مقتل 27 رجلاً في الشيشان (مترجم)
مقتل 27 رجلاً في الشيشان (مترجم)

الخبر:   نشرت صحيفة المعارضة الروسية «نوفايا غازيتا» مقالاً عن الإعدام الجماعي للرعايا الشيشان. وقد كتب في المقال: «لقد كان إعداماً. في مساء اليوم السادس والعشرين من كانون الثاني/يناير، قتل عشرات الرجال - سراً، دون أي لوائح اتهام. نحن ننشر أسماء هؤلاء الـ 27 قتيلاً من الرجال. القائمة غير مكتملة».

0:00 0:00
Speed:
July 24, 2017

مقتل 27 رجلاً في الشيشان (مترجم)

مقتل 27 رجلاً في الشيشان

(مترجم)

الخبر:

نشرت صحيفة المعارضة الروسية «نوفايا غازيتا» مقالاً عن الإعدام الجماعي للرعايا الشيشان. وقد كتب في المقال: «لقد كان إعداماً. في مساء اليوم السادس والعشرين من كانون الثاني/يناير، قتل عشرات الرجال - سراً، دون أي لوائح اتهام. نحن ننشر أسماء هؤلاء الـ 27 قتيلاً من الرجال. القائمة غير مكتملة».

التعليق:

في كانون الأول/ديسمبر 2016 في العاصمة الشيشانية - غروزني، تم تنفيذ هجوم مسلح ضد رجال الشرطة، وقد أصيب أربعة من رجال الشرطة. وفي وقت لاحق، خلال عملية مكافحة "الإرهاب"، أفاد رئيس جمهورية الشيشان رمضان بن أحمد قديري عن مقتل 7 من المهاجمين و4 معتقلين، ثلاثة منهم في المستشفى. وبعد أسبوع، قتل جميع المعتقلين، من بينهم فتاة تبلغ من العمر 18 عاما، من قبل السلطات.

وقد كان الهجوم على الشرطة سبباً في رد فعل وحشي من جانب السلطات التي بدأت في ملاحقة أقارب المهاجمين. ووفقاً لـ"نوفايا غازيتا" فإنه في نهاية شهر كانون الثاني/يناير، تم اعتقال حوالي 200 شخص. ولم يتم تسجيل الأشخاص المعتقلين في مراكز الشرطة، ولكن تم نقلهم إلى الأقبية حيث تعرضوا للتعذيب. ووفقاً للمعلومات من مصادر مختلفة فقد تم إعدام ما بين 25 إلى 55 شخصاً دون محاكمة أو تحقيق.

وقد أكد مركز حقوق الإنسان "ميموريال" هذه المعلومات عن عمليات احتجاز جماعية للأشخاص، فضلاً عن قائمة الأشخاص القتلى التي نشرتها "نوفايا غازيتا". وقال أوليج أورلوف وهو عضو في مجلس "ميموريال" إن 4 من 6 رجال لم يعودوا إلى ديارهم. وقال أورلوف "هناك أسباب جدية تشير بشكل صحيح إلى مصير هؤلاء الـ 27 شخصاً، على الأرجح أنهم لم يعودوا على قيد الحياة، لم يكن لدينا الوقت الكافي للتحقق من الأشخاص الآخرين".

لقد ظلت نداءات مركز حقوق الإنسان "ميموريال" ووسائل الإعلام المستقلة التي تقدمت بطلبات للتحقيق في هذه المذبحة ضد أهل الشيشان من دون رد سواءً من المسؤولين الشيشان أو الروس. وعلق السكرتير الصحفي للرئيس الروسي، ديمتري بيسكوف عن المعلومات بشأن إعدام المدنيين: "نعم، رأينا هذه التقارير، التي نشرت في إحدى الصحف، لقد أحطنا علماً بها، أحطنا علماً أيضاً بتفاصيل هذه المعلومات التي أدلاها مسؤولون في وزارة الشؤون الداخلية في جمهورية الشيشان".

كثيراً ما يتم تسريب مثل هذه المعلومات عن الاعتقالات والتعذيب والقتل والاختطاف في الشيشان إلى وسائل الإعلام. والكرملين وهو القوة العليا في الاتحاد الروسي الذي عين الخائن قديري ليحكم الشيشان - يدعم تماماً هذه الاستراتيجيات والأساليب في معاقبة الناس.

وعلاوة على ذلك، فقد أعطي قديري رخصة كاملة، فيما يسمى "رخصة للقتل"، أي خلافاً لجميع العملاء الروس في المناطق الإسلامية الأخرى، يسمح له ارتكاب الجرائم الأكثر فظاعة ضد المسلمين: فإنه يستطيع تعذيب وقتل أي شخص دون أي محاكمة أو تحقيق، وكل ذلك يحدث بحجة الحرب ضد (الإرهاب والتطرف). يعيش الشعب الشيشاني في جو من الخوف والرعب. فالأشخاص يغادرون البلاد ببساطة إذا استطاعوا، والدليل على ذلك، العدد الكبير من اللاجئين من الشيشان الذين استقروا في أوروبا وهربوا من اضطهاد وتهديد قديري الذي نُصّب من قبل الكرملين.

لماذا يسمح لقديري بعدم التردد في قول ما يريد، والتصرف بشكل واضح وعلني في تناقض مع التشريع الروسي؟ ويدعو قديري القضاة الروس، ويهدد بإطلاق النار على أي شرطي قادم من منطقة أخرى إلى الشيشان. وكل هذا يغفر له من قبل الكرملين، الذي لا يمكن أن يغفره لأي شخص آخر في روسيا. ومن الواضح أن الكرملين يتذكر جيداً الحروب الشيشانية السابقة، حيث اضطرت السلطات الروسية للتوقيع على معاهدة سلام مخزية بعد الحرب الشيشانية الأولى، وكلفت الحرب الشيشانية الثانية روسيا الآلاف من الجنود القتلى. فالكرملين قلق من هذا ولا يريد بداية حرب شيشانية ثالثة.

ومن أجل منع اندلاع حرب جديدة في الشيشان، قام الكرملين بتعيين قديري الذى سيبذل كل ما في وسعه من عمليات الإعدام خارج نطاق القانون والقضاء وعمليات الاختطاف والاضطهاد لكل شخص يدعو إلى الإسلام الحقيقي في الشيشان.

نعم، إن قديري يصنف نفسه بأنه مسلم! حيث نظم مسيرة دفاعاً عن النبي محمد r، ووقف ضد حظر القرآن في الاتحاد الروسي، وبنى مسجداً كبيراً في وسط غروزني وما إلى ذلك. ولكن يجب على المسلمين ألا ينخدعوا بأعمال قديري الظاهرة! فهل دماء وشرف وممتلكات المسلمين مباحة لهذا الطاغية؟؟ حيث يصادر قديري المنازل ويطرد أقارب وأصدقاء المتهمين (بالإرهاب والتطرف) عن المدن، كما ويتعرضون للاختطاف، كما أن القضايا الجنائية ملفقة ضد هؤلاء الأشخاص.

قال الله تعالى في كتابه العظيم: ﴿وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا، وقال الرسول r: «لَزَوَالُ الدُّنْيَا أَهْوَنُ عِنْدَ اللهِ مِنْ قَتْلِ مُؤْمِنٍ بِغَيْرِ حَقٍّ».

أيها المسلمون! إن العمل مع حزب التحرير لإقامة دولة الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة فقط هو ما سينهي طغيان هؤلاء المستبدين وأسيادهم، وسيجلب السلام لبلادنا، حيث سيعيش المسلمون وفقاً لأحكام دينهم. والله المستعان.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

إلدر خمزين

عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست