعة فوق البنفسجية بتعرضهم لساعات على شاطئ مشمس. وهل عدم إدمانهم سبب لهم السمنة الوبائية واستهلاك الطعام غير المرغوب فيه للتغلب على "إشباع الكربوهيدرات الفوري من الموز". وبالنسبة للقتل والاغتصاب: هذا أمر طبيعي يومي، بينما في الحرب يمكن ذكر سربرينيتشا، والحرب الأهلية الإسبانية، والحرب الأهلية الأمريكية أو أوشفيتز على سبيل المثال. مثل هذه المقارنات تحاكي عبث المبررات الاستعمارية التي لا تزال آثارها منتشرة للغاية.


سُلبت كرامة ونبل السود في الأدب الاستعماري للسماح للرجل الأبيض الاستعماري بالعيش مع جرائمه الشنيعة. بعد قرنين من الإلغاء القانوني للعبودية في الولايات المتحدة، لا تزال العنصرية الوحشية التي دعمها تصيب وتفسد تلك الأمة كما تفعل الدول الاستعمارية الأخرى التي بنت ثروتها على القمع. هذه حقيقة تبين أن المملكة المتحدة التي لديها رئيس وزراء تبنى دون خجل مثل هذه الآراء لن تهتم لضباط شرطة يفرغون أسلحتهم دون تفكير في ظهور رجال سود يعيشون يومياً حالة خوف من المضايقة أو القتل في أمريكا.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
د. عبد الله روبين

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست