مقاتلو طالبان يصلون إلى موسكو كتجّار وليس كحملة دعوة!
مقاتلو طالبان يصلون إلى موسكو كتجّار وليس كحملة دعوة!

  الخبر: في 15 آب/أغسطس، ذكرت وكالة الأنباء Kormesant.ru أن طالبان (الحركة المصنّفة إرهابية والمحظورة في الاتحاد الروسي) تعتزم إقامة تجارة مقايضة مع روسيا. صرّح بذلك وزير الصناعة والتجارة في إمارة أفغانستان الإسلامية، نور الدين عزيزي، خلال زيارة عمل لموسكو. وقد وصل وفد طالبان إلى روسيا في ذكرى انسحاب الوحدة الأمريكية. بالإضافة إلى موسكو، سيزور قازان أيضاً. وبحسب عزيزي، فإن كابول مستعدة لشراء مليون برميل من النفط مقابل بعض المنتجات الأفغانية. بالإضافة إلى ذلك، وكما هو متوقع، سنتحدث عن توريد الحبوب الروسية وزيت دوار الشمس.

0:00 0:00
Speed:
August 25, 2022

مقاتلو طالبان يصلون إلى موسكو كتجّار وليس كحملة دعوة!

مقاتلو طالبان يصلون إلى موسكو كتجّار وليس كحملة دعوة!

(مترجم)

الخبر:

في 15 آب/أغسطس، ذكرت وكالة الأنباء Kormesant.ru أن طالبان (الحركة المصنّفة إرهابية والمحظورة في الاتحاد الروسي) تعتزم إقامة تجارة مقايضة مع روسيا. صرّح بذلك وزير الصناعة والتجارة في إمارة أفغانستان الإسلامية، نور الدين عزيزي، خلال زيارة عمل لموسكو. وقد وصل وفد طالبان إلى روسيا في ذكرى انسحاب الوحدة الأمريكية. بالإضافة إلى موسكو، سيزور قازان أيضاً. وبحسب عزيزي، فإن كابول مستعدة لشراء مليون برميل من النفط مقابل بعض المنتجات الأفغانية. بالإضافة إلى ذلك، وكما هو متوقع، سنتحدث عن توريد الحبوب الروسية وزيت دوار الشمس.

التعليق:

مرّ عام على مغادرة القوات الأمريكية أفغانستان، وسيطرة حركة طالبان على السلطة في البلاد واتخاذ موقعها على الساحة الدولية. كان خيار طالبان موقفاً من الإذلال والهزيمة، حيث استمرت في النهاية في تطبيق قوانين المستعمرين ونظام الطاغوت العالمي، بدلاً من إعلان إقامة دولة الخلافة الإسلامية وحمل نور الإسلام إلى العالم أجمع. خلال العام الماضي، زار ممثلو طالبان دولا عدة، ما هي هذه الدول وبأي صفة وتحت أي ظروف يزورونها؟ عندما وصل وفد طالبان إلى أوسلو في كانون الثاني/يناير الماضي، قالت وزيرة الخارجية النرويجية أنكن هويتفيلدت إن المحادثات "لن تشكّل شرعية أو اعترافاً بطالبان". أي أن طالبان لا يُعترف بهم حتى كحكام شرعيين لدولة مستقلة! في كل دول العالم تقريباً، تُحظر حركة طالبان باعتبارها "منظمة إرهابية" ولا يريدون التحدث معهم على قدم المساواة، ما يذّلهم إلى مستوى الجهلاء والمجرمين.

كما زارت طالبان جيرانها روسيا والصين وأوزبيكستان وتركمانستان، وكل هذه الدول حظرت حركة طالبان باعتبارها "منظمة إرهابية" ولن تزيل هذا التصنيف. كل المفاوضات تنزل إلى العلاقات التجارية والأعمال. كانت أفغانستان ولا تزال بالنسبة للمستعمرين مجرّد ملحق بالمواد الخام، وتتصرف طالبان في صورة تُجار. نرى كيف تحاول طالبان إرضاء المستعمرين، وإقناعهم بصفقات تجارية مع عملائهم في المنطقة، حتى على حساب شعبهم. إنهم يتوسلون للمستعمرين أن يعيدوا أموال البلاد من البنوك الأمريكية. تمتلئ وسائل الإعلام بالهجمات على حكم طالبان في البلاد، مطالبين باحترام "حقوق الإنسان" وما إلى ذلك. إن طالبان تتكيف ببساطة مع النظام العالمي الذي أنشأه المستعمرون. ماذا يعتبر هذا إن لم يكن الإذلال والهزيمة؟! هل ضحى المجاهدون بدمائهم في ساحات القتال من أجل هذا؟! هل عانى الناس وضّحوا بأرواحهم وممتلكاتهم ورفاههم من أجل هذا؟! هل لهذا رفعت راية النبي ﷺ؟! نبينا الحبيب ﷺ، لما أقام الدولة الإسلامية الأولى في المدينة المنورة، لم يطلب المساعدة والتوجيه والصداقة مع القوى العالمية في ذلك الوقت، مثل الإمبراطورية الرومانية والبيزنطية والفارسية. بل كان ﷺ في السياسة الداخلية والسياسة الخارجية يطبق أوامر الله تعالى، ولم ينتظر ولم يطلب شرعية ولا نصرة من غير الله سبحانه!

لم يقم النبي محمد ﷺ ببناء علاقات مع الجيران من أجل التجارة أو الصداقة. لقد أوضح موقفه بوضوح في رسائله إلى حكّام الدول المختلفة. سأقدم بإيجاز مثالاً لرسالته ﷺ إلى هرقل، حاكم الإمبراطورية الرومانية، حيث يقول ﷺ: "بسم الله الرحمن الرحيم! من محمد بن عبد الله إلى هرقل عظيم الروم أسلم تسلم يؤتك الله أجرك مرتين وإن توليت فإنّ عليك إثم الأريسيين". أي الموقف الذي تبنّاه النبي ﷺ في الساحة الدولية آنذاك، رغم قلّة عدد المسلمين وعملياً في إطار مدينة واحدة، كان الموقف الذي أمر به الله، موقف الدولة القويّة. يدّعي أنه زعيم العالم، لأن النبي ﷺ كان مقتنعاً تماماً بوعد الله ونصره! هذا المنصب، منصب زعيم العالم المؤدي إلى النور، شغله الخلفاء الراشدون وحكام المسلمين اللاحقون، الذين جلبوا النصر وقيادة العالم للأمة الإسلامية بأكملها. من أجل هذا يجب على طالبان إرسال سفرائهم إلى حكام الدول الأخرى! قال الله عزّ وجل في كتابه العزيز: ﴿وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطاً لِّتَكُونُواْ شُهَدَاء عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيداً﴾.

لقد ألزمنا الله تعالى بتطبيق الإسلام في الحياة، وأوكل إلينا واجب نشر الحق، الإسلام إلى البشرية جمعاء. هذا هو طريق العظمة والخلاص! واليوم الطريقة الوحيدة لتتخلص طالبان من الهزيمة والإذلال يكون بالابتعاد عن نظام الطاغوت والعودة إلى حكم الله ورسوله. ويكون طالبان هم الأنصار! والقبول فوراً بمشروع حزب التحرير القائم على الكتاب والسنّة، والعمل معاً لإقامة دولة الخلافة الراشدة الثانية. وبعون الله سيصل نور الإسلام على العالم أجمع! وفقنا الله!

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

إلدر خمزين

عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست