مناقضاً وعود حملته الانتخابية؛ عمران خان يسعى للحصول على قرض ضخم من صندوق النقد الدولي لصالح "باكستان الجديدة" (مترجم)
مناقضاً وعود حملته الانتخابية؛ عمران خان يسعى للحصول على قرض ضخم من صندوق النقد الدولي لصالح "باكستان الجديدة" (مترجم)

الخبر:   وفقاً لبلومبيرغ: قللت باكستان من قيمة عملتها بينما ارتفعت أسهمها وسنداتها بعد أن قالت الحكومة إنها ستسعى للحصول على خطة الإنقاذ المالي الدولية الثالثة عشر في البلاد منذ أواخر الثمانينات في محاولة لاستقرار الاقتصاد. ...

0:00 0:00
Speed:
October 13, 2018

مناقضاً وعود حملته الانتخابية؛ عمران خان يسعى للحصول على قرض ضخم من صندوق النقد الدولي لصالح "باكستان الجديدة" (مترجم)

مناقضاً وعود حملته الانتخابية؛

عمران خان يسعى للحصول على قرض ضخم من صندوق النقد الدولي لصالح "باكستان الجديدة"

(مترجم)

الخبر:

وفقاً لبلومبيرغ: قللت باكستان من قيمة عملتها بينما ارتفعت أسهمها وسنداتها بعد أن قالت الحكومة إنها ستسعى للحصول على خطة الإنقاذ المالي الدولية الثالثة عشر في البلاد منذ أواخر الثمانينات في محاولة لاستقرار الاقتصاد.

كما أن مؤشرات الأسهم الرئيسية في دولة جنوب آسيا قد قطعت ستة أيام من الخسائر لترتفع إلى 1.6 في المائة، وهي أكبر نسبة في ثلاثة أسابيع، في حين إن السندات المقوّمة بالدولار والمتوقعة في عام 2027 قد ارتفعت لأكبر قدر لها منذ 26 تموز/يوليو قبل أن يتم تقليص المكاسب. وانخفضت الروبية بنسبة 7.5 في المئة إلى 133.64 مقابل الدولار وهي النسبة الأشد في يوم واحد منذ أن بدأت بلومبيرغ في تتبع البيانات من عام 2000. ويتوقع أن هذه الخطوة قد دفعت بها السلطات رداً على نداءات صندوق النقد الدولي حول ضعف سعر الصرف.

وبعد التشاور مع "كبار الاقتصاديين"، ستقترب باكستان رسمياً من نهج صندوق النقد الدولي للحصول على الدعم، وسيعقد وزير المالية أسد عمر محادثات مع المسؤولين خلال الاجتماعات السنوية للمقرضين في بالي هذا الأسبوع، حسبما ذكرت وزارة المالية في بيان صدر في وقت متأخر الاثنين. وقال عمر لبلومبيرغ في آب/أغسطس إن الحكومة قد تحتاج إلى أكثر من 12 مليار دولار.

ويتعرض رئيس الوزراء عمران خان، الذي تولى السلطة بعد انتخابات تموز/يوليو، لضغوط من أجل تحديث التمويل الخارجي حيث تواجه البلاد آخر الأحداث في سلسلة طويلة من الاندفاعات المالية. قال صندوق النقد الدولي الأسبوع الماضي إن الجهود الحكومية الأخيرة لم تكن كافية لكبح أزمة تلوح في الأفق.

وقالت وزارة المالية "التحدي الذي تواجهه الحكومة الحالية هو ضمان تنفيذ إصلاحات هيكلية اقتصادية أساسية لضمان انحسار هذه المشكلة في برنامج صندوق النقد الدولي كل بضع سنوات بشكل نهائي"، "لتصحيح الاختلالات الأساسية، يتعين اتخاذ الإجراءات المالية والنقدية دون تأخير".

التعليق:

قضى رئيس وزراء باكستان الحالي عمران خان أكثر من عقدين من الزمن كسياسي معارض، معظم انتقاداته للحكومات كانت بسبب حصولهم على قروض أجنبية، خاصة من صندوق النقد الدولي. ولكن حتى قبل انتهاء أيامه الأولى، فإنه سيرسل وزير ماليته، كما هو معروف، ليقوم بالتسول وطلب المال من صندوق النقد الدولي. علاوةً على ذلك، من الواضح تماماً أن التحركات مثل التخفيض الحاد في قيمة العملة تهدف إلى إظهار استعداد مهين لتنفيذ شروط صندوق النقد الدولي حتى قبل فرض الاتفاق!

صندوق النقد الدولي هو الكفيل الأساسي للنظام الرأسمالي العالمي، والغرض منه هو الحفاظ على التفوق الاقتصادي الغربي على بقية العالم، وبعبارة أخرى استمرار الإمبراطورية الغربية. لكن علماء الاقتصاد الباكستانيين يدرسون في الكتب كيف يتم إقناع الاقتصاديين الرأسماليين بشكل كامل بوصفات صندوق النقد الدولي، وهم في الحقيقة ينادون حكوماتهم إلى التحول مرة أخرى إلى تلك المؤسسة الاستغلالية!

الغرب ينشر الرأسمالية لبقية العالم، لكنه في حد ذاته انتقائي في ممارسته للاقتصاد الرأسمالي، حيث يدرك السياسيون جيداً مخاطر وصفاته: ففرنسا تفضل قطاعاً عاماً متعجرفاً، وتحافظ الدول الاسكندينافية على سياسات مجتمعية قريبة من الشيوعية، أما أمريكا، ولا سيما في ظل حكم ترامب، فتنفذ سياسة الحماية الاقتصادية الشديدة. لقد دافعت بريطانيا في البداية فقط عن أفكار آدم سميث الذي كتب كتابه "ثروة الأمم" في عام 1776، من أجل فرض تفكيرها في التجارة الحرة على أمريكا التي أنشئت حديثاً، والتي حصلت بشكل مصادف على استقلالها عن الإمبراطورية البريطانية في العام نفسه. في هذه الأثناء، ما زال السياسيون والاقتصاديون في العالم الثالث يعتقدون بشكل مأساوي أن التنفيذ الكامل للرأسمالية هو الحل لجميع أمراضهم، في حين إن النتيجة الحقيقية لتطبيق الاقتصاد الرأسمالي هي الإفقار الكامل للدول بأكملها من خلال تفكيك سيطرة الدولة وإطلاق الاقتصاد غير المحمي للمصالح الاستغلالية الخاصة والأجنبية. إن ثروات وموارد البلاد يتم تصديرها بابتهاج، في حين إن السكان يستهلكون سلعاً أجنبية مرتفعة السعر، وقد ثبت أن الكثير منها مسؤول عن الكوارث الصحية والبيئية.

باكستان، على الرغم من استقلالها عن الحكم البريطاني قبل أكثر من 70 عاماً، تواصل تطبيق النظام الاقتصادي الرأسمالي الذي كان البريطانيون قد فرضوه على الهند (حيث كانت أرض باكستان جزءاً منها سابقاً) بعد أن أنهى البريطانيون الحكم الإسلامي للبلاد (المغول ومن قبلهم). ولسوء الحظ، فإن عمران خان مجرد شخص سطحي ساذج آخر، يعتقد أن الشخصية الفردية كافية لحل الأزمات النظامية المعقدة، دون الحاجة إلى إجراء أي تحقيق في الأسباب الفعلية لهذه الأزمات. ونتيجة لذلك، خُدع عشرات الملايين من أهل باكستان المخلصين للتصويت له، فقد ظنوا بأنه يمكنه إحداث بعض التغيير الحقيقي في وضع باكستان.

لن تتمكن باكستان أبداً من الخروج من صدمتها الاقتصادية إلا عندما تتخلى عن الاقتصاد الرأسمالي وتعود إلى تطبيق الإسلام، الأمر الذي جلب الازدهار للهند على مدار 800 عام، حيث كانت هذه الأرض أهم منطقة صناعية في العالم، مليئة بالثروة، حيث جذبت المستكشفين من البلدان المتخلفة في أوروبا الغربية إلى المخاطرة بحياتهم في أعالي البحار المحفوفة بالمخاطر من أجل البحث عن طرق التجارة البديلة للوصول إلى الجوهرة الهندية.

يقول الله سبحانه وتعالى في كتابه العزيز: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللَّهَ وَلَا تُطِعِ الْكَافِرِينَ وَالْمُنَافِقِينَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيماً حَكِيماً * وَاتَّبِعْ مَا يُوحَى إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيراً * وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ وَكَفَى بِاللَّهِ وَكِيلاً﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

فائق نجاح

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست