من يسيء لنبينا لا يستقبل في بلادنا لقد أسأتم للنبي والإسلام قبل فرنسا يا شيخ الأزهر!
من يسيء لنبينا لا يستقبل في بلادنا لقد أسأتم للنبي والإسلام قبل فرنسا يا شيخ الأزهر!

الخبر:   ذكرت وسائل الإعلام كصدى البلد واليوم السابع وغيرها الأحد 2020/11/08م، قول شيخ الأزهر لوزير خارجية فرنسا خلال لقائه، إن المسلمين حكاماً ومحكومين يعلنون رفضهم القاطع للإرهاب الذي يرفع راية الإسلام، فالإسلام ونبيه والمسلمون براء من الإرهاب، مضيفا وأنا وهذه العمامة الأزهرية حملنا الورود في ساحة الباتاكلان ورفضنا الإرهاب وأرسلنا التعازي في ضحايا الإرهاب، وأكد شيخ الأزهر أنه حين يكون الحديث عن الإسلام ونبيه ﷺ فأنا لا أجيد التحدث بالدبلوماسية، ...  

0:00 0:00
Speed:
November 11, 2020

من يسيء لنبينا لا يستقبل في بلادنا لقد أسأتم للنبي والإسلام قبل فرنسا يا شيخ الأزهر!

من يسيء لنبينا لا يستقبل في بلادنا

لقد أسأتم للنبي والإسلام قبل فرنسا يا شيخ الأزهر!

الخبر:

ذكرت وسائل الإعلام كصدى البلد واليوم السابع وغيرها الأحد 2020/11/08م، قول شيخ الأزهر لوزير خارجية فرنسا خلال لقائه، إن المسلمين حكاماً ومحكومين يعلنون رفضهم القاطع للإرهاب الذي يرفع راية الإسلام، فالإسلام ونبيه والمسلمون براء من الإرهاب، مضيفا وأنا وهذه العمامة الأزهرية حملنا الورود في ساحة الباتاكلان ورفضنا الإرهاب وأرسلنا التعازي في ضحايا الإرهاب، وأكد شيخ الأزهر أنه حين يكون الحديث عن الإسلام ونبيه ﷺ فأنا لا أجيد التحدث بالدبلوماسية، وسأكون دائماً أول من يحتج ضد أي إساءة إلى ديننا ونبينا، وأنا أتعجب حينما نسمع تصريحات مسيئة مثل التي سمعناها لأن هذه التصريحات تسيء إلى فرنسا وتبني جداراً من الكراهية بينها وبين الشعوب العربية والإسلامية، وهذه التصريحات يستغلها المتطرفون في القيام بأعمال إرهابية، وشدد الإمام الأكبر على أن صدره واسع للحديث في أي شيء لكن الإساءة لنبينا محمد ﷺ مرفوضة تماماً، وإذا كنتم تعتبرون الإساءة لنبينا حرية تعبير فنحن نرفض هذه الحرية شكلاً ومضموناً، وسوف نتتبع الذي يسيء إلى نبينا في المحاكم الدولية حتى لو أمضينا عمرنا كله في الدفاع عن النبي ﷺ، وأعرب شيخ الأزهر عن استعداد الأزهر للتعاون مع فرنسا وعلى نفقة الأزهر لتصحيح المفاهيم المغلوطة عن الإسلام ومحاربة الفكر المتطرف والتشدد داخل فرنسا.

التعليق:

إن أعظم إساءة لنبينا ﷺ هي غياب الدولة التي أرسى قواعدها في بيعة العقبة الثانية وأسس بنيانها في المدينة، الدولة التي أسقطها الغرب بيد الهالك مصطفى كمال وقسموا أوصالها إلى ما يزيد على الخمسين كياناً بعضها لا يغطي عورة نملة! والأعظم منها قبول أنظمة الغرب وقوانينه ودستوره ونمط عيشه لتكون بديلا عن نظام الإسلام وخلافته وأحكامه وشرعه وطريقته في العيش.

وبغياب دولة الإسلام صرنا أيتاما على موائد اللئام، تُنهب الثروات ويستعبد الناس وتغلق المساجد وتهدم ويعتقل حملة القرآن ومن يعملون أو يحتمل منهم العمل لتطبيق الإسلام ويحاكم بعضهم بتهم تصل للإعدام أو يبقون في غياهب السجون إلى أن يقضي الله فيهم أمره، ورأينا من يتطاولون ويطعنون في السنة ويطالبون بتجديد الإسلام وتُفرد لهم مساحات واسعة على الشاشات يشجعهم رأس النظام المصري بثورته الدينية التي يتزعمها في صمت بل وإقرار من شيخ الأزهر وعلمائه الذي سبق ووقع وثيقة الأخوة الإنسانية مع بابا الفاتيكان بما فيها من خيانة لله ورسوله ودينه، فكيف لمثله أن يحتج على إساءات ماكرون وأمثاله وهم ممن جرأوه على الإسلام؟! اللهم إلا لإذا كان يقول اهدأ حتى لا تؤجج مشاعر المسلمين وتؤلبهم عليك وعلينا! ولعل هذا ما أشار إليه بقوله (إن هذه التصريحات تسيء إلى فرنسا وتبني جداراً من الكراهية بينها وبين الشعوب العربية والإسلامية، وهذه التصريحات يستغلها المتطرفون في القيام بأعمال إرهابية)، رغم أن ما تخشاه فرنسا والغرب ليس هو الأعمال الإرهابية، فهذه الأعمال يريدونها ويشجعون عليها ويفتعلونها ويستغلونها جيدا في محاولاتهم لتشويه الإسلام أمام شعوبهم التي تُقبل على الإسلام لما ترى من تعامل أبنائه في الغرب بسماحته وصدقه وعدله ورحمته.

إن أخشى ما تخشاه فرنسا والغرب هو تمدد الإسلام داخل أراضيهم لما يحمله من عقيدة سياسية يدركون خطرها على رأسماليتهم التي يوقنون قرب أجلها، ويعلمون أنها ستدفن بقيام دولة الإسلام التي يدركون حتمية قرب قيامها من جديد، وهؤلاء المسلمون على أراضيها تهديد واضح المعالم للنظام الذي يسعون لضخ الدماء في عروقه ليبقى أطول فترة ممكنة.

عفوا يا شيخ الأزهر! لقد شاركتم في الإساءة حينما وصفتم الإرهاب كما وصفه الغرب الذي صنعه ورعاه واستغله وألصقه بالإسلام كما فعلتم وتفعلون وكما يفعل رأس النظام الذي تعمل تحت مظلته وتقر حكمه دون أن يتمعر وجهك غضبا لما ينتهك من حرمات الله، وما يستحل من دماء المسلمين!!

عفوا يا شيخ الأزهر ويا كل علماء مصر! إن الإساءة لنبينا جريمة تجيش لها الجيوش وتراق لها الدماء وتفتح البلاد، ولو كان لنا دولة وخليفة لانتعل فرنسا كما ينتعل الحذاء جراء فعلتها تلك ولم يكتف بالرفض والاحتجاج أو اللجوء للمحاكم الدولية...

عفوا يا شيخ الأزهر! فمن يسيئون لنبينا لا يستقبلون في بلادنا ولا نحتفي بهم ولا نمد لهم يدنا بل نقطع أياديهم التي تعبث ببلادنا وتسعى لتدجين ديننا لا أن نساعدهم على ذلك ونكون أداة يفصلون بها الإسلام عن عقيدته السياسية العملية!

إن واجبكم يا شيخ الأزهر ويا علماء الكنانة ليس استقبال وزراء فرنسا ولا سفرائها وقد أوجعتهم أمة حية تستنفر طاقاتها لنصرة نبيها، بل يجب أن تغلقوا الباب في وجوههم، وتعملوا على حشد الناس شعبا وجيشا لإقامة الدولة التي تنتصر للنبي وتنسي فرنسا والغرب كله وساوس الشيطان، وتريهم أعظم كوابيسهم رأي العين؛ دولة الحق والعدل والرحمة؛ دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة. اللهم عجل بها واجعل مصر حاضرتها واجعلنا من جنودها وشهودها.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

سعيد فضل

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست