من جديد أمريكا "تلقي عَظْمَةً" لتركيا! (مترجم)
من جديد أمريكا "تلقي عَظْمَةً" لتركيا! (مترجم)

الخبر:   اجتمعت مجموعة العمل التركية الأمريكية رفيعة المستوى بشأن سوريا للمرة الثالثة في أنقرة. وقد اجتمعت المجموعة التي ضمت مسؤولين رفيعي المستوى من وزارتي الخارجية والدفاع الوطني التركية ووزارتي الخارجية والدفاع الأمريكية سويا لمواصلة المفاوضات المتعلقة بتعزيز الاستقرار والأمن في سوريا. وأكدت التصريحات التي أدلى بها وزير الشؤون الخارجية بشأن الاجتماع بأن كلا الطرفين أكدا على وفائهم بسيادة واستقلال ووحدة وسلامة أراضي سوريا كما تم التأكيد على أنهم سيمضون قدما في اتجاه لا رجعة فيه مع الحل السياسي الذي يتماشى والقرار رقم 2254 للأمم المتحدة الخاص بالنزاع السوري. (تركي غازيت)

0:00 0:00
Speed:
December 11, 2018

من جديد أمريكا "تلقي عَظْمَةً" لتركيا! (مترجم)

من جديد أمريكا "تلقي عَظْمَةً" لتركيا!

(مترجم)

الخبر:

اجتمعت مجموعة العمل التركية الأمريكية رفيعة المستوى بشأن سوريا للمرة الثالثة في أنقرة. وقد اجتمعت المجموعة التي ضمت مسؤولين رفيعي المستوى من وزارتي الخارجية والدفاع الوطني التركية ووزارتي الخارجية والدفاع الأمريكية سويا لمواصلة المفاوضات المتعلقة بتعزيز الاستقرار والأمن في سوريا. وأكدت التصريحات التي أدلى بها وزير الشؤون الخارجية بشأن الاجتماع بأن كلا الطرفين أكدا على وفائهم بسيادة واستقلال ووحدة وسلامة أراضي سوريا كما تم التأكيد على أنهم سيمضون قدما في اتجاه لا رجعة فيه مع الحل السياسي الذي يتماشى والقرار رقم 2254 للأمم المتحدة الخاص بالنزاع السوري. (تركي غازيت)

التعليق:

إن معنى مصطلح "إلقاء عظمة" هو "تعطيل شخص ما لبعض الوقت بمعسول الكلام" لتحقيق ما ترنو إليه، "لإنجاز مهمتك" عبر الخداع وإعطاء بعض الأمل.

وها هي أمريكا "تلقي عظمة" لحكومة أنقرة، ووسائل الإعلام التابعة للحكومة تضلل المجتمع كما لو أن المكاسب الأمريكية التي يُظهرونها هي مكاسبنا الخاصة. ومع ذلك، وبالنظر إلى محتوى الاجتماع والاتفاقات المكتسبة، فإن من السهل ملاحظة أنها مجرد مكاسب يحققها جانب واحد، وفي النهاية هناك من "يلقي العظمة" أمام تركيا.

ولبحث التصريحات التي خرج بها الاجتماع:

  • تم التأكيد على القرار رقم 2254 لمجلس الأمن التابع للأمم المتحدة. إذن ماذا يعني هذا؟ يعني بأن تكون عملية الانتقال السياسي في ظل القيادة السورية ما يعني أن نظام القتل سيستمر في إدارة شؤون البلاد.
  • تم وضع شروط تقضي بأن تكون هناك مكافحة (للإرهاب) بكل أنواعه وضد تفشيه. ماذا يعني هذا؟ كل شيء أو أحد يقف ضد المشروع الأمريكي في سوريا يندرج تحت قائمة (الإرهاب). بمعنى آخر، هذا هو الشيء نفسه الذي قاله الأسد في بداية الثورة السورية: "أنا أحارب الإرهاب". أين نقف نحن الآن؟!! كل من يقف ضد مشروع أمريكا أو النظام يعتبر (إرهابياً)، وقد اتفقت أمريكا وتركيا على القتال معا على هذه الجبهة.
  • تم تقديم تحسينات عاجلة وملموسة فيما يتعلق بخارطة طريق منبج بحلول نهاية العام. حسنا، ماذا يعني هذا؟ هذا هو "العظم الذي يُلقى" أمام حزب العدالة والتنمية. منبج على جدول أعمال تركيا منذ فترة طويلة. في السابق، ولأن "العفو العام"، "الخدمة العسكرية المدفوعة" و"العملية الجوية في قنديل" لم يكن لها أثر قبل الانتخابات الرئاسية، أفادت تركيا وأمريكا أنهما كانتا ستقومان بدوريات حراسة معا في منبج. وقد تم تضخيم هذا الوضع لتحقيق مكاسب في الانتخابات. في الواقع، تقوم أمريكا بدوريات مع PYD على جانب واحد من نهر الفرات، وعلى الجانب الآخر مع تركيا. ويبدو أنه قبل الانتخابات المحلية، ستستخدم منبج كأداة من جديد. ولا يهم ما إذا قامت أمريكا بدوريات الحراسة مع حزب الاتحاد الديمقراطي PYD أو تركيا في سوريا، فإن الضرائب كلها ستكون أمريكية على أي حال وبكل طريقة. ومن خلال "إلقاء العظام"، فإن أمريكا ستقنع بسهولة حزب العدالة والتنمية، وستجعله في صفها ليفعل ما تشاء. وفي هذه الأثناء، لن تتخلى أمريكا عن PYD ولا عن تركيا، بل ستستغلهما فقط لتحقيق هدفها الجميل.
  • توصلت تركيا وأمريكا إلى شروط المشاركة في توفير الأمن الذي يُلزم كلا البلدين كحليف. ومع ذلك، يبدو أن الأسلحة الأمريكية وجميع أنواع الأهداف اللوجيستية لـ PYD لا تشكل تهديداً أمنياً لتركيا. لأن اسم PYD لم يذكر في البيان على الإطلاق. وفي هذه الحالة، على PYD أن يتناسب فحسب مع معايير كونه "حليفاً" ليتلقى مساعدات السلاح...
  • من المتفق عليه أن يكون هناك المزيد من اجتماعات مجموعة العمل فيما يتعلق بالشأن السوري. إن موضوع جعل الاجتماعات أكثر تكرارا يوضح الصلة مع البيان الذي صرح به المستشار الخاص لوزير الخارجية الأمريكي لشؤون التسوية في سوريا جيمس جيفري، والذي يتعلق بإلغاء مفاوضات أستانة. وهذا يشبه ما فعله زعيم حزب الشعب الجمهوري كمال كيليتشدار أوغلو مع محرم إينجه عندما أعلن أنه مرشح للانتخابات الرئاسية بقوله: "تعال محرم تعال" ومع أمريكا قائلا لحزب العدالة والتنمية "تعال إلى هنا" من خلال الإشارة إلى جنيف.

ونتيجة لذلك، فإن التوصل إلى اتفاق مع أمريكا من أجل تركيا أو الشعب التركي أو الشعب السوري لن يكون لتحقيق مصالح لهم. واليوم، تحت اسم "مكافحة الإرهاب"، قتل ويقتل الآلاف من المسلمين. فمن المستفيد من ذلك؟ ومن الذي استفاد من سعي تركيا لتحقيق الانسجام بين روسيا وإيران؟ ومن الذي جنى مصلحة عندما دعمت تركيا التحالف الذي أسسته أمريكا؟ ومن الذي استفاد من إعادة قاعدة إنجرليك للخدمة؟ ومن الذي استفاد من عمليات درع الفرات وغصن الزيتون العسكريتين؟ ومن جديد، من الذي حقق مصلحة من مؤتمرات أستانة وجنيف؟

إذا كانت السياسات التي تنتهجها تتوافق مع مصالح أمريكا، فهذا يعني أنك لا تحمل أية سياسات على الإطلاق. إن مصالح أمريكا والمسلمين لا يمكن أن تلتقيا أبداً. وما يسمى بـ"المصالح المشتركة" ليست سوى كذبة. إن أمريكا دولة استعمارية، عدوة للإسلام والمسلمين ولا تلقي بالا أبدا إلا لمصالحها الخاصة.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عثمان أبو أروى

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست