مشروع التدابير الجديدة المطبقة في تركيا
مشروع التدابير الجديدة المطبقة في تركيا

الخبر: سيتم تمديد فترة الإدانة مع وقف العقوبة إلى 3 سنوات. وفقاً للترتيب المؤقت، سيتم تمديد فترة الإدانة مع وقف العقوبة التي تبلغ مدتها عاماً واحداً فيما يتعلق بالجرائم المرتكبة حتى 3 آذار/مارس 2020 إلى 3 سنوات، باستثناء جرائم الإرهاب والاتجار بالمخدرات والاعتداء الجنسي والاعتداءات والقتل العمد وجرائم الإصابات المتعمدة التي تسبب تشوهاً دائماً للوجه والعنف والتعذيب والاضطهاد ضد المرأة مع احترام الحق في الخصوصية. (وكالة الأناضول)

0:00 0:00
Speed:
April 23, 2020

مشروع التدابير الجديدة المطبقة في تركيا

مشروع التدابير الجديدة المطبقة في تركيا
(مترجم)


الخبر:


سيتم تمديد فترة الإدانة مع وقف العقوبة إلى 3 سنوات. وفقاً للترتيب المؤقت، سيتم تمديد فترة الإدانة مع وقف العقوبة التي تبلغ مدتها عاماً واحداً فيما يتعلق بالجرائم المرتكبة حتى 3 آذار/مارس 2020 إلى 3 سنوات، باستثناء جرائم الإرهاب والاتجار بالمخدرات والاعتداء الجنسي والاعتداءات والقتل العمد وجرائم الإصابات المتعمدة التي تسبب تشوهاً دائماً للوجه والعنف والتعذيب والاضطهاد ضد المرأة مع احترام الحق في الخصوصية. (وكالة الأناضول)

التعليق:


قانون التدابير المطبقة، الذي كان مدرجاً في جدول الأعمال وتمت مناقشته لأكثر من عام، تم تمريره من خلال البرلمان من خلال مشروع قانون حزب العدالة والتنمية وحزب الحركة القومية، ودخل حيز التنفيذ بموجب القانون رقم 7242 - 2020/04/14 وقد نشر في الجريدة الرسمية. "يوجد ما يقارب 300 ألف شخص في السجون في تركيا حالياً، و257 ألف سجين و43 ألف محتجز. لم تنشر وزارة العدل بعد إحصاءات السجون لعام 2019، ولكن وفقاً للمعلومات التي تم الحصول عليها من مصادر وزارة العدل، حتى 20 آذار/مارس، يوجد 65 ألفاً سجين بتهمة تهريب المخدرات، و45 ألفا للسرقة، و37 ألفاً للإرهاب، و34 ألفاً للقتل، و27 ألفاً للنهب والابتزاز، و4000 لتشكيل وإدارة الجماعات الإجرامية المنظمة، و89 ألفاً لجرائم أخرى. وسيستفيد من هذه التدابير الجيدة الـ"65 ألف شخص الذين ارتكبوا جرائم تهريب المخدرات، و45 ألف شخص الذين ارتكبوا جرائم سرقة، و27 ألف شخص الذين ارتكبوا جرائم نهب وابتزاز". (t24.com 2020/04/14)


كما يتبين من الأرقام أعلاه، فإن النظام الحالي ينتج المجرمين باستمرار والعدد الحالي للسجون والبالغ 355 غير كاف. لهذا السبب، يتعين على الدولة منح العفو كل خمس عشرة أو عشرين سنة في المتوسط لأن السجون تفيض باستمرار. حتى الآن، بلغ عدد الأشخاص تحت المراقبة 456157 شخصاً، ويتم تنفيذ أعمال التحسين والإشراف والمتابعة لهذا العدد من المدانين من 4.938 موظفاً.


نريد التأكيد على الأمور التالية فيما يتعلق بالترتيبات الجديدة وتطبيقها.


1- قال أردوغان في أيلول/سبتمبر 2018 في المطار قبيل رحلته إلى أمريكا: "إذا كانت الجريمة ضد الدولة، فقد يكون للدولة سلطة العفو عنها. ولكن إذا كانت ضد الأفراد، فإن الحكومة لا تملك سلطة العفو عنها. لكن السلطة التي يمكن أن تغفر هي الممثلة عن هؤلاء الأفراد، الشعب المضطهد والمظلوم". (tr.euronews). ومع ذلك، في حين إن المعتقلين والمدانين في نطاق الجرائم ضد الدولة في السجون الآن وفقاً للقانون الحالي، فإنه سيتم استبعاد غالبية الذين يقومون بجرائم ضد الأفراد الآخرين. وبعبارة أخرى، ما يقوله الحكام لا ينطبق مع التدابير الجديدة أبداً.


2- أضافت المحكمة العليا بنوداً غير مشروعة إلى هذا القانون بحيث يمكن تعديل مجاله. كما هو الحال في قوانين العفو السابقة، يمهد الحكام الطريق أمام المعارضة لتقديم اعتراضات في المحاكم العليا من أجل تمكين الإفراج عن بعض المدانين المستبعدين من نطاق العفو. وبالتالي، فإنهم يوسعون نطاق العفو. ومع ذلك، أثناء قيامهم بذلك، يقومون بتبرئة أنفسهم بالقول إننا لم نفعل ذلك، بل أرادت المعارضة ذلك. ولهذا السبب، فإن الإفراج عن بعض المدانين المستبعدين من نطاق العفو على المحك.


3- في حين إن المسلمين الذين يتم القبض عليهم وإرسالهم إلى السجون بسبب حملهم الدعوة الإسلامية يدخلون في نطاق الإرهاب ويوضعون في السجن، يتم الإفراج عن جميع اللصوص والمحتالين، وغيرهم. لأنه بموجب هذا القانون، سوف يستفيد من الترتيبات الجديدة 45 ألف شخص الذين ارتكبوا السرقة و27 ألف شخص الذين ارتكبوا النهب والابتزاز. ومع ذلك، لم يتم الإفراج عن أولئك الذين يتم اعتقالهم في نطاق الزواج المبكر بسبب اتفاقية القضاء على جميع أشكال التمييز ضد المرأة.


4- في الدولة الإسلامية، حيث يجري تنفيذ أحكام الإسلام، يكاد يكون مفهوم العفو غير موجود. إنه موجود فقط على الهامش فيما يتعلق ببعض الجرائم المعلقة وفي إطار شروط معينة. ومع ذلك، ليس لدى الخليفة ولا أي شخص آخر سلطة العفو على من يحكم عليهم بسبب جرائم ارتكبوها (باستثناء الجرائم ضد الأشخاص بأجسادهم). لأن العقوبة بموجب الشريعة الإسلامية هي فرصة للشخص ليكفر عن ذنبه (جريمته التي ارتكبها) قبل الآخرة، ومن ناحية أخرى فهي عقوبة للردع.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
محمد حنفي يغمور

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست