مشروع قانون مكافحة تسليم المجرمين في هونغ كونغ: اضطراب "الديمقراطية" من الداخل - ضد بكين (مترجم)
مشروع قانون مكافحة تسليم المجرمين في هونغ كونغ: اضطراب "الديمقراطية" من الداخل - ضد بكين (مترجم)

الخبر:   ذكرت هيئة الإذاعة البريطانية بي بي سي بأن مئات الآلاف من الناس يحتجون في هونغ كونغ على مشروع قانون مثير للجدل لتسليم المجرمين، على الرغم من تعليق مشروع القانون. يطالب الحشد بأعداده الغفيرة بإلغاء مشروع القانون - الذي سيسمح بتسليم المجرمين من قبل هونغ كونغ إلى الصين القارية - دون أي قيد. يُخشى أن يتسبب مشروع القانون في انفتاح المدينة على القانون الصيني الرئيسي وأن الناس من هونغ كونغ قد يصبحون خاضعين لنظام قانوني مختلف. اعتذر زعيم المنطقة، كاري لام، يوم الأحد عن التسبب في "نزاعات في المجتمع" بشأن مشروع القانون. وقبل ذلك بيوم، أُجل مشروع القانون بعد احتجاجات حاشدة هذا الأسبوع. يدعو العديد من المتظاهرين، الذين يخشون زيادة النفوذ الصيني على هونغ كونغ، السيدة لام إلى الاستقالة بسبب الاضطرابات. ...

0:00 0:00
Speed:
June 22, 2019

مشروع قانون مكافحة تسليم المجرمين في هونغ كونغ: اضطراب "الديمقراطية" من الداخل - ضد بكين (مترجم)

مشروع قانون مكافحة تسليم المجرمين في هونغ كونغ:

اضطراب "الديمقراطية" من الداخل - ضد بكين

(مترجم)

الخبر:

ذكرت هيئة الإذاعة البريطانية بي بي سي بأن مئات الآلاف من الناس يحتجون في هونغ كونغ على مشروع قانون مثير للجدل لتسليم المجرمين، على الرغم من تعليق مشروع القانون. يطالب الحشد بأعداده الغفيرة بإلغاء مشروع القانون - الذي سيسمح بتسليم المجرمين من قبل هونغ كونغ إلى الصين القارية - دون أي قيد. يُخشى أن يتسبب مشروع القانون في انفتاح المدينة على القانون الصيني الرئيسي وأن الناس من هونغ كونغ قد يصبحون خاضعين لنظام قانوني مختلف. اعتذر زعيم المنطقة، كاري لام، يوم الأحد عن التسبب في "نزاعات في المجتمع" بشأن مشروع القانون. وقبل ذلك بيوم، أُجل مشروع القانون بعد احتجاجات حاشدة هذا الأسبوع. يدعو العديد من المتظاهرين، الذين يخشون زيادة النفوذ الصيني على هونغ كونغ، السيدة لام إلى الاستقالة بسبب الاضطرابات.

سيسهل مشروع قانون تسليم المجرمين نقل الهاربين بين هونغ كونغ وجمهورية الصين الشعبية وتايوان وماكاو. في حالة الموافقة، يمكِّن تسليم الأشخاص الذين يصبحون مشتبهاً بهم في هونغ كونغ إلى الصين - وهي دولة يطلق عليها شعب هونغ كونغ البر الرئيسي للصين. وقالت حكومة هونغ كونغ إن القانون يهدف إلى عدم جعل هونغ كونغ "جنة" للمجرمين. (Tirto.id)

التعليق:

من الواضح بأن الحركة المؤيدة للديمقراطية والحرية في تحرك هونغ كونغ لها روح معادية للصين تُظهر بقايا النفوذ الاستعماري الغربي في المنطقة، على الرغم من أن تسليم هونغ كونغ إلى الصين من بريطانيا كان في عام 1997. هذه المظاهرة الكبيرة هي اللحظة الجماهيرية الثانية المؤيدة للديمقراطية بعد 2014 في ثورة المظلات التي لها النبرة نفسها ضد نظام "مناهضة الديمقراطية" في بكين. يبدو أن البريطانيين تمكنوا من استثمار القيم بطريقة تفكير غربية في أهل هونغ كونغ. كانت رائحة التنافس بين الصين والغرب قوية للغاية، وكان واضحاً من الروح المعادية للصين القوية التي تراها شخصيات حركة هونغ كونغ مثل بيني تاي يو تينغ كشخصيات فكرية وجوشوا وونغ كناشط شاب متشدد في ذلك الوقت.

إن العلاقات المتوترة بين هونغ كونغ وبكين ليست إلا نتيجة لتطبيق نظام الدولة الواحدة، الذي أطلقه دنغ شياو بينغ لتحقيق وحدة الصين وإعادة توحيدها تحت رعاية جمهورية الصين الشعبية. إحدى الدول موضوع البحث والحديث هي جمهورية الصين الشعبية مع حكومتها المركزية في بكين. في حين إن النظامين المشار إليهما هما نظامان اشتراكيان ذوا سلطة مركزية في جمهورية الصين الشعبية وفي الجانب الآخر الرأسمالية والديمقراطية على مستويات مختلفة في هونغ كونغ وماكاو وتايوان.

تحت رعاية "دولة واحدة ونظامان"، وعدت بكين بثلاثة أقاليم ذات استقلالية واسعة لرعاية السلطة التنفيذية والتشريعية والقضائية. منعت الحكومة الصينية المركزية في بكين من التدخل ولم يكن الحزب الشيوعي الصيني حاضراً رسمياً لإدارة الشؤون الإقليمية. يحمي القانون حرية الرأي والصحافة والدين والاحتجاج. بينما بكين هي المسؤولة عن الدفاع والشؤون الخارجية.

هذا التطبيق للسياسة المزدوجة غالبا ما يستخدمه الغرب لمقاضاة السلطة المركزية في بكين التي تعتبر معادية للديمقراطية. وغالباً ما يستهدف النشطاء المؤيدون للديمقراطية في بكين نظام الحكم القمعي في بكين المنعكس في مشروع قانون تسليم المجرمين (كمثال واحد) حيث يدعمهم الغرب. كما أعربت وسائل الإعلام الموالية للصين بصوت عالٍ عن تعكير الغرب ودوره في هذه المظاهرة.

لكن بصرف النظر عن التنافس بين الصين والغرب، فإن النقد الأساسي حول فكرة الديمقراطية والحرية - التي يحترمها متظاهرو هونغ كونغ - مهم للغاية، خاصة بالنسبة للمسلمين مثلنا. وبالتأكيد، يجب أن نرى ذلك فقط من منظور الفكر الإسلامي. يجب أن يكون المسلمون الذين يتمتعون بوضعهم كشهداء على الناس قادرين على التصرف وفقاً لمبادئهم وعقائدهم. لكي لا يتم خداعك بالأفكار البراقة المتمثلة في الحرية والديمقراطية من الغرب، فضلاً عن عدم الوقوع في فخ الهيمنة الاقتصادية للصين، فإن كلاً من الغرب والشرق يمثلان قيماً وأنظمة بشرية.

من الواضح بأن الديمقراطية ليست هي الحل ولا مستقبل العالم اليوم الذي يعاني من أزمات متعددة. ليست الديمقراطية هي الحل بالنسبة لهونغ كونغ وإندونيسيا أو حتى الدول الغربية. إن فشل الديمقراطية يجب أن يجعلنا ندرك القيود الإنسانية في تنفيذ القواعد والقوانين. فالعقل البشري ضعيف ومحدود؛ ولا يمكن تحديد احتياجات البشر الآخرين. في المقابل، لدى الإسلام مصدر القانون لتنظيم كل جانب من جوانب حياة الإنسان المستمدة ممن خلق العقل البشري نفسه. وهو الله، الذي يعلم كل ما يحتاجه البشر.

عندما يكون على المسلمين واجب الدعوة الإسلامية للبشرية جمعاء، يجب عليهم الاتصال بالعالم، وإدراكهم التام لظروفهم، وفهم مشاكلهم، ومعرفة الدوافع السياسية لمختلف البلدان والأمم، ومتابعة الأنشطة السياسية التي تحدث في العالم. لقد من الله سبحانه وتعالى على المسلمين بشرف عظيم ومكانة عظيمة. لكن الموقف الاستثنائي والبركات الوفيرة لرب العالمين سبحانه وتعالى، تحمّلنا في الوقت ذاته مسؤولية كبيرة، كما ذكر الله سبحانه وتعالى في كتابه الكريم - أن نكون "شهداء على البشرية". وذكر الدور العظيم للمسلمين في سورة البقرة، حيث يقول الله تعالى: ﴿وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطاً لِّتَكُونُواْ شُهَدَاء عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا﴾.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

فيكا قمارة

عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست