مقتل جمال خاشقجي وتعرية النظام الديمقراطي العالمي
مقتل جمال خاشقجي وتعرية النظام الديمقراطي العالمي

الخبر:   الجبير: الملك سلمان بن عبد العزيز مصمم على محاسبة المسؤولين عن مقتل الصحافي جمال خاشقجي (الحياة السعودية 2018/10/21).

0:00 0:00
Speed:
October 24, 2018

مقتل جمال خاشقجي وتعرية النظام الديمقراطي العالمي

مقتل جمال خاشقجي وتعرية النظام الديمقراطي العالمي

الخبر:

الجبير: الملك سلمان بن عبد العزيز مصمم على محاسبة المسؤولين عن مقتل الصحافي جمال خاشقجي (الحياة السعودية 2018/10/21).

التعليق:

بعد أكثر من أسبوعين من النفي والتكذيب اعترف النظام السعودي بمقتل جمال خاشقجي داخل قنصليته في تركيا، وخرج لنا برواية أقرب إلى أفلام الكرتون، لا يصدقها طفل أو مجنون، على أن يصدقها عاقل أو مميز. إن مثل هذا الحدث يكشف فساد النظام الديمقراطي العالمي برمته وليس فقط النظام السعودي الذي ليس هو سوى إفراز من إفرازات هذا النظام، لقد أوضح هذا الحدث بشكل لا مراء فيه:

1- نفاق الدول الغربية، وعلى رأسها أمريكا وأوروبا، ونفاق المنظومة الغربية برمتها، من مجلس الأمن ومنظمة الأمم المتحدة ومنظمات حقوق الإنسان...، والتي تعتبر ركائز أساسية للنظام الديمقراطي العالمي، حيث تراهم يصمتون على القتل ولو طال الآلاف عندما تقتضي مصالحهم ذلك، ويثورون للقتل ولو كان لشخص واحد عندما تقتضي مصالحهم ذلك، يثورون عندما يكون الثوران لمصلحتهم ويصمتون عندما يكون القاتل حليفهم..

2- نفاق وكذب وعدم حيادية وسائل الإعلام، التي تعتبر أيضا من ركائز النظام الديمقراطي العالمي، فالخبر يكون قطعيا في وسيلة ما وكاذبا في وسيلة أخرى، وإننا لنتساءل كيف يحصل ذلك لو كانت تنقل الحدث كما هو كما تزعم أو تنقل الرأي بحياد كما تدعي، كما أن الخبر يكون محور الساعة يوميا متغافلين عن كل الأخبار الأخرى عندما تقتضي مصالحهم ذلك، فيما يتم تجاهله إن كان خلاف مصالحهم، بل أكد أيضا أنها قنوات عميلة وتابعة تدور مع أصحاب أجنداتها حيث دارت مصالحهم بعيدا عن الحياد وبعيدا المصداقية وبعيدا عن الحقيقة..

3- نفاق وكذب الدول القطرية التي أفرزها النظام الديمقراطي العالمي على أنقاض دولة الخلافة في بلاد المسلمين، حيث وجدناها تكذّب وتستنكر ما اعتبرتها إشاعات ومؤامرات على السعودية قبل اعترافها، ثم تشيد بإجراءاتها بعد الاعتراف بدلا من أن تخجل من موقفها المخزي، وذلك ببساطة لأن مصالحها هي التي تسيرها بعيدا عن كل مبدأ..

4- لقد أثبت الحدث أن المال في النظام الرأسمالي الديمقراطي مقدم على البشر والمبادئ والمفاهيم والحقوق، حيث ضرب ترامب رأس النظام في أمريكا وهي رأس النظام الرأسمالي الديمقراطي، كل المبادئ التي كانت تتشدق بها الرأسمالية العالمية، بصراحته الوقحة ودون أن يحسب حسابا لأحد، من أجل أموال السعودية، وما زال يبتزها وسيبقى من أجل المال، ضاربا عرض الحائط بكل ما كانت تدعيه أمريكا من رعايتها حقوق الإنسان والحريات..

5- لقد كشف الحدث بشكل واضح كيف تختلف الأدوار والمواقف باختلاف العمالات والتبعيات، فترى أمريكا تقف بجانب عميلها في السعودية، بينما تهاجمه أوروبا، وقد ظهر ذلك جليا في كل المواقف الدولية، بما فيها موقف أردوغان الركيك الذي أجبرته تبعيته لمسايرة الرواية السعودية على سذاجتها، وموقف روسيا الموافق للموقف الأمريكي بشكل يحاكي سياستها الخارجية السائرة مع أمريكا حاليا، مما يثبت أن النظام الديمقراطي العالمي أفرز لنا أنظمة عميلة وتابعة وليست أنظمة ذات سيادة كما يدعون..

6- لقد كشف الحدث أن الإنسان أصبح لا يأمن على نفسه في أية بؤرة تسودها الديمقراطية الرأسمالية المتوحشة، فحتى المواقع الدبلوماسية والتي طالما كانت مناطق آمنة حتى في حروب الجاهلية، أصبحت أماكن للقتل والتعذيب في ظل النظام الديمقراطي العالمي، على مرأى ومسمع من العالم الديمقراطي..

7- لقد كشف الحدث ما يسمى مشايخ السلطان وعلماءهم وأثبت أنهم ليسوا سوى إفراز من إفرازات النظام الديمقراطي العلماني، الذي يفصل الدين عن السياسة أو يطوعه لخدمة الساسة، فتحول دور هؤلاء العلماء من محاسبة الحكام وأمرهم بالمعروف ونهيهم عن المنكر في ظل نظام الإسلام، إلى آلات ختم وتوقيع لجرائم الحاكم وكذبه، وفي الوقت الذي ينص نظام الإسلام على أن زوال الدنيا أهون عند الله من قتل مؤمن بغير حق، وأن الكذب يهدي إلى الفجور والفجور يهدي إلى النار.. تراهم في ظل النظام الديمقراطي يبررون حتى القتل من أجل عيون السلطان الرأسمالي الذي جاء على أنقاض نظام الإسلام ولا يتورعون عن نقل الكذب والدفاع عن الكذبة، واللافت هنا أن الحدث أيضا كشف مدى صغار هؤلاء في أعين حاكمهم الذي اتخذوه إلهاً من دون الله، ففي الوقت الذي عمم عليهم خطبة النفي والكذب قام بعد ساعات قليلة بالاعتراف، ضاربا بهم جميعا عرض الحائط، ولكنهم لا يتعظون..

8- لقد كشف الحدث أكثر وأكثر كم هو النظام السعودي الذي أفرزته الرأسمالية الديمقراطية على أنقاض الخلافة، موغل في الإجرام والاستكبار والاستخفاف حتى وصل به الحد أن يقتل أبناء بلده في سفارته دون أن يحسب حسابا لأحد، وبكل بساطة لو كشف الأمر كما حصل، فلا يتورع أن يوجد أكباش فداء يضحي بهم قربانا لكرسيه ونظامه، وهذه هي النهاية الطبيعية لكل عميل ينتهي دوره في ظل النظام الديمقراطي العالمي، وهي أيضا نهاية طبيعية لكل من يشارك ظالما في إجرامه، وهل يستغرب ذلك على من يقتل المسلمين في اليمن بحجة الشرعية الديمقراطية ويساهم في قتلهم في الشام بحجة مكافحة (الإرهاب) من أجل الديمقراطية!..

لقد اتخذ النظام الديمقراطي العالمي بكل مكوناته من دول ومؤسسات ومنظمات ووسائل إعلام ورجال دين، اتخذ المصلحة إلهاً يعبد من دون الله وشريعة دون كل مبدأ، وقانونا فوق كل القوانين، فتراهم يأكلون أصنام أفكارهم وحرياتهم ومبادئهم وجمعياتهم وقوانينهم وسياداتهم، من أجل المال أو من أجل مصالحهم ومصالح أسيادهم، على حساب البشرية التي استعبدها وأشقاها وأفقرها وأدناها إلى درك الأنعام في الجري وراء لقمة العيش واتباع الغرائز والشهوات على حساب كل فطرة وكل دين، بل إن ما نراه في النظام الديمقراطي العالمي اليوم لا تتقبله الأنعام في الغاب..

لقد آن للبشرية جمعاء أن تدرك عظم فساد هذا النظام الديمقراطي العالمي، وأن لا خلاص لها جميعا إلا بنظام الإسلام المقنع للعقل الموافق للفطرة الذي يملأ القلب طمأنينة والكون عدلا وسكينة، ولقد آن للمسلمين جميعا أن يدركوا عظم المسؤولية الملقاة عليهم تجاه البشرية كلها، فيجعلوا العمل لوضع نظام الإسلام موضع التطبيق هو قضيتهم المصيرية التي يفنون أعمارهم من أجلها..

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمد بن إبراهيم – بلاد الحرمين الشريفين

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست