منظمة الصحة العالمية لا تقل تآمرا عن باقي المنظمات الدولية
منظمة الصحة العالمية لا تقل تآمرا عن باقي المنظمات الدولية

في وقت تواصل العديد من بلدان العالم تخفيف قيود الحجر الصحي التي فرضت على المواطنين بسبب تفشي الوباء، حذرت منظمة الصحة العالمية، الاثنين، من أن الدول التي تشهد تراجعاً في الإصابات بفيروس كورونا المستجد لا تزال تواجه خطر "ذروة ثانية فورية" إذا أوقفت إجراءات وقف تفشي المرض بشكل أسرع مما يلزم. وقال رئيس حالات الطوارئ في المنظمة، مايك رايان، في مؤتمر صحافي عبر الإنترنت،

0:00 0:00
Speed:
May 27, 2020

منظمة الصحة العالمية لا تقل تآمرا عن باقي المنظمات الدولية

منظمة الصحة العالمية لا تقل تآمرا عن باقي المنظمات الدولية


الخبر:


في وقت تواصل العديد من بلدان العالم تخفيف قيود الحجر الصحي التي فرضت على المواطنين بسبب تفشي الوباء، حذرت منظمة الصحة العالمية، الاثنين، من أن الدول التي تشهد تراجعاً في الإصابات بفيروس كورونا المستجد لا تزال تواجه خطر "ذروة ثانية فورية" إذا أوقفت إجراءات وقف تفشي المرض بشكل أسرع مما يلزم. وقال رئيس حالات الطوارئ في المنظمة، مايك رايان، في مؤتمر صحافي عبر الإنترنت، إن العالم لا يزال في منتصف الموجة الأولى من التفشي، مشيراً إلى أنه في الوقت الذي تنخفض فيه الإصابات في دول كثيرة فإن الأعداد تتحرك باتجاه الصعود في أمريكا الوسطى والجنوبية وجنوب آسيا وأفريقيا. وقال: "عندما نتحدث عن موجة ثانية فإن ما نقصده في أغلب الأحيان أنه سيكون هناك موجة أولى قائمة بذاتها من المرض، ثم يعود (المرض) بعد أشهر. وقد تكون هذه حقيقة واقعة في بلدان كثيرة في فترة تقاس بالأشهر". إلى ذلك أوضح: "لكننا بحاجة أيضاً لأن نكون مدركين لحقيقة أن (وتيرة) المرض يمكن أن تزيد في شكل قفزة في أي وقت. لا يمكننا أن نضع افتراضات بأنه لمجرد أن المرض أصبح في اتجاه التراجع الآن فإنه سيستمر في النزول وأننا نحصل على عدد من الأشهر للاستعداد لموجة ثانية. قد نواجه ذروة ثانية في هذه الموجة". (العربية نت)

التّعليق:


بعد أن تأكد في جميع دول العالم وخصوصا البلدان التي كانت الإصابات فيها بالفيروس التاجي قليلة، مثل البلاد الإسلامية، بعد التأكد من أن الإجراءات التي اتُخذت في هذه البلدان كان مبالغا فيها، وراحت أبعد من مجرد إجراءات لمكافحة وباء صحي إلى قمع الشعوب ومصادرة حقوقهم الأساسية كبشر، وبعد أن تأكد أن المنظومة الصحية العالمية ومنها منظمة الصحة العالمية، أقل بكثير مما كان يتصور في التعامل الصحي مع هذا الوباء، وبعد أن أدركت الدول أن هذه الإجراءات كانت وبالا على الاقتصاد والصحة، عادت إلى نقطة الصفر، وارتأت أن تتعامل مع هذا الوباء بإجراء "مناعة القطيع"، وأخذها لهذا الإجراء ليس خيارا صحيا بل هو إجراء متأثر بالاقتصاد، أي أن هذه الدولة قدّمت الاقتصاد على الصحة، فتبخر ادعاء الدول والحكومات حرصهم على صحة وسلامة الناس، في صورة تعكس حقيقة الدول الرأسمالية التي لا تقيم وزنا لأي قيمة إلا القيمة المادية، واهتمام هذه الدول بشئون أصحاب رأس المال، حتى لو كان على حساب صحة وسلامة الشعوب.


إن المنظمات الدولية ليست منظمات مهنية ومستقلة عن المتحكمين في الموقف الدولي في العالم، بل هي منظمة مدعومة ماليا وسياسيا من الدول العالمية، وعلى رأسها الدول الاستعمارية، أمريكا وأوروبا والصين وروسيا، وهذه الدول تستغل المنظمة وتتحكم بقراراتها بما يخدم مصالحها الدولية، فعندما أرادت هذه الدول من المنظمة إعلان الفيروس التاجي باعتباره وباء، لم تتأخر منظمة الصحة عن ذلك، على الرغم من أنها تأخرت في الإعلان نحو ثلاثة أشهر من ظهور الفيروس في الصين، والآن وبعد قرار العالم بالعودة إلى الحياة الطبيعية، إلى ما قبل كورونا، جاءت المنظمة لتبرر للدول القيام بأي إجراء تريده بحجة "وتيرة" الفيروس الذي قد يظهر في أي وقت، وهذا يذكرنا بخطر "الإرهاب" الذي اخترعته الدول العظمى وتبنته مختلف دول العالم، حيث استغل في الزمان والمكان اللذين كانت الدول تحتاج لهما لقمع وملاحقة من تشاء من المعارضين لها، وخصوصا في البلاد الإسلامية.


لقد أصبحت الشعوب لاعبا دوليا جديدا على المسرح الدولي، يزاحمهم ويصارع الموقف الدولي والدول القائمة في العالم، وانتشار الاحتجاجات والمظاهرات في مختلف دول العالم وثورات الربيع العربي، دفع بصنّاع القرار إلى تضخيم أو اختراع عدو وهمي جديد اسمه كورونا كما اخترعت وضخّمت (الإرهاب) حتى تتمكن الحكومات من حكم الشعوب الثائرة، لذلك لم يكن مفاجئا أن ترفع البلاد الإسلامية إجراءات العزل مباشرة بعد انقضاء شهر رمضان، ومنها فتح المساجد، حيث يجتمع المسلمون فيها ومنها تخرج الثورات! لذلك لا يتصور أن تطوى صفحة كورونا سريعا وخصوصا في البلاد الإسلامية، المرشحة للانقضاض على عملاء الغرب فيها والاستقلال عن الغرب بإقامة دولة الخلافة على منهاج النبوة، لذلك لا يتصور أن ترفع جميع القيود والإجراءات سريعا، وستظل إجراءات القمع والترويض للشعوب بحجة الفيروس إلى أن تُستهلك هذه الكذبة ويأتوا بكذبة جديدة، يقومون بالاستمرار في استعباد الشعوب من خلالها. لذلك يجب على الأمة أن تقوم بواجب شهادتها على الناس وتفويت الفرص على المتربصين بها وبالبشرية، والإطاحة بالدول القائمة في البلاد الإسلامية وإقامة دولة الخلافة على منهاج النبوة على أنقاضها، لتنقذ نفسها ومعها البشرية من الرأسمالية ودولها وعملائها ﴿وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطاً لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيداً﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
بلال المهاجر – ولاية باكستان

#كورونا | #Covid19 | #Korona

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست