من يتظلم سلمياً يعاقب ومن يحمل السلاح ويقتل وينتهك الحرمات تقسم له السلطة والثروة!
من يتظلم سلمياً يعاقب ومن يحمل السلاح ويقتل وينتهك الحرمات تقسم له السلطة والثروة!

الخبر: نفذ طلاب مدارس الأساس في مدينة كريمة بالولاية الشمالية، الأسبوع الماضي، وقفة احتجاجية سلمية تنديداً بانقطاع التيار الكهربائي لشهور عدة، في صيف قائظ، وترتب على ذلك استدعاء جهاز المخابرات العامة في كريمة بمحلية مروي شمالي السودان، الاثنين،

0:00 0:00
Speed:
August 13, 2025

من يتظلم سلمياً يعاقب ومن يحمل السلاح ويقتل وينتهك الحرمات تقسم له السلطة والثروة!

من يتظلم سلمياً يعاقب ومن يحمل السلاح ويقتل وينتهك الحرمات تقسم له السلطة والثروة!

الخبر:

نفذ طلاب مدارس الأساس في مدينة كريمة بالولاية الشمالية، الأسبوع الماضي، وقفة احتجاجية سلمية تنديداً بانقطاع التيار الكهربائي لشهور عدة، في صيف قائظ، وترتب على ذلك استدعاء جهاز المخابرات العامة في كريمة بمحلية مروي شمالي السودان، الاثنين، معلمات بعد مشاركتهن في الوقفة احتجاجاً على انقطاع التيار الكهربائي لقرابة 5 أشهر عن المنطقة. وقالت مديرة مدرسة عبيد الله حماد، عائشة عوض لسودان تربيون، إن "جهاز المخابرات العامة استدعاها و6 معلمات أخريات"، وأفادت بأن إدارة التعليم بوحدة كريمة أصدرت قراراً بنقلها، ووكيلة المدرسة، مشاعر محمد علي، إلى مدارس أخرى تبعد مسافات بعيدة عن الوحدة، بسبب المشاركة في هذه الوقفة السلمية، وأوضحت أن المدرسة التي نُقلت إليها هي ووكيلة المدرسة يحتاج وصولها إلى 5 آلاف يومياً للترحيل، بينما يبلغ راتبها الشهري 140 ألفاً. (سودان تربيون، 11/08/2025م)

التعليق:

من يتظلم سلميا فيقف أمام مكتب المسؤول باحترام، ويرفع لافتات، مطالباً بأبسط مقومات الحياة الكريمة، يُعدّ مهدداً للأمن فيستدعى، ويحقق معه، ويعاقب بما لا يطيق، أما من يحمل السلاح ويتخابر مع الخارج فيقتل وينتهك الحرمات، ويزعم أنه يريد رفع التهميش، هذا المجرم يكرم، ويستوزر، ويعطى الحصص والأنصبة في السلطة والثروة! أليس فيكم رجل رشيد؟! ما لكم كيف تحكمون؟! أي اختلال في الموازين هذه، وأي معايير عدالة ينتهجها هؤلاء الذين جلسوا على كراسي الحكم على غفلة من الزمان؟

هؤلاء لا علاقة لهم بالحكم، ويحسبون كل صيحة عليهم، وهم يظنون أن إخافة الرعية هي الطريقة المثلى لديمومة حكمهم!

لقد ظل السودان ومنذ خروج الجيش الإنجليزي يحكم بنظام واحد ذي وجهين، فالنظام هو الرأسمالية، والوجهان هما الديمقراطية والدكتاتورية، وكلا الوجهين لم يصل إلى ما وصل إليه الإسلام، الذي يبيح لجميع الرعية؛ المسلم والكافر، أن يتظلم من سوء الرعاية، بل يجيز للكافر أن يتظلم من سوء تطبيق أحكام الإسلام عليه، ويجب على الرعية أن تحاسب الحاكم على تقصيره، كما يجب عليها أن تنشئ الأحزاب على أساس الإسلام لمحاسبة الحاكم، فأين هؤلاء المتنفذون، الذين يديرون شأن الرعية بعقلية الجواسيس الذين يعادون الناس، من مقولة الفاروق رضي الله عنه: (بارك الله فيمن أهدى إليّ عيوبي)؟

وأختم بقصة خليفة المسلمين معاوية لتكون لأمثال هؤلاء الذين يعاقبون المعلمات على تظلمهن، كيف ينظر خليفة المسلمين لرعيته وكيف يريدهم أن يكونوا رجالا، لأن قوة المجتمع قوة للدولة، وضعفه وخوفه ضعف للدولة لو كانوا يعلمون؛

دخل رجل يسمى جارية بن قدامة السعدي ذات يوم على معاوية وهو يومئذ أمير المؤمنين، وكان عند معاوية ثلاثة من وزراء قيصر الروم، فقال له معاوية: "ألست الساعي مع علي في كل مواقفه؟" فقال جارية: "دع عنك علياً، كرم الله وجهه، فما أبغضنا علياً منذ أحببناه، ولا غششناه منذ نصحناه". فقال له معاوية: "ويحك يا جارية، ما كان أهونك على أهلك إذ سموك جارية...". فرد عليه جارية: "أهون على أهلك أنت الذين سمّوْك معاوية، وهي الكلبة التي شبقت فعوت، فاستعوت الكلاب". فصاح معاوية: "اسكت لا أمّ لك". فرد جارية: "بل تسكت أنت يا معاوية لي أمّ ولدتني للسيوف التي لقيناك بها، وقد أعطيناك سمعاً وطاعة على أن تحكم فينا بما أنزل الله، فإن وفيت، وفينا لك، وإن ترغب فإنا تركنا رجالاً شداداً، وأدرعاً مداداً، ما هم بتاركيك تتعسفهم أو تؤذيهم". فصاح فيه معاوية: "لا أكثر الله من أمثالك". فقال جارية: "يا هذا، قل معروفاً، وراعنا، فإن شر الرعاء الحطمة". ثم خرج غاضباً دون أن يستأذن.

فالتفت الوزراء الثلاثة إلى معاوية، فقال أحدهم: "إن قيصرنا لا يخاطبه أحد من رعاياه إلا وهو راكع، ملصق جبهته عند قوائم عرشه، ولو علا صوت أكبر خاصته، أو ألزم قرابته، لكان عقابه التقطيع عضواً عضواً أو الحرق، فكيف بهذا الأعرابي الجلف بسلوكه الفظ، وقد جاء يتهددك، وكأن رأسه من رأسك؟". فابتسم معاوية، ثم قال: "أنا أسوس رجالاً، لا يخافون في الحق لومة لائم، وكل قومي كهذا الأعرابي، ليس فيهم واحد يسجد لغير الله، وليس فيهم واحد يسكت على ضيم، وليس لي فضل على أحد إلا بالتقوى، ولقد آذيت الرجل بلساني، فانتصف مني، وكنت أنا البادئ، والبادئ أظلم". فبكى أكبر وزراء الروم حتى اخضلت لحيته، فسأله معاوية عن سبب بكائه، فقال: "كنا نظن أنفسنا أكفاء لكم في المنعة والقوة قبل اليوم، أما وقد رأيت في هذا المجلس ما رأيت، فإنني أصبحت أخاف أن تبسطوا سلطانكم على حاضرة ملكنا ذات يوم...".

وجاء ذلك اليوم بالفعل، فقد تهاوت بيزنطة تحت ضربات الرجال، فكأنها بيت العنكبوت. فهل يعود المسلمون رجالاً، لا يخافون في الحق لومة لائم؟

إن غدا لناظره لقريب، عندما يعود حكم الإسلام فتنقلب الحياة رأساً على عقب، وتشرق الأرض بنور ربها بخلافة راشدة على منهاج النبوة.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

غادة عبد الجبار – ولاية السودان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست