من يكفل حق المعلم في ظل أنظمة تقتات على أزمته، وتتسول على حساب كرامته؟!!
من يكفل حق المعلم في ظل أنظمة تقتات على أزمته، وتتسول على حساب كرامته؟!!

الخبر:   ذكر موقع العربي الجديد بتاريخ 2016/3/11 أن أكثر من 25 ألف معلم في الضفة الغربية يواصلون إضرابهم عن العمل منذ ما يزيد عن شهر بشأن الأجور، ومستحقات أخرى، مما سبب اضطرابا للتلاميذ وأولياء الأمور، ودفع السلطة الوطنية الفلسطينية لنشر الشرطة العسكرية في شوارع رام الله.

0:00 0:00
Speed:
March 14, 2016

من يكفل حق المعلم في ظل أنظمة تقتات على أزمته، وتتسول على حساب كرامته؟!!

من يكفل حق المعلم في ظل أنظمة تقتات على أزمته،

وتتسول على حساب كرامته؟!!

الخبر:

ذكر موقع العربي الجديد بتاريخ 2016/3/11 أن أكثر من 25 ألف معلم في الضفة الغربية يواصلون إضرابهم عن العمل منذ ما يزيد عن شهر بشأن الأجور، ومستحقات أخرى، مما سبب اضطرابا للتلاميذ وأولياء الأمور، ودفع السلطة الوطنية الفلسطينية لنشر الشرطة العسكرية في شوارع رام الله.

كما ويحتشد في وسط مدينة رام الله، حيث مقر السلطة الفلسطينية آلاف المعلمين منذ العاشر من شباط/فبراير الماضي، احتجاجا على تدني الرواتب وضعف ما يحصلون عليه من مزايا مالية، مقارنة مع موظفي الحكومة الآخرين.

ويعد هذا أحد أكثر الإضرابات جدية وأطولها في الأراضي الفلسطينية، وبسببه يجلس أكثر من 540 ألف طالب في منازلهم، أو يهيمون في الشوارع، في وضع يثير استياءهم بعدما أدخل على قلوبهم بعض السعادة في أيامه الأولى.

كما أكد ممثلون عن المعلمين أنهم سيواصلون الإضراب، طالما كانت هناك حاجة له، وإن نسبة المشاركة فيه تبلغ 90 بالمئة. غير أن الطلاب في 1700 مدرسة يشملها الإضراب بدأوا يشعرون بالضيق هم وأولياء أمورهم.

التعليق:

يقولون إن أي دولة إن أرادت التقدم والرقي فعليها الاهتمام أولاً بمجال التعليم.. حيث يتم تشكيل وتربية العقول.. والأصل في الدول كي تحظى ببلاد يتمتع أبناؤها بمستوى عال من التعليم أن تدفع بكل استثماراتها وميزانيتها في هذا المجال، وهي واثقة أن مردود هذا الاستثمار سيعود عليها بعد وقت ليس ببعيد بفوائد ومكاسب لا حصر لها.. فبناء الكوادر البشرية هي الخطوة الأهم في عملية بناء وتطوير ثروة الأمة البشرية وعمودها الفقري..

ولكن إذ بنا نواجه في بلادنا هجمة شرسة ممنهجة على شبابنا وطلابنا وفلذات أكبادنا من حملات تجهيل وقتل للهمة وتدجين غير مسبوق وحالة من اللامبالاة تجاه قضايا أمتنا، نجد أن هناك مؤامرة تضاف على ضعف المناهج وحشوها بما لا يتناسب وثقافتنا ومرجعيتنا الدينية وبما يقتضيه واقعنا من هجوم قد استفحل واشتدت وطأته على ديننا وأمتنا، هناك الطرف الآخر من المعضلة والمؤامرة وهي ما يعايشه المعلم.. فالمعلم هو عماد العملية التعليمية.. هو صانع المُنتج النهائي من تلك العملية (التلميذ).. المعلم هو مربي الأجيال وخليفة الرسل والأنبياء.. به تقوم العملية التعليمية أو لا تقوم.

وعلى الرغم من خطورة وأهمية مكانة المعلم في كل المجتمعات.. إلا أنه وللأسف الشديد قد تم تهميشه بل وإهانته على مر العقود الأخيرة، بشكل أصبحت معه هذه المهنة مثيرة للتهكم والسخرية من المجتمع كله ومن وسائل الإعلام.. حتى في الأعمال التلفزيونية والتي لها نسبة مشاهدة عالية من التلاميذ وغيرهم يظهر لنا المعلم كشخصية ساخرة مثيرة للضحك والاستهزاء!! والتي مع تكرارها ستنطبع الصورة في ذهن العامة ويبقى هذا هو النموذج الثابت لهذه المهنة التي ترتقي لمهمة الأنبياء..

ولم يقتصر إهدار كرامة المعلم فقط على هذا المستوى بل تعداه لهيبته أمام تلاميذه، فقد تم بناءً على قرارات وزارة التربية والتعليم في التقليل من شأن المعلم بشكل لافت للانتباه.. بمساءلته وتحويله للمحاكمة لو أن طالباً ادعى بأنه تعرض للضرب أو الإهانة على يد معلمه، حيث أصبح هذا التهديد سلاحا في يد الطلبة وأولياء الأمور يستخدمونه في كل الأوقات... فأصبح المعلم مهاناً من كل فئات الشعب.. الطلبة وأولياء الأمور ورؤسائه في العمل والوسائل الإعلامية!!

ولم يعد للمعلمين أي دور سياسي أو فكري يذكر في الحياة السياسية والفكرية .. وكأنهم قد قاموا بقص كل أجنحته وألسنته حتى لا يتكلم ولا ينطق مهما وقع له كمعلم أو كمسلم فلسطيني مقهور.. بل عليه الالتزام بالمنهاج التجهيلي المسيس دون زيادة عليه أو نقصان، أي مجرد شريط مسجل يتجول بين الفصول دون ترك بصمته الفكرية أو خبرته الحياتية...

وبجانب كل هذه الإهانات المعنوية.. فقد تم إهانته من الناحية المادية أيضاً.. فالمعلم مربي الأجيال أصبح من معدومي الدخل.. رواتب ضئيلة، ومعيشة لا تتعدى الأساسيات، هذا إن استطاع تحصيلها دون أن يستدين...

أليس من الإهانة للمعلم في فلسطين أن يضرب ويتجول في الشوارع ويعتقل ويهان في سبيل مطالبته بتطبيق الحد الأدنى للأجور عليه.. في الوقت الذي يطالب المهندسون في الدول الغربية بمساواة أجورهم بأجور المعلمين.. أليس ما يتقاضوه هو الحد الأدنى للعمال وللمهن الأقل شأناً؟!.. هل أصبح المعلم أقل شأناً ليطالب بالحد الأدنى من الأجور؟!...

فإنهم بهذا الحال يدفعون المعلم ذا الكرامة المهدورة ليبحث عن وسائل أخرى للحصول على دخل آخر ليكمل تكاليف شراء الخبز فقط.. يطالبونه بعدم إعطاء دروس خصوصية لأنها محرمة... يطالبونه بعدم العمل في أي مهنة أخرى بعد الدوام المدرسي حتى يكون مستيقظاً نشطاً داخل الفصل، وأن يكون فرحاً بشوشاً في وجه تلامذته، وأن يقوم بأداء رسالته على أكمل وجه، وأن يترك مشاكله النفسية والمادية على باب مدرسته حتى تؤتي العملية التعليمية ثمارها؟ نعم كل هذا مطلوب ولكن كيف؟ كيف يتخلص المعلم من كل مشاكله ومتطلباته الحياتية وهو مقهور ومهان ومعدوم الدخل؟!!

فيا أيتها السلطة المعدومة السلطة! ارحموا المعلمين والطلاب، يا من ادعيتم المسؤولية وأسميتم أنفسكم دولا زورا وبهتانا وأنتم أقرب لعصابات مجرمة تقتات على أزمة شعبها ومعاناته.. تنتظرون المنح في حين إنكم تنعمون بعيشة الرفاهية، والعيش دون مساءلة، تتسولون باسم القضية الفلسطينية وباسم حقوق المعلمين، فتأكلون وتشربون وتشيدون القصور على ضنك ومتاعب المعلم وأهل فلسطين أجمعين... يا من تنسقون مع يهود ليتكم تعلمتم كيف تنسقون مع أبناء شعبكم، لكان ذلك قد شفع لكم، ما ذنب هؤلاء الطلاب وهم يتجولون في الشوارع تائهون هائمون على وجوههم تتملكهم الحيرة والخشية على مستقبل لم تعد له معالم واضحة؟...

أعيدوا للمعلمين كرامتهم المهدورة والمسلوبة منهم منذ عقود.. اكفلوا للمعلم حياة كريمة وأجوراً لا تدفعهم للبحث عن مصادر أخرى للعيش، يخلص لكم في عمله ويعطِكم أجيالا قويمة، قوية العقل.. راعوا الله في أعمالكم، اجعلوا لأنفسكم عملا تحمدون عليه، أعطوا كل ذي حق حقه... فإنكم مسؤولون أمام الله يوم لا ينفعكم منصب ولا سلطان أو جاه...

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

رائدة محمد

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست