مشكلات مصر سببها الرأسمالية الحاكمة والزيادة السكانية طاقة لا تستغلها الدولة بل تعطلها
مشكلات مصر سببها الرأسمالية الحاكمة والزيادة السكانية طاقة لا تستغلها الدولة بل تعطلها

الخبر:   نقل موقع الخليج أون لاين الخميس 2020/12/03م، قول رئيس الوزراء المصري، مصطفى مدبولي، إن "جزءا كبيرا من مشكلة الدولة المصرية يكمن في الزيادة السكانية، التي تقلل دوماً من جهود التنمية ونتائجها، والاعتقاد بأن الطفل يأتي برزقه هو اعتقاد خاطئ". وأضاف مدبولي في مؤتمر صحفي، الخميس، أنه "كلما زاد عدد أفراد الأسرة، ارتفعت مصروفاتها، وارتفعت كذلك معدلات الفقر بصورة كبيرة، وهو ما دفع الحكومة إلى إطلاق برنامج كبير في مواجهة الزيادة السكانية اعتباراً من بداية العام المقبل". وحسب بيانات صادرة عن البنك المركزي المصري، فإن الديون الخارجية في مصر قفزت إلى 123.5 مليار دولار بنهاية حزيران/يونيو الماضي، فيما توقع صندوق النقد ارتفاع الديون الخارجية إلى 126.7 مليار دولار بنهاية العام المالي الجاري، ثم إلى 127.3 مليار دولار في نهاية حزيران/يونيو 2022، بينما كانت تبلغ لدى وصول "عبد الفتاح السيسي" إلى الحكم نحو 46 مليار دولار فقط.

0:00 0:00
Speed:
December 07, 2020

مشكلات مصر سببها الرأسمالية الحاكمة والزيادة السكانية طاقة لا تستغلها الدولة بل تعطلها

مشكلات مصر سببها الرأسمالية الحاكمة

والزيادة السكانية طاقة لا تستغلها الدولة بل تعطلها

الخبر:

نقل موقع الخليج أون لاين الخميس 2020/12/03م، قول رئيس الوزراء المصري، مصطفى مدبولي، إن "جزءا كبيرا من مشكلة الدولة المصرية يكمن في الزيادة السكانية، التي تقلل دوماً من جهود التنمية ونتائجها، والاعتقاد بأن الطفل يأتي برزقه هو اعتقاد خاطئ". وأضاف مدبولي في مؤتمر صحفي، الخميس، أنه "كلما زاد عدد أفراد الأسرة، ارتفعت مصروفاتها، وارتفعت كذلك معدلات الفقر بصورة كبيرة، وهو ما دفع الحكومة إلى إطلاق برنامج كبير في مواجهة الزيادة السكانية اعتباراً من بداية العام المقبل". وحسب بيانات صادرة عن البنك المركزي المصري، فإن الديون الخارجية في مصر قفزت إلى 123.5 مليار دولار بنهاية حزيران/يونيو الماضي، فيما توقع صندوق النقد ارتفاع الديون الخارجية إلى 126.7 مليار دولار بنهاية العام المالي الجاري، ثم إلى 127.3 مليار دولار في نهاية حزيران/يونيو 2022، بينما كانت تبلغ لدى وصول "عبد الفتاح السيسي" إلى الحكم نحو 46 مليار دولار فقط.

التعليق:

هكذا يكون حال العلمانيين وأدوات النظام الرأسمالي في تصدير ما يصنعون من أزمات ومشكلات ويتنصلون منها ومن تبعاتها، فالزيادة السكانية التي يتحدث عنها رئيس الوزراء طاقة هائلة لو أحسن استغلالها ووظفها على الشكل الصحيح أو حتى سمح لها باستغلال موارد الدولة ومقدراتها التي توهب للغرب بلا ثمن.

أما قوله بخطأ اعتقاد أن الطفل يولد برزقه فمن الطبيعي أن يصدر عن علماني يفكر على أساس النفعية ولا اعتبار عنده لأفكار الإسلام وأحكامه الشرعية، وقوله هذا مخالف لعقيدة الإسلام التي تقر بأن كل إنسان يولد برزقه ورزقه على الله من يوم مولده وحتى وفاته، ولا حتى دابة من دواب الأرض ﴿وَكَأَيِّن مِنْ دَابَّةٍ لاَ تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾، ﴿وَمَا مِن دَآبَّةٍ فِي الأَرْضِ إِلاَّ عَلَى اللّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ﴾، وأكثر من ذلك أن الله خلق الأرض وقدر فيها أقواتها إلى يوم القيامة، ﴿وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِن فَوْقِهَا وَبَارَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَاء لِّلسَّائِلِينَ﴾. هذه عقيدتنا والتي لا نحتاج لإثباتها من الواقع الذي يدعي رئيس الوزراء أنه أثبت خطأها! ولو تمعن وتفكر جيدا في الواقع لعلم يقينا أنه لولا أرزاق الناس المكتوبة لماتوا جوعا جراء ما يطبقون من سياسات البنك الدولي التي يدعي أنها إصلاحية، هذا ما يقوله الواقع الذي يثبت صحة عقيدتنا رغم ثقتنا التامة ويقيننا بصدقها دون النظر لتصديق الواقع أو تكذيبه، بينما يستطيع النظام، أي نظام، أن يستغل تلك الزيادة السكانية كطاقات بشرية تدير له عجلة الإنتاج، فيستطيع مثلا أن يمكن الشباب من زراعة الصحراء الواسعة بالقمح فيفيض القمح وتتمكن الدولة من تصديره بدلا من استيراده، ويستطيع أي نظام أن يستغل تلك الطاقات البشرية الهائلة في استخراج واستخلاص الثروات من باطن الأرض من ذهب ونفط وغاز وغيرها من المعادن بدلا من تمكين الشركات الأجنبية من نهبها بلا ثمن، يستطيع أي نظام أن يجعل من الزيادة السكانية طاقة منتجة لو لم يملك غيرها، لكن يشترط أن يكون نظام رعاية لا جباية يفكر في رعاية شعبه لا جباية أموالهم.

إن الواقع الذي نعيشه يثبت فشل الرأسمالية التي يطبقها النظام وفساد سياساتها التي أوجدت الفقر والجوع والمرض وكما قلنا لولا أن للناس أرزاقاً مكفولة لمات الناس في مصر جوعا تحت نظام لم يكتف بتمكين الغرب من نهب ثروتهم بل تعدى ذلك إلى نهب جهودهم ومدخراتهم وقوت عيالهم، وصارت كل معالجات الرأسمالية لأزمات مصر تزيد حدتها، فالأزمة هي في الرأسمالية نفسها وفساد رؤيتها لمشاكل الناس وبالتالي فساد ما تطرحه من حلول لتلك المشكلات التي لا تخرج عن القروض التي تزيد الناس فقراً وتزيد بلادهم ارتهانا للغرب أي تمكن الغرب من استعبادهم لعقود قادمة تحت ضغط الديون المتراكمة وخدمتها.

حتى فكرة تقليص الزيادة السكانية هي فكرة يفرضها الغرب على بلادنا لتقليل الأفواه التي ربما يضطر لإطعامها مستقبلا.

إن مصر لا تحتاج للغرب ولا سياساته ولا قروضه التي لا ينال منها أهل مصر شيئا إلا تبعاتها وما تجره معها من سياسات، بل ما تحتاجه مصر حقا هو أن تستبدل بهذا النظام نظاما جديدا يرعى الناس حق الرعاية ويستفيد من طاقاتهم ويمكنهم من الانتفاع بثروات بلادهم على الوجه الصحيح وهذا ما لم ولن توفره الرأسمالية، والنظام الوحيد الذي يمكن الناس منه هو الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، والغرب وساسته يدركون هذا تمام الإدراك وهو ما يقلقهم من الإسلام ومن ظهوره وعودة سلطانه ودولته التي تطبقه، فيراه الناس واقعا عمليا يظهر عدله ورحمته فيدخل الناس في دين الله أفواجا، وحينها ستثور شعوبهم لتكون جزءا من دولة الإسلام دولة العدل والبر، نسأل الله أن يعجل بها وأن تكون مصر حاضرتها وأن نكون من جنودها وشهودها.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

سعيد فضل

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست