من كان بيته من زجاج فلا ينبغي أن يلقي الحجارة على الناس
من كان بيته من زجاج فلا ينبغي أن يلقي الحجارة على الناس

الخبر:   الجزيرة، الرابع والعشرين من تموز/يوليو 2016 - نقل مراسل الجزيرة عن مصدر في مدينة ميونيخ بجنوب ألمانيا أن ثمانية من ضحايا الهجوم المسلح الذي استهدف مركزا للتسوق الجمعة مسلمون وأن التاسع إيطالي، ولم تكشف السلطات الألمانية عن جنسيات كل الضحايا، لكنّ تركيا وجمهورية كوسوفو قالتا إن بعض رعاياهما قتلوا في الهجوم.

0:00 0:00
Speed:
July 25, 2016

من كان بيته من زجاج فلا ينبغي أن يلقي الحجارة على الناس

من كان بيته من زجاج فلا ينبغي أن يلقي الحجارة على الناس

الخبر:

الجزيرة، الرابع والعشرين من تموز/يوليو 2016 - نقل مراسل الجزيرة عن مصدر في مدينة ميونيخ بجنوب ألمانيا أن ثمانية من ضحايا الهجوم المسلح الذي استهدف مركزا للتسوق الجمعة مسلمون وأن التاسع إيطالي، ولم تكشف السلطات الألمانية عن جنسيات كل الضحايا، لكنّ تركيا وجمهورية كوسوفو قالتا إن بعض رعاياهما قتلوا في الهجوم.

وقال رئيس مكتب مكافحة الجريمة في الولاية إن المواد التي عثر عليها في منزل المسلح أظهرت أنه كان يمارس ألعاب الفيديو العنيفة كثيرا، واشترى السلاح الذي استخدمه في الهجوم من الإنترنت عبر موقع لا يمكن زيارته إلا عن طريق برمجيات خاصة.

وأضاف أن المهاجم أطلق نحو ستين رصاصة من مسدسه، لافتا إلى أنه تم اكتشاف 57 ثقبا في مسرح الجريمة يمكن أن تنسب بشكل واضح إلى سلاح الجريمة.

التعليق:

لقد ازدادت أعمال العنف ضد المدنيين في الآونة الأخيرة في أوروبا وأمريكا. وتلك الهجمات التي يقوم بها أناس مولعون بالقتل أمثال بريفيك النرويجي ومعجبوه من أمثال منفذي الهجوم في ألمانيا والمدارس في أمريكا وحتى في السويد. تدل دلالة واضحة على أن الحرب الإعلامية التي يشنها الغرب ضد المسلمين ما هي إلا كذب ومحض افتراء.

فغالبا ما توجه أصابع الاتهام إلى المسلمين في حال وقوع أي أعمال ضد المدنيين في أوروبا أو أمريكا إلى حد أن أصبح معلوما في وسائل الإعلام أن أي عمل إرهابي يحصل ضد المدنيين في أوروبا أو أمريكا هو من صنع المسلمين حتى يثبت العكس. وبات على المسلمين الذين يعيشون في أوروبا وأمريكا أن يستنكروا أي عمل مدني يحدث حتى قبل أن تظهر نتائج التحقيق في هذه الجرائم. وإذا تبين بعد إجراء التحقيقات أن هذه الأعمال ليس لها علاقة بالمسلمين ولا بالإسلام من قريب أو بعيد تم إخماد الأمر بحجة أن المتهم الذي قام بهذه الجرائم مريض نفسي وأنه بحاجة لعلاج في مستشفى الأمراض العقلية. وكأن الإرهاب مقتصر على المسلمين! وكأن الأمراض النفسية والعقلية لا يصاب بها إلا الغربيون!

ومع ازدياد وتيرة الأعمال العدائية ضد المدنيين في أوروبا وأمريكا في الأسواق والمدارس والقطارات التي تبين أنها أعمال يقوم بها أوروبيون وأمريكان ليس لهم علاقة من قريب أو بعيد بالإسلام والمسلمين، لقد بات واضحا كذب ودجل الحملات التي تسوقها وسائل الإعلام الغربية ضد الإسلام والمسلمين في العالم عامة والمسلمين في أوروبا وأمريكا خاصة.

والحقيقة أن المسلمين يعلمون جيدا حرمة الدم المعصوم وحرمة حياة الناس وأعراضهم وأموالهم. فقد علمنا الإسلام حرمة التعدي على أرواح وأعراض وممتلكات المدنيين في الوقت الذي كانت أوروبا تعتبر المزارع والمرأة أدنى مرتبة من الحيوانات والأدوات التي تستخدم في المزارع والحقول وصدق القائل "من كان بيته من زجاج فلا ينبغي أن يلقي الحجارة على الناس".

وهنا لا بد من وقفة مع المسلمين في العالم عامة ومسلمي الغرب خاصة. علينا بصفتنا مسلمين أن نتوقف عن التعامل مع الأحداث بوصفنا ضحايا، ينبغي علينا نحن المسلمين أن نتوقف عن حالة الدفاع وأن نتصدى لكافة السياسات التي من شأنها شيطنة المسلمين ووصفهم بالإرهاب والتطرف والأصولية. ينبغي علينا أن ندرك أن هناك سياسات غربية تعزز من قدرات بعض الأحزاب الوطنية في البلاد على تكوين أجواء معادية للأجنبي عامة والمسلم خاصة. وكل من يعيش في أوروبا وأمريكا يدرك هذه الحقيقة خاصة في أوروبا، فقد أصبح الأجنبي هو المسؤول عن نقص المساكن وعن ازدياد أعداد الطلاب في الصفوف والمدارس وعن ارتفاع أسعار البيوت والخدمات وأصبح الأجنبي مسؤولا عن نقص الوظائف وحالات العطالة بين أبناء البلاد الأصليين. ولهذا أصبح الأجنبي في الغرب ومن بينهم المسلمون هناك هم المسؤولين عن كل الأمور البشعة التي تحدث في البلاد.

وهذه السياسة التي انتهجتها الدول الغربية ضد الأجانب والمسلمين خاصة هناك أدت إلى وجود طبقة من أبناء البلاد في أوروبا وأمريكا يريدون الخلاص من كل شيء أجنبي موجود في البلاد ما أدى إلى انتهاج البعض أعمالاً وجرائم ضد الأجانب عامة وضد الجاليات المسلمة خاصة.

وأما بالنسبة لنا نحن المسلمين فإننا لم نوجد في أمريكا وأوروبا بسبب حبنا للغربة وإنما النسبة الأكبر من المغتربين في أوروبا وأمريكا جاؤوا بسبب سياسات الظلم والقهر التي يمارسها الحكام في بلاد المسلمين.

ولا ننسى أيضا أن حكام المسلمين الفاسدين المجرمين قد وصلوا إلى الحكم بدعم الغرب لهم، ولذلك فإن وجودنا في أوروبا وأمريكا هو أيضا من سياسات الدول الغربية المعادية للإسلام والمسلمين.

هذه بعض الحقائق وليس كلها التي من شأنها أن تجعل المسلم يخرج من حالة الشعور بأنه متهم وضحية إلى حالة من الشعور بالواجب والوقوف بصورة واعية للدفاع عن دينه وأمته. فنحن أمة ذات رسالة قد علمنا الإسلام معنى وأهمية صون روح الإنسان وعرضه وماله. علينا أن لا نسمح لوسائل الإعلام الغربية بأن تصورنا وكأننا عصابة مجرمة إرهابية تقف وراء كل ما هو قبيح، فنحن أمة عزيزة عريقة جار عليها حكامها ورؤساؤها وستعود إلى عزها من جديد قريبا بإذن الله.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

الدكتور فرج أبو مالك

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست