مصلحة مَن يخدم الإسلامُ التقليدي؟
مصلحة مَن يخدم الإسلامُ التقليدي؟

الخبر: أقامت اللجنة الدينية والإدارة الدينية في اتجاه الالتزام بالإسلام التقليدي عدداً من الفعاليات في قرغيزستان خلال الأسبوع الماضي، وفي الوقت نفسه، تعقد اجتماعات في مناطق مختلفة لشرح قانون "حرية الدين والمنظمات الدينية". وكان الموضوع الرئيسي للاجتماعات هو التأكيد على ضرورة اتباع المذهب الحنفي والعقيدة الماتريدية من أجل مقاومة التطرف والإرهاب.

0:00 0:00
Speed:
March 07, 2025

مصلحة مَن يخدم الإسلامُ التقليدي؟

مصلحة مَن يخدم الإسلامُ التقليدي؟

الخبر:

أقامت اللجنة الدينية والإدارة الدينية في اتجاه الالتزام بالإسلام التقليدي عدداً من الفعاليات في قرغيزستان خلال الأسبوع الماضي، وفي الوقت نفسه، تعقد اجتماعات في مناطق مختلفة لشرح قانون "حرية الدين والمنظمات الدينية". وكان الموضوع الرئيسي للاجتماعات هو التأكيد على ضرورة اتباع المذهب الحنفي والعقيدة الماتريدية من أجل مقاومة التطرف والإرهاب.

التعليق:

لهذا السبب، من الضروري التطرق إلى مصطلح "الإسلام التقليدي" ومسألة المذهبية التي تروج لها الحكومة.

لقد بدأ استخدام مصطلح "الإسلام التقليدي" في آسيا الوسطى، بما في ذلك قرغيزستان، بعد انهيار الاتحاد السوفيتي بهدف دمج أحكام وقيم الإسلام في بعض التقاليد. رغم أن "الإسلام التقليدي" كان موجوداً أيضاً خلال الحقبة السوفيتية، على سبيل المثال كانت هناك بعض الأحكام الشرعية الفردية، مثل النكاح والجنازة. وكانت هذه الأحكام تُدرّس إلى جانب التقاليد والعادات مثل "اختطاف فتاة مخطوبة"، "والأربعينية التي تقام للميت"، حتى تم تأليف كتب خاصة عنها.

ومع ذلك، بعد ظهور الرأسمالية في آسيا الوسطى، تم تقييد أحكام الشريعة بحجة "أنها دولة علمانية"، لأنه في الدولة العلمانية لا يتدخل الدين في السياسة، وقوانين الحياة لا تصدر فيها عن الشريعة، بل تصدر القوانين كلها من أعضاء البرلمان. ولا يجوز فيها استخدام الدين إلا في الأمور الشخصية مثل النكاح والجنازة والصلاة والصيام. إن الرضا عن ممارسة هذه الأجزاء من الدين فقط دون التدخل في السياسة والعيش بدعم القوانين التي أصدرها البرلمان يسمى "الإسلام التقليدي". المسلمون الذين يقولون ينبغي لنا أن نعيش وفق أحكام الشريعة وليس بالقوانين التي أصدرها البرلمان يُنعتون بـ"المتطرفين". وغني عن القول إن "الإسلام التقليدي" هو مشروع تم تكييفه لاستخدام الإسلام فقط في الأمور الشخصية، واتباعِ الخطوط التي رسمتها الحكومة.

في الواقع، من الخطأ الكبير ربط "الإسلام التقليدي" بالمذهب الحنفي. فلقد كان أبو حنيفة يعتمد في فقهه على العُرف المتوافق مع الإسلام، بالإضافة إلى القرآن الكريم والسنة النبوية، والإجماع، والقياس، والاستحسان. وهذا أمر يختص بالمجتهدين، ولا يعني أن العُرف في رأي أبي حنيفة أفضل من الشرع. بل على العكس من ذلك، فهو إذا كان موافقاً للشريعة فسيكون مصدرا للأحكام الشرعية عند أبي حنيفة.

وهنا يطرح سؤال على العلماء وموظفي الدولة الذين يتذرعون بالمذهب الحنفي، لماذا لا تطالبون باتباع المذهب الحنفي في الأمور الاقتصادية، كما تطالبون بإقامة الصلاة على مذهبه؟ على سبيل المثال، أوضح أبو يوسف رحمه الله وهو تلميذ أبي حنيفة، القضايا الاقتصادية في الإسلام على نطاق واسع، في كتابه "الخراج". ولكنكم بدلاً من ذلك تتبعون نظام الاقتصاد الرأسمالي والقوانين التي أقرها مجلس النواب على أساس الربا ونظامٍ ضريبي يشكل عبئاً ثقيلاً على كاهل الشعب! وما عقوبة الجرائم الجسيمة كالسرقة والزنا عند الحنفية؟ أم السياسة التعليمية عند الحنفية مبنية على الثقافة الغربية والتعليم المختلط؟ فهل نظام الحكم يجب أن يكون على أساس الإسلام أم على أساس النظام الجمهوري الديمقراطي عند أبي حنيفة؟

ولذلك فإن مصطلح "الإسلام التقليدي" هو مشروع نظام الكفر العالمي ضد الإسلام المبدئي. الإسلام عقيدة عقلية مكونة من الفكرة والطريقة. والفكرة الإسلامية هي العقيدة والمعالجات التي أعطاها الله لكل المشاكل التي نواجهها في حياتنا. والطريقة هي بيان الأحكام الشرعية التي تضمن وجود الفكرة في حياتنا. وبعبارة أدق، فهي بيان لكيفية تنفيذ المعالجات والمحافظة على العقيدة، وضعها الله للقضاء على كافة الجرائم في المجتمع، وهي بيان أيضا للأحكام الشرعية التي حددت طريقة لإعادة الإسلام إلى الحياة. ولا يجوز الدعوة للفكرة أو للطريقة بشكل منفصل. لأنه لا بد من ربط كل حكم بطريقته. على سبيل المثال، إذا ارتُكِبَت جريمة بين الناس، مثل السرقة، فتُقطَع يد السارق وفقا لطريقة الإسلام. وهذا يضمن للناس أن يَجِدوا رزقا حلالا للعيش وأن يبتعدوا عن السرقة. وفي "الإسلام التقليدي" الذي يتم الترويج له الآن لم يوجد نوع العقوبة التي ينبغي أن يعاقب بها السارق. وهذا يشجّع على اللجوء إلى قانون الكفر لمعاقبة هذه الجريمة. وهذا هو السبب الذي دفع الكفر إلى تطوير "الإسلام التقليدي". والغرض من ذلك هو الحفاظ على حالة خضوع الأمة الإسلامية للكفار، وبالتالي منع أية تغييرات جذرية. ومن المهام الأساسية لهذا المشروع وصفُ خضوع الأمة للكفر بالصبر، وتوسيع دائرة المسلمين الضعفاء العاجزين الذين لا يلتفتون إلى فساد الكفر. ولذلك لا يجوز لنا أن نسكت على مثل هذا المشروع، ولا بد من تركيز دعوتنا وجهودنا على الالتزام بالإسلام كاملا.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

ممتاز ما وراء النهري

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست