من سيوفر ملجأ حقيقياً لمسلمي الروهينجا اليائسين؟
من سيوفر ملجأ حقيقياً لمسلمي الروهينجا اليائسين؟

الخبر:   في الرابع من حزيران/يونيو، جرف قارب يحمل 81 لاجئاً من الروهينجا، بينهم 49 امرأة و11 طفلاً، على شواطئ جزيرة إيدامان، قبالة ساحل مقاطعة أتشيه الإندونيسية، بعد أن انجرف لأكثر من 100 يوم في البحر. وتوفي تسعة على متن القارب خلال رحلته الخطرة. لقد غادر مسلمو الروهينجا اليائسون مخيمات اللاجئين المكتظة والقذرة والمليئة بالأمراض في بنغلادش بحثاً عن حياة أفضل في بلد مجاور. ومع ذلك، فقد مُنعوا من دخول الهند وماليزيا والعودة إلى بنغلادش. بعد الوصول إلى الجزيرة الإندونيسية، أفيد أيضاً أن الشرطة المحلية حثت اللاجئين على العودة إلى قاربهم ومغادرة المياه الإندونيسية، لكنهم رفضوا. وهم ينتظرون الآن قرار السلطات الإندونيسية لتقرير مصيرهم، فيما إذا كان بإمكانهم البقاء أو إعادتهم إلى البحر. حتى لو حصلوا على إذن بدخول البلاد، فلن يُسمح لهم بالعمل أو الاستقرار بشكل دائم وفقاً للسياسات والقوانين القومية اللاإنسانية التي ينفذها النظام الإندونيسي.

0:00 0:00
Speed:
June 13, 2021

من سيوفر ملجأ حقيقياً لمسلمي الروهينجا اليائسين؟

من سيوفر ملجأ حقيقياً لمسلمي الروهينجا اليائسين؟

(مترجم)

الخبر:

في الرابع من حزيران/يونيو، جرف قارب يحمل 81 لاجئاً من الروهينجا، بينهم 49 امرأة و11 طفلاً، على شواطئ جزيرة إيدامان، قبالة ساحل مقاطعة أتشيه الإندونيسية، بعد أن انجرف لأكثر من 100 يوم في البحر. وتوفي تسعة على متن القارب خلال رحلته الخطرة. لقد غادر مسلمو الروهينجا اليائسون مخيمات اللاجئين المكتظة والقذرة والمليئة بالأمراض في بنغلادش بحثاً عن حياة أفضل في بلد مجاور. ومع ذلك، فقد مُنعوا من دخول الهند وماليزيا والعودة إلى بنغلادش. بعد الوصول إلى الجزيرة الإندونيسية، أفيد أيضاً أن الشرطة المحلية حثت اللاجئين على العودة إلى قاربهم ومغادرة المياه الإندونيسية، لكنهم رفضوا. وهم ينتظرون الآن قرار السلطات الإندونيسية لتقرير مصيرهم، فيما إذا كان بإمكانهم البقاء أو إعادتهم إلى البحر. حتى لو حصلوا على إذن بدخول البلاد، فلن يُسمح لهم بالعمل أو الاستقرار بشكل دائم وفقاً للسياسات والقوانين القومية اللاإنسانية التي ينفذها النظام الإندونيسي.

التعليق:

في هذه الأثناء، وفي الأول من حزيران/يونيو، تعرض مسلمو الروهينجا في جزيرة باسان شار المهجورة التي نقلهم إليها نظامُ بنغلادش من مخيم كوكس بازار للاجئين، تعرضوا للضرب على أيدي شرطة بنغلادش أثناء محاولتهم الاحتجاج على ظروفهم المعيشية المروعة أمام مسؤولي الأمم المتحدة خلال زيارة المستوطنة. وقالت المفوضية السامية للأمم المتحدة لشؤون اللاجئين في بيان إنها تلقت تقارير عن وقوع إصابات خلال الحدث، من بينهم نساء وأطفال.

باسان هي جزيرة طينية معرضة للأعاصير والفيضانات في خليج البنغال حيث يعيش اللاجئون الروهينجا في ظروف شبيهة بالسجن مع إمكانية الوصول إلى المواد الغذائية الأساسية فقط التي لا تشمل الخضروات أو اللحوم أو الأسماك، وبدون إمكانية الوصول إلى العمل أو المرافق مثل المدارس المناسبة وتوفير الرعاية الصحية.

نقلت سلطات بنغلادش بالفعل 18000 من الروهينجا إلى الجزيرة من مخيمات اللاجئين في البر الرئيسي، من أصل 100000 مخطط لها، مع وعود بأنهم سيكونون قادرين على العمل والزراعة والصيد في موقعهم الجديد الذي تبين أنه كذبة مطلقة. يمكن تقدير حجم ظروفها الفظيعة من خلال حقيقة أن سكان الجزيرة قد وصفوا الحالة الضيقة والقذرة لمخيم كوكس بازار للاجئين في البر الرئيسي لبنغلادش، وهو موطن لحوالي مليون لاجئ من الروهينجا، بأنه أفضل ألف مرة من باسان شار. تم إلقاء القبض على العديد من اللاجئين وضربهم لمحاولتهم مغادرة الجزيرة، بما في ذلك النساء والأطفال، كما وردت أنباء عن التعذيب والانتهاكات على أيدي القوات البنغالية في الجزيرة. وفقا لهيومن رايتس ووتش، تمت معاقبة الأطفال لمجرد خروجهم من المناطق المخصصة لهم. وفي نيسان/أبريل من هذا العام، على سبيل المثال، أفيد أن بحاراً من بنغلادش ضرب 4 أطفال من الروهينجا بأنبوب بلاستيكي لأنهم تركوا أماكنهم للعب مع الأطفال اللاجئين في منطقة أخرى.

إن معاناة وبؤس ويأس مسلمي الروهينجا لا هوادة فيها. لم يتم تصنيفهم على أنهم عديمو الجنسية فحسب لأنهم حُرموا من الجنسية في ميانمار، وهي الأرض التي كانوا يعيشون فيها هم وعائلاتهم منذ أجيال، ولكن لا توجد أرض اليوم حيث يمكنهم التمتع بحياة كريمة محمية؛ لا أرض مستعدة أن تقدم لهم ملاذاً كريماً؛ لا أرض حيث يمكنهم الاتصال بالمنزل. هؤلاء هم المسلمون الذين عانوا بالفعل من أفظع الجرائم التي لا توصف كضحايا للإبادة الجماعية، وهو ما وصفته الأمم المتحدة بأنه "نموذج مثالي للتطهير العرقي". ومع ذلك، وبدلاً من الترحيب بهم باعتبارهم إخوتهم وأخواتهم المسلمين ومنحهم مكاناً آمناً للعيش والازدهار كما أمر الله تعالى، فإن هذه الأنظمة عديمة الإنسانية القائمة في بلاد المسلمين، تعتبرهم بمثابة عبء على اقتصادهم ومطاردة هؤلاء المسلمين الروهينجا اليائسين من شواطئهم، ووضعهم في معسكرات الموت، أو حرمانهم من الحقوق الأساسية، على الرغم من أن الرسول ﷺ قال بوضوح: «الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ».

اليوم، في ظل غياب نظام الخالق؛ الخلافة على منهاج النبوة، وصي ودرع المؤمنين ومسلمي الروهينجا وغيرهم من المسلمين الفارين من الإبادة الجماعية والاضطهاد كما في سوريا وتركستان الشرقية، تواجه احتمال عيش حياة بائسة دائمة تحت شعار "وضع اللاجئ"، مرفوضاً من الأراضي التي يبحثون فيها عن ملاذ، وبدون منزل حقيقي يمكن أن يشعروا فيه بالرعاية والأمان. أما الخلافة فهي دولة تنبذ القومية وترفضها، فقد قال النبي ﷺ: «لَيْسَ مِنَّا مَنْ دَعَا إِلَى عَصَبِيَّةٍ وَلَيْسَ مِنَّا مَنْ قَاتَلَ عَلَى عَصَبِيَّةٍ وَلَيْسَ مِنَّا مَنْ مَاتَ عَلَى عَصَبِيَّةٍ». بدلاً من ذلك، ستوفر حقوق التابعية المتساوية لأولئك الذين يرغبون في العيش تحت حكمها، بغض النظر عن المعتقد الديني أو العرق أو الإثنية، كما يوجب الإسلام الترحيب بأولئك الذين يطلبون اللجوء داخل أراضيها، ومعاقبة أولئك الذين يسيئون معاملتهم، وتوحيد وإيجاد الانسجام بين مختلف الشعوب في مجتمعه من خلال سياسته الداخلية الإسلامية التي هي مثال للإنسانية. ولهذا ليس من المستغرب أن يكتب الكاتب البريطاني إتش جي ويلز عن الخلافة: "لقد أسسوا تقاليد عظيمة من التسامح العادل. إنها تلهم الناس بروح الكرم والتسامح، وهي إنسانية وعملية. لقد أنشأوا مجتمعاً إنسانياً كان من النادر رؤية القسوة والظلم الاجتماعي فيه، على عكس أي مجتمع جاء قبله". بعد أن فهمنا كل هذا، أليست إقامة هذه الدولة حاجة ملحة في عصرنا؟

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. نسرين نوّاز

مديرة القسم النسائي في المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست