من ذاب في حضارة الغرب وقَبِلَ بالمثلية الجنسية مرحَّبٌ به تحت حكم آل سعود بل مصدر إلهام!
من ذاب في حضارة الغرب وقَبِلَ بالمثلية الجنسية مرحَّبٌ به تحت حكم آل سعود بل مصدر إلهام!

ﺍﻟﺨﺒﺮ: استقبل الأمين العام لرابطة العالم الإسلامي رئيس هيئة علماء المسلمين الشيخ الدكتور محمد بن عبد الكريم العيسى، في مقرِّ الرابطة الفرعيِّ بالرياض، نيافةَ الكاردينال الدكتور كريستوف شونبرون، رئيس أساقفة فيينا، الذي وصلَ والوفد المرافق له إلى الرياض بدعوةٍ من رابطة العالم الإسلامي. وتكتسِبُ هذه الزيارة - التي أعلن عنها الفاتيكان - أهميةً كبيرةً؛ حيث يُعَدُّ ضيفُ الرابطة، ...

0:00 0:00
Speed:
March 01, 2023

من ذاب في حضارة الغرب وقَبِلَ بالمثلية الجنسية مرحَّبٌ به تحت حكم آل سعود بل مصدر إلهام!

من ذاب في حضارة الغرب وقَبِلَ بالمثلية الجنسية

مرحَّبٌ به تحت حكم آل سعود بل مصدر إلهام!

ﺍﻟﺨﺒﺮ:

استقبل الأمين العام لرابطة العالم الإسلامي رئيس هيئة علماء المسلمين الشيخ الدكتور محمد بن عبد الكريم العيسى، في مقرِّ الرابطة الفرعيِّ بالرياض، نيافةَ الكاردينال الدكتور كريستوف شونبرون، رئيس أساقفة فيينا، الذي وصلَ والوفد المرافق له إلى الرياض بدعوةٍ من رابطة العالم الإسلامي. وتكتسِبُ هذه الزيارة - التي أعلن عنها الفاتيكان - أهميةً كبيرةً؛ حيث يُعَدُّ ضيفُ الرابطة، نيافة الكاردينال شونبرون، أحدَ أبرز القيادات الدينية الفاعلة في مجال تعزيز الصداقة والتعاون بين الحضارات وفق مُشتركها الإنساني. ورحَّبَ الدكتور العيسى بنيافته ضيفاً على الرابطة، ثم ناقش الجانبان عدداً من القضايا ذات الاهتمام المشترك، لا سيما جهود بناء الجسور بين الأمم والشعوب، وأهمية التعاون والتواصل الفاعل بين قادة الأديان في مواجهة أفكار ودعوات الصِّدام الحضاري. وتناول اللقاءُ الحديثَ عن وثيقة مكة المكرمة وتأثيرها العالمي البارز في العلاقات بين الأديان والثقافات، ودورها الفاعل في معالجة أبرز الأزمات الدولية. وأشاد الكاردينال بمنجزات الوثيقة على الصعيد العالمي، وبخاصةٍ ما حملته مضامينُها من رسائلَ إيجابيةٍ للأجيال القادمة، كونها خَصَّصَت - في مضامينها - حديثاً عن الشباب وتمكينهم. وأبدى الكاردينال شونبرون اهتمامه الكبير جداً بأعمال الرابطة ومبادراتها الدولية، مؤكِّداً تطلُّعَه للعمل المستقبلي سويا. (عكاظ، 2023/02/26م)

ﺍﻟﺘﻌﻠﻴﻖ:

يقوم هؤلاء باستضافة القس كريستوف شونبرون الذي يقبل بالمثلية الجنسية علنا وسبق أن رعا حفلات غنائية لأتباعهم في الكنيسة بهذا الوصف. فهل تمت استضافته ليتحفنا بإفرازات الحضارة الغربية وليزيد المسلمين "انفتاحا"، أم تم استقدامه لأنه أحد الأعضاء المؤسسين لمنظمة إليجا التي تتخذ من كيان يهود المحتل مقرا لها والتي تتخذ من الحوار بين الأديان ذريعة لتشكيل دين جديد يقوم على تحجيم دين الله الإسلام وإخضاعه لأهواء البشر وجعل الإسلام دينا كسائر الأديان أي في الرف أم داخل المسجد فقط؟ هل هناك داع للاختباء وراء الأسباب الحقيقية؟ ألا يعلمون أن هذه التمثيليات لا داعي لها؟! فقد صح عن سيد البشر محمد ﷺ قوله: «إنَّ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ كَلَامِ النُّبُوَّةِ الْأُولَى: إذَا لَمْ تَسْتَحِ فَاصْنَعْ مَا شِئْت».

ألا يستحون عندما يشبهون وثيقة مكة المكرمة الصادرة عن نظام آل سعود عام 2019م بوثيقة المدينة المنورة التي عقدها محمد رسول الله ﷺ؟! فشتان بين وثيقة آل سعود التي ساوت بين دين الإسلام وبين الأديان الأخرى المحرفة في بندها الخامس، وبين وثيقة المدينة المنورة التي جعلت موضع التحاكم محمداً رسول الله ﷺ في أي اختلاف. شتان بين وثيقة تدعو لحرية العقيدة في بندها السابع عشر وبندها الثالث، وبين وثيقة رتبت العلاقات مع غير المسلمين على أساس لا إله الا الله محمد رسول الله في ظل دولة تحتكم إلى شرع الله وحده. شتان بين وثيقة تم تنسيق بنودها رقم 11 و18 في غرف سوداء مع أجهزة المخابرات ومع أمثال محمد بن سلمان وأسياده لتقسيم المسلمين إلى معسكرين اثنين يتألفان من معتدلين و(إرهابيين) على مقاس من يرضي أو يغضب أمريكا وبريطانيا وغيرهما ولتحريم التدخل في شؤون الدول، أي شؤون حظائر سايكس بيكو وعروش الظالمين، وبين وثيقة المدينة المنورة التي رتبت للتدخل في شؤون العالم كله على أساس العقيدة الإسلامية وحدها.

ألم يكتف هؤلاء بما جنوا من أموال لقاء هذه الخدمات الرخيصة لمحاربة دين الله؟! هلا تفكروا في ما بقي لهم من عمر ودعوا الناس ليعبدوا الله وحده لا شريك له ويتركوا ما ألفوه من مبادئ وأخطرها دين الرأسمالية الذي يتخذ من النصرانية وغيرها زخرفا ومن عقيدة الحريات أساسا؟ هلا دعوا ليكون شرع الله وحده هو المطبق، أي عقيدة الإسلام بوصفها عقيدة كلية تنبثق عنها النظم التي تعالج كل مشاكل الحياة، كونها نزلت أحكاما للإنسان بوصفه إنسانا؟ هل نسوا أن دماء جمال خاشفجي مؤشر واضح إلى من يصنع (الإرهاب) أي أمريكا التي دربت أمثال ابن سلمان والتي تعمل على تصدير التهم المعلبة الخطيرة من (إرهاب) وغيره حتى نبقى في دائرة مغلقة نحارب المسلمين ونستبيح دماءهم لصالح الآخرين؟ علما أننا لا ندري ما قد يأتون به من مصطلحات تناسبهم في المستقبل! أليس علينا الحذر من استخدام مصطلحاتهم والتي من شأنها أن تدفعنا لأن نقتل بعضنا بعضا، أي أن نحارب المسلمين، والمخلصين منهم على وجه الخصوص؟

وهلا عقل أمثال محمد عيسى بأن حكام آل سعود إلى أسيادهم ذاهبون، أما الإسلام فهو باق أبد الدهر؟ هلا عقل بأن مشاريع محاربة الإسلام معركة خاسرة وترتد على صاحبها بالخسران المبين؟ ألا يتعظ مما حصل لوسيم يوسف ونوال السعداوي وأمثالهما؟! لماذا يصر أمثال هؤلاء على عدم التراجع عن أفعالهم التي لا تؤدي بهم في آخر المطاف إلا إلى مكان سحيق؟!

قال الله تعالى: ﴿وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍ بِقِيعَةٍ يَحْسَبُهُ الظَّمْآنُ مَاءً حَتَّى إِذَا جَاءَهُ لَمْ يَجِدْهُ شَيْئًا وَوَجَدَ اللَّهَ عِندَهُ فَوَفَّاهُ حِسَابَهُ وَاللَّهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ * أَوْ كَظُلُمَاتٍ فِي بَحْرٍ لُّجِّيٍّ يَغْشَاهُ مَوْجٌ مِّن فَوْقِهِ مَوْجٌ مِّن فَوْقِهِ سَحَاب ظُلُمَاتٌ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ إِذَا أَخْرَجَ يَدَهُ لَمْ يَكَدْ يَرَاهَا وَمَن لَّمْ يَجْعَلِ اللَّهُ لَهُ نُورًا فَمَا لَهُ مِن نُّورٍ﴾ [النور: 39-40]

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

نزار جمال

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست