منظمة شنغهاي للتعاون جزء من النظام العالمي الأمريكي
منظمة شنغهاي للتعاون جزء من النظام العالمي الأمريكي

الخبر:   في 17 تشرين الأول/أكتوبر 2024، علق المتحدث باسم وزارة الخارجية الأمريكية ماثيو ميلر على اجتماع منظمة شنغهاي للتعاون قائلاً "لذا فإن الولايات المتحدة تحترم الحق السيادي لكل دولة في الانضمام إلى مجموعات من اختيارها. ونحن نشجع كل دولة على ضمان أن تكون مشاركتها في المنتديات المتعددة الأطراف متوافقة مع القانون الدولي وتحترمه، وتؤكد من جديد على سيادة جميع الدول وسلامة أراضيها واستقلالها". (state.gov)

0:00 0:00
Speed:
October 23, 2024

منظمة شنغهاي للتعاون جزء من النظام العالمي الأمريكي

منظمة شنغهاي للتعاون جزء من النظام العالمي الأمريكي

(مترجم)

الخبر:

في 17 تشرين الأول/أكتوبر 2024، علق المتحدث باسم وزارة الخارجية الأمريكية ماثيو ميلر على اجتماع منظمة شنغهاي للتعاون قائلاً "لذا فإن الولايات المتحدة تحترم الحق السيادي لكل دولة في الانضمام إلى مجموعات من اختيارها. ونحن نشجع كل دولة على ضمان أن تكون مشاركتها في المنتديات المتعددة الأطراف متوافقة مع القانون الدولي وتحترمه، وتؤكد من جديد على سيادة جميع الدول وسلامة أراضيها واستقلالها". (state.gov)

التعليق:

لقد كان المتحدث باسم وزارة خارجية أمريكا دقيقا في قوله إن "المشاركة في المحافل المتعددة الأطراف تدعم وتحترم القانون الدولي". إن جميع المنظمات والمعاهدات والاتفاقيات الدولية اليوم تقع ضمن النظام والقانون الدولي الأمريكي، ولا تسمح واشنطن لأي منظمة بالوجود خارج نفوذها. وعلى الرغم من أن الأمم المتحدة أداة فعالة للسياسة الخارجية الأمريكية، فقد أنشأت أمريكا منظمات إضافية لتعزيز مصالحها. فعلى سبيل المثال، من خلال الحوار الأمني ​​الرباعي، حاصرت الصين من المحيطين الهندي والهادئ. وهي تستخدم منظمة حلف شمال الأطلسي (الناتو) للحفاظ على هيمنتها على أوروبا، والضغط على روسيا. يمنع هذا النهج القوى الأخرى التي تمتلك حق النقض من خلق رقابة على القوة الأمريكية. وأيضا تقع منظمة شنغهاي للتعاون ضمن النظام الأمريكي، وتعمل وفقاً لقواعده.

لقد أسست روسيا في البداية منظمة شنغهاي للتعاون مع الصين لحماية منطقة آسيا الوسطى من تعدي أمريكا عليها، واعتبرتها مجال نفوذها. وبعد أن فقد الشعب الروسي ثقته في المبدأ الاشتراكي الفاسد، ظل محروماً من أي أساس مبدئي قوي للمجتمع. وتسعى روسيا إلى الاعتراف بها كقوة جيوسياسية كبرى، على قدم المساواة مع أمريكا. ومع ذلك، فإنها تقتصر إلى حد كبير على قيود النظام الدولي القائم. أما بالنسبة للصين، فإنها تتبع استراتيجية أمريكا في دمج الاقتصاد الصيني في البنية الاقتصادية الغربية، والآن أصبحت سياستها الخارجية خاضعة لمصالحها الاقتصادية. ولهذا السبب أعطت الصين الأولوية لمصالحها الاقتصادية في علاقتها بروسيا، أثناء الصراع الروسي الأوكراني الجاري. والنتيجة هي أن منظمة شنغهاي للتعاون عديمة الوزن، على الرغم من إمكاناتها. والسبب هو أن روسيا والصين أنشأتا منظمة شنغهاي للتعاون لإيجاد مجال نفوذ لهما، مع البقاء تحت النظام الأمريكي والقانون الدولي.

أما باكستان فهي أداة للسياسة الخارجية الأمريكية لأن حكامها عملاء لأمريكا، وهم منخرطون في منظمة شنغهاي للتعاون تماماً كما تسمح لهم واشنطن. وهم الآن مكلفون بضمان أن لا تشكل باكستان أي تحد للخطة الإقليمية الأمريكية، وهي الهيمنة الهندية من أجل تحدي الصين ومسلمي المنطقة. كما أنهم مرتبطون بمنظمة إقليمية في الشرق تقوم على القومية ومفهوم الدولة القومية، تماماً كما يرتبط حكام العرب بجامعة الدول العربية في الغرب. إن مفهوم الدولة القومية يمنع وحدة المسلمين في دولة خلافة واحدة قوية، ويضمن استمرار احتلال الأراضي الإسلامية.

لقد فصّل حزب التحرير في كتاب مقدمة الدستور أسباب عدم السماح للمسلمين بالخضوع للنظام العالمي الأمريكي، حيث قال: "فهيئة الأمم تقوم على أساس النظام الرأسمالي وهو نظام كفر، علاوة على أنها أداة في يد الدول الكبرى ولا سيما أمريكا لتسخرها من أجل فرض سيطرتها على الدول الصغرى، ومنها الدول القائمة في العالم الإسلامي".

وفي الكتاب نفسه، أوضح حزب التحرير أيضاً لماذا لا يُسمح للمسلمين بأن يكونوا جزءاً من المنظمات الإقليمية، مثل منظمة شنغهاي للتعاون وجامعة الدول العربية، التي تعتمد على الدولة القومية فقال "والجامعة العربية تقوم على أساس النظام الرأسمالي، وتنص في ميثاقها على المحافظة على استقلال الدول العربية، أي المحافظة على الانفصال وتجزئة بلاد الإسلام وهو حرام".

إن باكستان، باعتبارها قوة نووية، وتمتلك جيشاً قوياً وقادراً وشعباً كبيراً محباً للإسلام، لديها القدرة على توحيد المسلمين في جنوب ووسط آسيا. وهذا هو الطريق إلى الأمام الذي سيعيد الكرامة والهيبة للأمة الإسلامية، وكل شيء آخر هو استعباد آخر. لذا يجب على أهل القوة والمنعة في باكستان رفض كل الأدوات والأطر التي تبقي الأمة منقسمة، والإسراع في إقامة الخلافة التي ستوحد الأمة الإسلامية. إن البنية الأمنية التي بنتها أمريكا تهدف إلى حماية مصالحها من خلال النظام الدولي. بينما ستوفر دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة القائمة قريباً إن شاء الله، الأساس لنظام عالمي جديد وعادل. قال الله سبحانه وتعالى: ﴿مَثَلُ الَّذِينَ اتَّخَذُوا مِن دُونِ اللهِ أَوْلِيَاءَ كَمَثَلِ الْعَنكَبُوتِ اتَّخَذَتْ بَيْتاً وَإِنَّ أَوْهَنَ الْبُيُوتِ لَبَيْتُ الْعَنكَبُوتِ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

مهند مجتبى – ولاية باكستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست