مشكلة هشام النجار مع حزب التحرير!
مشكلة هشام النجار مع حزب التحرير!

الخبر:   مقالة للكاتب هشام النجار بعنوان: "الفضاء الرقمي ساحة بديلة لحزب التحرير المحظور في إندونيسيا" بتاريخ 7/11/2021، في موقع العرب. ...

0:00 0:00
Speed:
November 14, 2021

مشكلة هشام النجار مع حزب التحرير!

مشكلة هشام النجار مع حزب التحرير!

الخبر:

مقالة للكاتب هشام النجار بعنوان: "الفضاء الرقمي ساحة بديلة لحزب التحرير المحظور في إندونيسيا" بتاريخ 2021/11/7، في موقع العرب.

التعليق:

يبدو أن لدى الكاتب مشكلة مع حزب التحرير بخاصة، والجماعات الإسلامية بعامة، أدّت به لأن يضع جملة من الافتراءات على حزب التحرير، فهو يتهمه مرة بالتطرف، وأخرى بالإرهاب، وثالثة بالراديكالية، ورابعة بجمع الأموال، ويضعه في صف الحركات التكفيرية، ويتهمه أنه قاطرة فكرية وأيديولوجية وتنظيمية لكثير من الجماعات المتطرفة، ويعزّ عليه أن يرى حزب التحرير يعمل في الفضاء الرقمي بعد صدور قرار بحظره من قبل الدولة في إندونيسيا، وكأنّه يحرّض السلطات هناك ويلفت نظرهم إلى أنشطة حزب التحرير الرقمية! فما مشكلة الكاتب مع حزب التحرير، ليتخذ منه موقف المعادي، ويصطفّ في صفوف أعداء أمته ضد حزب التحرير؟

ولعل الكاتب المذكور يصنّف نفسه منافحاً عن الدول القطرية التي أوجدها الاستعمار في بلادنا، إذ يقول: "يرجع خطر الحزب لطبيعة القناعات والأفكار التي يروجها والمتمثلة في أن العالم الإسلامي يجب أن يكون خاليا من جميع أشكال الاستعمار"، ونقول للكاتب: إن كانت الدعوة لإخلاء بلاد المسلمين من الاستعمار تهمة فنعمت التهمة، ونعتز ونفتخر بها، فهي مطلب الأمة الإسلامية من شرقها إلى غربها، إلا عند نفر قليلين استمرأوا الذل والهوان في وجود الاستعمار.

يريد الكاتب أن يقول شيئاً عن حزب التحرير على أسلوب (عنزة ولو طارت)، فهو مع أنه نفى أن يكون حزب التحرير يستخدم العنف بخلاف جماعات أخرى، لكنه يقول: "ذلك أن الحزب لا يلجأ إلى استخدام العنف ويؤجله لمراحل لاحقة وفق تفسيرات خاصة للتاريخ الإسلامي" ليوحي للقارئ أن حزب التحرير لا يستخدم العنف الآن ولكنه سيفعل لاحقاً، وفي هذا الأسلوب من التضليل ما لا يخفى، فحزب التحرير لا يستخدم العنف ولن يستخدمه لأنه يلتزم سيرة رسول الله ﷺ، وهذا ما تنصّ عليه كتبه ونشراته الكثيرة، ويشهد القاصي والداني له بذلك، ثم يطلق الكاتب عبارة موهمة مضللة لإبعاد الأمة عن حزب التحرير إذ يقول "وفق تفسيرات خاصة للتاريخ الإسلامي" دون ذكر شيء من تلك التفسيرات، ليجعل عبارته مفتوحة على كل الاحتمالات التي تخطر ببال القارئ.

من الواضح أن الكاتب لا يعرف حزب التحرير، ولم يقرأ له، فهو يقول: "يحاول حزب التحرير الالتفاف على قرار حظره بالدخول مع مؤسسات الدولة المعنية وبعض المسؤولين في نزاعات قضائية وجدل قانوني بشأن طبيعة الحزب وهويته، هل هو هيئة دعوية معنية بالأفكار حيث يُعَرِف الحزب نفسه كونه حركة دينية جماهيرية، ما يندرج تحت حرية الرأي والتعبير، أم هو حزب سياسي يعتنق ويروج لأفكار متشددة تغذي الإرهاب وتهدد سلامة البلاد ووحدتها"، فهو لا يعلم أن حزب التحرير حزب سياسي مبدؤه الإسلام وغايته استئناف الحياة الإسلامية، وحزب التحرير كتب هذا في كتبه ونشراته، ويعرّف نفسه بهذا التعريف دون أن يخافَ أحداً غير الله تعالى.

يعترف الكاتب بعدم قدرة "علماء ودعاة جمعية نهضة العلماء والجمعية المحمدية الإصلاحية في الفضاء الرقمي على تحييد طروحات ناشطي حزب التحرير وأفكارهم تماماً"، ويعترف بقدرة قيادة حزب التحرير وعناصره الترويج لأفكارهم، ويعترف بخبرتهم في العمل من خلال الساحة الرقمية، ويعترف بانتشار حزب التحرير في إندونيسيا، ويعترف بتأثيره حتى على الجماعات الأخرى واستفادتها من أساليب حزب التحرير، ويعترف بقدرة حزب التحرير على اختراق المؤسسات الرسمية والجامعات، ويقول: "أتاحت الميزات التي يمتلكها الحزب عن غيره لقادته، فضلا عما يمتلكه من شبكه دولية قوية تتلقى التعليمات والتمويل المنتظم من مراكز المنظمة بالشرق الأوسط، أن يلعبوا أدوارا في التحول الأيديولوجي للحركات الإسلامية الأخرى من خلال طبيعة المفاهيم التي ينشطون في نشرها، ما جعل الحزب قوة دافعة رئيسية على المستوى الفكري للتطلع إلى فرض الشريعة الإسلامية وجعل إندونيسيا إحدى ولايات الخلافة الأممية"، ومع كل هذه الاعترافات من الكاتب بحق حزب التحرير وقدراته إلا أنّه يعزّ عليه ذلك، إذ يصرّ في نهاية مقالته على وصم حزب التحرير بالإرهاب، ويساوي بين قرار حظره وعدم حظره لأنه ما زال نشيطاً على الساحة الرقمية!! فماذا يريد الكاتب؟ وهذا الذي يريده لمصلحة من؟

أخيراً نقول للقراء الكرام: لقد أيقظ حزب التحرير في الأمة اهتمامها بعقيدتها ودينها، وأثار فيها الشوق للعودة لعزتها وكرامتها، وأثار فيها نوازع الشوق للوحدة مع باقي أجزاء الأمة الإسلامية، فأصبح الكثيرون في إندونيسيا وفي غيرها يتلقّون الطروحات الصحيحة والقوية من حزب التحرير لإقامة الخلافة على منهاج النبوة، وإعادة بلاد المسلمين ولايات في هذه الدولة، ولكنّ هذه الدعوة تقضّ مضاجع الكفار المستعمرين من الدول الكبرى وأشياعهم وأتباعهم والمضبوعين فيهم من أبناء المسلمين، فأصبحوا يرون في حزب التحرير خطراً على مصالحهم، وأخذوا يطلقون صيحات التحذير من حزب التحرير، لكنّ الله سبحانه وتعالى بالغ أمره، قد جعل الله لكل شيء قدراً.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

خليفة محمد – ولاية الأردن

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست