من شريعة الغاب إلى شريعة الغاب
من شريعة الغاب إلى شريعة الغاب

أصدرت أسرة أحمد محسن الحاج بياناً يوم 2016/12/20م قالت فيه "في حادثة بشعة هزت بني مطر ومحافظة صنعاء قامت مليشيات الحوثي بتصفية الأستاذ التربوي والأمين الشرعي لوادي بقلان في مديرية بني مطر بمحافظة صنعاء أحمد محسن الحاج...

0:00 0:00
Speed:
December 23, 2016

من شريعة الغاب إلى شريعة الغاب

من شريعة الغاب إلى شريعة الغاب

الخبر:

أصدرت أسرة أحمد محسن الحاج بياناً يوم 2016/12/20م قالت فيه "في حادثة بشعة هزت بني مطر ومحافظة صنعاء قامت مليشيات الحوثي بتصفية الأستاذ التربوي والأمين الشرعي لوادي بقلان في مديرية بني مطر بمحافظة صنعاء أحمد محسن الحاج الذي اختطفته المليشيات في 2016/9/6م من منزله في المحجر بشملان واختطفت معه نجله الأكبر أحمد وزوجة نجله التي لم تطلقها إلا الساعة الثانية بعد منتصف الليل في مخالفة للأعراف والتقاليد والشرائع، ومنذ ذلك التاريخ لم تعرف أسرتهما عنهما شيئا إلا يوم 12/17 حين أبلغتهم المليشيات بمقتله وطلبت منهم استلام جثته. وقد قامت المليشيات بتعذيبه بشكل وحشي منذ اختطافه لمدة شهرين كاملين إلى يوم السادس من تشرين الثاني/نوفمبر حين قامت بتصفيته بإطلاق الرصاص عليه لتستمر بعدها عملية ابتزاز أهله بوعود كاذبة حتى أبلغتهم بمقتله في السابع عشر من كانون الأول/ديسمبر وطلبت منهم دفنه ودفن قضيته معه دون مراعاة لشرع أو قانون.

التعليق:

الأستاذ أحمد محسن الحاج هو آخر شخص أعلن عن وفاته حتى الآن على يد زبانية الحوثيين بعد اعتقاله، وكم من الناس اعتقلوا وعذبوا وقتلوا في سجون الحوثيين ولم يتم الإعلان عنهم. وأي جرم ارتكبه حتى يكون مصيره القتل؟ ولماذا في غياهب السجون بعيداً عن عيون الناس وليس في وضح النهار على رؤوس الأشهاد؟ ومن متى يتم اعتقال النساء وإخفاؤهن بهذا الشكل؟

بالأمس القريب قبل 2014/09/21م كان الحوثيون يشكون مما يلاقونه من مثل هذه التصرفات على يد جلاوزة النظام السابق من أعمال الخطف والتعذيب والقتل خارج إطار الشرع والقانون، واليوم يمارسون نفس الأعمال وهم مرتاحون بدليل أن أعداد من يختطفون ويزج بهم في غياهب السجون ويمارس التعذيب النفسي والجسدي بحقهم ويقتلون لا يزالون يوماً عن يوم في ازدياد، ولم نر توجيه اتهام ولا محاسبة لأحد ممن يقومون بتلك الأعمال القذرة ولم تنزل عقوبة بأحد ممن يقومون بتلك الممارسات، على العكس يشجعون ويثنى على أعمالهم المستمرة حتى الآن ولم تتوقف.

إن من رفع شعار الثورة ولا يزال يسمي 2014/09/21م ثورة، عليه أن يتوقف عن ممارسة أعمال الخطف والقتل التي تتم في إطار قانون الغاب لأن "ثورته" ليس سوى مجرد استمرار لذلك القانون ومباركة له. وإن عليه أن يستحيي مما يفعل قبل أن يحق للناس القول بحديث النبي صلى الله عليه وسلم «إذا لم تستح فاصنع ما شئت».

كيف تكون مسيرة قرآنية وهي لا تهتم لدماء الناس التي تراق هنا وهناك دونما أدنى اعتبار لحرمة إراقتها، أيعقل أنهم لم يسمعوا حديث النبي صلى الله عليه وسلم «لهدم الكعبة حجراً حجراً أهون عند الله من إراقة دم امرئ مسلم»؟ ولا لأعراضهم؟

إننا نرى القتل يستحر في اليمن لمن يقولون لا إله إلا الله محمد رسول الله وينجو منه الأمريكان واليهود وأمثالهم ممن تمتلئ الشعارات بالموت لهم!!

في العدل والحق الأصل في الإنسان براءة الذمة حتى يقدم على عمل يجعله محل اتهام ومحاكمة وعقوبة، وحين يقدم على فعل إجرامي فقد استوجب توقيفه والادعاء عليه وعرض البينات والقرائن التي تؤيد ذلك لمحاكمته في محكمة أمام قاضي، وإعطاؤه حق الرد بنفسه أو عن طريق محام لدفع ما وجه إليه من اتهام، والاستماع لشهادة الشهود حتى يصدر القاضي حكم المحكمة جزاء لما اقترفه من جرم أو تبرئته وإخلاء سبيله. وليس العكس في أنه متهم وأن عليه دفع الاتهام عن نفسه!!

إن صاحب التغيير حتى يكون حقيقياً صادقاً لا مدعياً، عليه أن يعرض أفكاره في التغيير على الناس حتى يعرفوها ولا يجهلوها، قبل قيامه بالتغيير ومن ثم جعلها محل التطبيق عند قيامه بالتغيير، وإلا كان مدعياً ليس إلا.

لقد ثرتم بالأمس على من تشاركونه الظلم اليوم، وإن كنتم وقعتم اتفاق السلم والشراكة مع غيره عند دخولكم صنعاء برعاية الأمم المتحدة.

هذا نداء موجه للحوثيين عامة وللمخلصين منهم خاصة صغاراً وكباراً رجالاً ونساءً هل ترضون مثل هذه الأعمال؟ وأن لا يجعلوا من أنفسهم أدوات للقيام بأعمال لا تمت للإسلام بصلة وينطبق عليهم قوله تعالى: ﴿قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالأَخْسَرِينَ أَعْمَالاً * الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا﴾.

إن ما يحتاجه المسلمون اليوم والعالم كله هو القضاء على ظلم وفساد النظام الرأسمالي الذي سام العالم سوء العذاب، لا تكريسه وإقامة الحق والعدل بتطبيق الإسلام في ظل دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة يسعد الناس مسلمون وغير مسلمين بعودتها من جديد بعد غياب جاوز التسعين سنة.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

المهندس: شفيق خميس – اليمن

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست