من يُحاول عزل الجزائر إقليميا، ولماذا؟
من يُحاول عزل الجزائر إقليميا، ولماذا؟

  الخبر: فتحت الجزائر أبواب الخلاف مع قوى إقليمية ودولية بسبب موقفها الرافض لما أسماه الرئيس الجزائري عبد المجيد تبون بـ"المرتزقة"، الذين دعا إلى سحبهم من ليبيا، والسماح للشعب الليبي بالذهاب إلى انتخابات تفرز مؤسسات شرعية، لكن اللافت أن روسيا وتركيا اللتين تربطهما بالجزائر علاقات استراتيجية على رأس المعنيين برسالة تبون، ما يمهد لظهور خلافات ستلقي بظلالها على العلاقات الثنائية.

0:00 0:00
Speed:
February 08, 2024

من يُحاول عزل الجزائر إقليميا، ولماذا؟

من يُحاول عزل الجزائر إقليميا، ولماذا؟

الخبر:

فتحت الجزائر أبواب الخلاف مع قوى إقليمية ودولية بسبب موقفها الرافض لما أسماه الرئيس الجزائري عبد المجيد تبون بـ"المرتزقة"، الذين دعا إلى سحبهم من ليبيا، والسماح للشعب الليبي بالذهاب إلى انتخابات تفرز مؤسسات شرعية، لكن اللافت أن روسيا وتركيا اللتين تربطهما بالجزائر علاقات استراتيجية على رأس المعنيين برسالة تبون، ما يمهد لظهور خلافات ستلقي بظلالها على العلاقات الثنائية.

وفي أول اختبار جدي وجدت الجزائر نفسها بلا أصدقاء في محيطها الإقليمي، بما في ذلك الروس والأتراك الذين استفادوا من علاقاتهم معها لتثبيت نفوذهم في مالي وليبيا، وباتت في عزلة أكبر بعد استعداء المغرب وإسبانيا والبرود مع فرنسا والتخلي عن تونس في أزمتها.

ودعا الرئيس الجزائري إلى ضرورة إنهاء كافة أشكال الوجود العسكري الأجنبي في ليبيا، وإلى ضرورة سحب المرتزقة مهما تغيرت مسمّياتهم، وهي دعوة قديمة، لكن تزامنها في الظرف الراهن مع تطورات لافتة في المنطقة يضع الجزائر أمام حسابات إقليمية ودولية ستلقي بظلالها على علاقاتها الثنائية وعلى المنطقة عموما. (العرب، 2024/02/07)

التعليق:

يتحدث الخبر الذي نقلته جريدة العرب اللندنية عن انزعاج النظام الجزائري من دعم روسيا وتركيا للمجلس العسكري في مالي على حساب الدور التقليدي للجزائر، وعن امتعاض جزائري واضح من وجود مرتزقة روسيا وتركيا في ليبيا، وهو ما جاء في صلب رسالة تبون إلى قمة برازافيل التي احتضنت أشغال اجتماع لجنة الاتحاد الأفريقي رفيعة المستوى المعنية بليبيا. ولكن ما الذي يخفيه الخبر في طياته؟

إن تنامي الانزعاج الجزائري مما يحصل في محيطها الإقليمي لم يعد يخفى على كل متابع، خاصة مع توسع نفوذ روسيا وتركيا اللتين تريدان سحب البساط منها في مالي والساحل الأفريقي، وفي هذا الإطار يمكن أن تفهم الدعوة الجزائرية الصريحة إلى سحب المرتزقة من بلد الجوار، نظرا لما يشكلونه من تهديد لأمن واستقرار ليبيا والمنطقة عموما، لا سيما وأن البلدين يشتركان في حدود برية تقدر بنحو ألف كيلومتر.

إن الانقلاب الواضح على الدور الجزائري في منطقة الساحل الأفريقي الذي تقوم به روسيا وتركيا بضوء أخضر أمريكي، وانسحاب مالي من "اتفاقية الجزائر للسلام" وطرد بعثة مينوسما وجلب مرتزقة فاغنر بما يعنيه ذلك من تصعيد وتحدّ للنظام الجزائري، فضلا عن قرار المجالس العسكرية في كل من بوركينا فاسو ومالي والنيجر بالانسحاب الفوري من المجموعة الاقتصادية لدول غرب أفريقيا (إيكواس)، هي كلها أمور تقع بترتيب وإشراف أمريكي مباشر وتضع المنطقة على فوهة بركان. حيث نرى أن الإدارة الأمريكية تسابق الزمن في محاوطة أطراف الجزائر وعزلها عن محيطها الإقليمي ليصبح فِناؤها الخلفي وعمقها الاستراتيجي مصدر إزعاج مباشر لها ولمصالحها في المنطقة، فلا تكفي حالة الجفاء مع تونس، وحالة التوتر مع المغرب، وفقدان التأثير في الملف الليبي، فضلا عن عدم استقرار الأوضاع في تشاد، وحالة الحرب الطاحنة في السودان، ليصبح الساحل الأفريقي صداعاً في رأس الجزائر، حيث يفرض عليها أن يصبح مجال امتدادها الطبيعي (تونس وليبيا)، ملجأً للمليشيات المسلحة والشبكات الإجرامية لتهريب الأسلحة والمخدرات، ومعبرا للهجرة "غير الشرعية"، وهو ما دفع الجزائر إلى محاولات تقريب وجهات النظر مع تونس وتأمين الحدود والشروع في تحضير زيارة تبون إلى فرنسا.

كل هذه الصفعات وغيرها، تتلقاها الجزائر واحدة تلو الأخرى، من عدوة الإسلام والمسلمين الأولى أمريكا، المصرة على اقتحام شمال أفريقيا، سواء أكان ذلك بأدوات مثل روسيا وتركيا اللّتين تتقنان خدمة مصالح أمريكا في الخارج من أجل الحصول على بعض الغنائم، أم بأدوات مثل المجالس العسكرية التي جاءت بها أمريكا في منطقة الساحل الأفريقي ودعمت انقلاباتها، أم بغيرها من الأوراق التي تلعب بها أمريكا.

ولذلك فالحل والمخرج من كل هذه الأزمات المفتعلة، لن يكون بمسايرة بريطانيا التي تشارك أمريكا إجرامها وعداوتها للإسلام والمسلمين، ومن باب أولى لن يكون بالخضوع لأمريكا ومسايرتها من باب سياسة الأمر الواقع، وإنما باحتضان مشروع الأمة النهضوي وإنهاء حالة الانقسام والتشرذم والتبعية التي صنعها الغرب. وهذا يقتضي من المخلصين الوعي على طبيعة الدور الجيوسياسي الذي يمكن أن تلعبه الجزائر في مشروع التحرر من الاستعمار وتركيز المشروع الحضاري الإسلامي. فهلا سارع أهل القوة والمنعة إلى حسن استغلال هذه اللحظة التاريخية والتصدي إلى مخطط نقل سيناريو العراق وسوريا إلى شمال أفريقيا قبل فوات الأوان؟

قال تعالى: ﴿وَلَنْ يَجْعَلَ اللهُ لِلْكَافِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سِبِيلاً﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

المهندس وسام الأطرش – ولاية تونس

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست