من واجب المرأة الالتزام باللباس الشرعي في الأماكن العامة ومن واجب الدولة الحكم بشرع الله
من واجب المرأة الالتزام باللباس الشرعي في الأماكن العامة ومن واجب الدولة الحكم بشرع الله

أصبح من المسموح الآن للمجندات في تركيا ارتداء غطاء الرأس كجزء من زيهنّ الرسمي، وحسب النظام الجديد الذي أعدته وزارة الدفاع بهدف توفير مجال أكبر في القوانين السابقة المثيرة للجدل. (وكالات)

0:00 0:00
Speed:
March 01, 2017

من واجب المرأة الالتزام باللباس الشرعي في الأماكن العامة ومن واجب الدولة الحكم بشرع الله

من واجب المرأة الالتزام باللباس الشرعي في الأماكن العامة

ومن واجب الدولة الحكم بشرع الله

(مترجم)

الخبر:

أصبح من المسموح الآن للمجندات في تركيا ارتداء غطاء الرأس كجزء من زيهنّ الرسمي، وحسب النظام الجديد الذي أعدته وزارة الدفاع بهدف توفير مجال أكبر في القوانين السابقة المثيرة للجدل. (وكالات)

التعليق:

في الحقيقة، إن الهدف ليس إذا ما كان مسموحا للنساء ارتداء اللباس الشرعي في كل مجالات الحياة ومؤسسات الدولة، وفي المدارس، والجامعات، والخدمات العامة، والشرطة وأخيرا القوات المسلحة، لأن ارتداء اللباس الشرعي ليس حقاً إنسانياً كما تدعي الديمقراطية العلمانية. إنه ليس حقاً يُمنح من الديمقراطية العلمانية، أو الجمهورية، أو المَلكية، أو أيٍّ كان... إنه حتى ليس حقاً أو حريةً تمنحها دولة الخلافة. حيث إنه التزام فرديّ مفروض على النساء كما أمرنا الله سبحانه وتعالى، وكما أنه من واجب الدولة أن توفر البيئة التي يمكن للنساء فيها الالتزام بواجباتهن تجاه الخالق سبحانه وتعالى، فهو واجب على الدولة أيضا أن تبني شخصية النساء والرجال في المجتمع بشكل يجعلهم يشعرون بالمسؤولية والحاجة للالتزام بشعائر الله سبحانه وأوامره، فيما يتعلق بأنفسهم، وبالمجتمع، والدولة؛ بهدف نوال رضوانه سبحانه في الدنيا والفوز بجائزته في الآخرة...

ولا بد لكل شخص يقرأ هذا أن يدرك التالي: إن الجنود في الجيش التركي هم إخوتنا وأخواتنا الأعزاء علينا والذين نيتهم طاهرة بإذن الله، وهم كغيرهم من الأمة يسعون للفوز بالجنّة. وبالتالي ليس هم الذين علينا أن نحاسبهم، وإنما علينا محاسبة أولئك الذين يأمرونهم، ضباطهم، ورئيس هيئة الأركان، ورئيس الوزراء، ورئيس تركيا، والعلماء الساكتين على أفعالهم، وخططهم، وأهدافهم.

وها هم الآن يدلون بقَسَم تلو الآخر لحماية والحفاظ على ديمقراطية وعلمانية الجمهورية التركية. في الأسبوع الأخير، وخلال مقابلة مع مساء العربية، قام رئيس الجمهورية باختراع لفظ جديد "لا ديني"، بهدف توضيح أنه لا يعتبر العلمانية أنها لا دينية.

وهذا أيضا سبب آخر لاستغراق حزب العدالة والتنمية حوالي 15 سنة لرفع حظر غطاء الرأس. لقد قاموا برفع الحظر بشكل جزئي وليس مرة واحدة، على الرغم من تمتعهم بالقوة لرفعه فورا. ولكن على العكس، اختاروا أن يمنحوا القليل كل فترة، دائما قبل انتخابات مهمة. وقبل الاستفتاء على النظام الرئاسي، كان السماح للمجندات بارتداء غطاء الرأس آخر ما يمكنهم منحه. والسؤال الآن هو ما الذي سوف يقومون بفعله عند قدوم انتخابات أخرى مهمة أو استفتاء؟! إن هدفهم الوحيد هو الحفاظ على السلطة في تركيا، حيث إنهم أفضل من يؤمن العلمانية والديمقراطية. هذا الأسبوع، رفض البرلمانيون من حزب العدالة والتنمية منع برامج الزواج التلفزيونية من خلال التصويت ضد هذا القرار في التصويت البرلماني ــ على الرغم من أن معظم الناخبين يزدرون هذه البرامج. إن آخر خطوة والأكثر فعالية في علمانية تركيا كانت من خلال تغييرات المناهج التي حصلت خلال الأسابيع الأخيرة. فبينما تم إزالة نظرية التطور من دروس الأحياء، وتم تقليل الدروس التي تتحدث عن مصطفى كمال خلال المنهج، فإنه تم تكثيف الدروس والمواضيع التي تتحدث عن الديمقراطية والعلمانية. حتى إن الدروس الدينية نالت نصيبها من التغيير. فقد تم تعديل منهج الدروس الدينية بحيث يركز أكثر على العلمانية، واصفا إياها أنها "تؤمن حرية الفكر والعقيدة"، و"تقضي على استغلال الدين"، و"تمنع الكهنوتية"، و"تؤمن المساواة أمام القانون والشريعة"، و"تقيم دولة على أساس مبدأ سيادة القانون، و"تضمن الاستخدام الفعال للمبادئ العلمية والتكنولوجيا المتطورة".

لذا فالأمر لا يتعلق بما يبدو ظاهرا وإنما بما هو موجود داخلا، والذي يشكل المجتمع. إلا أن المجتمع هو أكثر من مجرد مجموعة من الأفراد. إنه الأفراد، وأفكارهم ومشاعرهم المشتركة، بالإضافة إلى النظام العام المفروض عليهم، والذي يشكّل المجتمع. ومما لا شك فيه، فإن كل شخص يدّعي أنه مسلم، هو مسلم بالفعل! وذلك هو الحال لأي سياسي، ومعلم، ومحام، وشرطي، أو أي عامل في القوات المسلحة في تركيا. وكل واحد منهم يتطلّع للفوز برضا الله سبحانه وتعالى وجائزته.

إلا أن المجتمع في تركيا هو مجتمع علماني ورأسمالي أي غير إسلامي، حيث إنه قائم على مبدأ غير إسلامي، ومحكوم بمفاهيم، وسياسات، وأحكام، وقوانين، وأهداف غير إسلامية، وهذا كله يسبب الأمراض والدمار والإخفاقات في كل مجال من مجالات الحياة في المجتمعات الغربية، ابتداءً من الفساد في المجتمع، والاقتصاد، والسياسات الداخلية والخارجية، ووصولا إلى إخفاقات كارثية في التعليم، والعلوم، والتكنولوجيا.

إن على المجتمع التركي أن يقرر إن كان سيقبل بهذا الاضطراب في الشخصية والانفصام ــ بالمعنى المجازي. لأنك "إن لم تعش ما تؤمن به، فستؤمن بما تعيشه!"

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

زهرة مالك

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست