مسلمو الرّوهينجا:  بين مكر زعماء الغرب وتخاذل حكّام المسلمين!!
مسلمو الرّوهينجا:  بين مكر زعماء الغرب وتخاذل حكّام المسلمين!!

الخبر: وصف الرئيس التركي رجب طيب أردوغان، مقتل مئات من أقلية الروهينغا في ميانمار على مدى الأسبوع الماضي، بـ"الإبادة الجماعية التي تستهدف الطوائف المسلمة في المنطقة". وقال أردوغان خلال احتفالات عيد الأضحى في إسطنبول: "توجد إبادة جماعية هناك. هم يبقون صامتين على هذا. كلّ أولئك الذين يصرفون أنظارهم عن هذه الإبادة التي تشنّ تحت ستار الدّيمقراطية هم أيضا جزء من هذه المذبحة". واعتبر الرّئيس التّركي أنّ أنقرة "عليها مسؤوليّة أخلاقيّة لاتّخاذ موقف مناهض للأحداث في ميانمار".

0:00 0:00
Speed:
September 03, 2017

مسلمو الرّوهينجا: بين مكر زعماء الغرب وتخاذل حكّام المسلمين!!

مسلمو الرّوهينجا:

بين مكر زعماء الغرب وتخاذل حكّام المسلمين!!

الخبر:

وصف الرئيس التركي رجب طيب أردوغان، مقتل مئات من أقلية الروهينغا في ميانمار على مدى الأسبوع الماضي، بـ"الإبادة الجماعية التي تستهدف الطوائف المسلمة في المنطقة". وقال أردوغان خلال احتفالات عيد الأضحى في إسطنبول: "توجد إبادة جماعية هناك. هم يبقون صامتين على هذا. كلّ أولئك الذين يصرفون أنظارهم عن هذه الإبادة التي تشنّ تحت ستار الدّيمقراطية هم أيضا جزء من هذه المذبحة". واعتبر الرّئيس التّركي أنّ أنقرة "عليها مسؤوليّة أخلاقيّة لاتّخاذ موقف مناهض للأحداث في ميانمار".

وأظهرت بيانات رسميّة جديدة أنّ حوالي 400 شخص قتلوا في أسبوع من القتال شمال غربي ميانمار، فيما قد تكون موجة العنف الأكثر دمويّة التي تتعرّض لها (الأقليّة) المسلمة خلال عقود. ويقول الجيش في ميانمار إنّه ينفّذ عمليّات تطهير ضدّ "إرهابيّين متطرّفين" لحماية المدنيّين.

 وذكرت مصادر بالأمم المتّحدة أن نحو 38 ألفا من مسلمي الروهينغا عبروا الحدود من ميانمار إلى بنغلادش، بعد أسبوع من المواجهات مع قوات الأمن. وقال أردوغان إنّ المسألة سيجري مناقشتها باستفاضة، عندما يتجمّع زعماء العالم لحضور دورة الجمعيّة العامّة للأمم المتّحدة في نيويورك في الثاني عشر من أيلول/سبتمبر الجاري. (أخبار سكاي نيوز عربية)

التّعليق:

 اللّه أكبر على من طغى وتجبّر: في تقرير لها ذكرت الأمم المتّحدة أنّ حوالي 40 ألف شخص من مسلمي الرّوهينجا في ميانمار فرّوا إلى بنغلاديش الأسبوع الماضي. وأكّد التقرير العثور على جثامين 26 شخصا لمسلمي الرّوهينجا، بينهم 11 طفلا، يوم الجمعة، بعد غرقهم أثناء محاولة عبور النّهر بين البلدين على متن قارب صغير. الله أكبر على أولئك البوذيين المجرمين الذين تمادوا في سفك دماء هؤلاء المستضعفين وزعماء هذا العالم يرقبونهم بدم بارد لتنكشف حقيقة هذا النّظام الرّأسماليّ المتوحّش تستر عوراته تقارير منظّماته التي أحدثها للغرض كما هو حال هذا المنظّمة المتباكية المخادعة الكاذبة.

يصمّ أصحاب القرار الآذان ويغضّون الأبصار وفي أفضل الأحوال يوكلون الأمر لمثل هذه المنظّمات والهيئات لتندّد ولتحصي وتقدّم الأرقام، فالله أكبر عليهم اجتمعوا على قتل هؤلاء الأبرياء وشهدوا مذابحهم ومجازرهم في تشفّ ولا مبالاة!

الله أكبر على من تجبر وتكبّر: فرّ هؤلاء المستضعفون من الموت واتّجهوا إلى بنغلاديش طالبين الحماية مستنصرين فخذلتهم حكومتها ونصرت عليهم أعداءهم وردّتهم إليهم ليلقوا منهم ألوانا من التعذيب ويشهدوا ما تقشعر لهوله الأبدان من التقتيل والمجازر، خذلتهم حكومة حسينة العميلة التي أغلقت دونهم الأبواب ولم تفتحها إلّا لانتشالهم موتى.

الله أكبر على من جاءه الحقّ ولم يتدبّر: ما يعانيه مسلمو الرّوهينجا من تنكيل وتقتيل وإبادة خاصّة في هذه الأيّام المباركة تجعل المسؤوليّة أكبر على كلّ من تولّى حكما على المسلمين فواجب عليه أن ينصرهم ولا يخذلهم. ولكن ما يحدث مخالف ومناقض تماما لما يجب أن يكون. وحكّام المسلمين يعملون فقط لنصرة "دينهم الجديد: الدّيمقراطيّة" الذي ابتدعه الغرب لهم ليجروا في ركابه موحّدين ومهلّلين.

هؤلاء الحكّام لا يحيدون قيد أنملة عمّا هو مرسوم لهم. ينتظرون ما يجتمع عليه "الأسياد" لينفّذوه صاغرين.

ماذا قدّم أردوغان الذي يدّعي نصرته للإسلام والمسلمين لهذه الطائفة التي تستصرخ العالم والمسلمين خاصّة لنصرتها؟ ماذا قدّم أردوغان لأبناء الروهينجا الذين يقتّلون ويبادون في هذه الأيّام الحرم: قدّم لهم خطابا ندّد فيه بهذه الممارسات ووصفها بالإبادة الجماعيّة مصرّحا بأنّه يجب على دولته أن تضطلع بمسؤوليّة أخلاقيّة مفادها ضرورة اتّخاذ موقف مناهض لما يحدث في ميانمار... تمخّض الجبل فأنجب فأرا!! مسؤوليّة أخلاقيّة!؟؟ ﴿وَإِنِ اسْتَنْصَرُوكُمْ فِي الدِّينِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ﴾ حريّ بك أن تكون مسؤوليتك تجاه مسلمين مستضعفين مسؤوليّة حاكم يذود عن المسلمين، أولست كما تدّعي ترعى الإسلام والمسلمين؟ فأين جيوشك لترسلها تحمي هؤلاء وتنصرهم على المجرمين؟!

حذّر الأمين العام للأمم المتّحدة أنطونيو غوتيريش الجمعة من وقوع "كارثة إنسانيّة" في غرب ميانمار، داعيا حكومة هذا البلد إلى "ضبط النّفس" بعد مقتل نحو 400 شخص معظمهم من الرّوهينجا إثر تجدّد أعمال العنف. وقالت الأمم المتّحدة إنّ ردّ قوّات الأمن على هجمات متمرّدي الرّوهينجا بلغ حدّ ارتكاب جريمة ضدّ الإنسانيّة (بي بي سي. عربي). تنديد بما يحدث للروهينجا واتّهام لها في آن، وحكم صادر من محكمة ظالمة تدور حيث دارت المصالح...

الله أكبر الله أكبر الله أكبر على من خذل هؤلاء الأبرياء ونعتهم "بالمتمرّدين" ينساق وراء أسياده ويعينهم على إخوانه. الله أكبر على من وظّف إعلامه ليضلّل ويخفي حقائق الأمور. ولكن يجعل الله كيدهم في نحورهم ويكشفهم ويعرّي خبثهم وخداعهم. صحيفة عكاظ السعوديّة لم تلق ما تستحقّ وهي التي تتآمر على هؤلاء المظلومين المنكوبين وتصفهم بـ"المتمرّدين" ممّا أثار غضب ناشطين على موقع التّواصل «تويتر»، والذين قالوا إنّ هذا الوصف كشف المواقف الحقيقيّة للإعلام السّعوديّ تجاه قضايا المسلمين ما دفعها لسحب ما نشرت.

غريب أمر حكّام تولّوا أمر المسلمين ينبطحون ويتملّقون لأسيادهم بكلّ الوسائل والطّرق ولو بالأكاذيب والأباطيل وبتزييف الوقائع والأحداث رغم أنّ أسيادهم هؤلاء الذين يتلاعبون وتتلوّن تصريحاتهم بحسب مصالحهم لا ينكرون أنّ ما يقع في ميانمار كارثة إنسانيّة!!!

إنّ هؤلاء المسلمين وغيرهم من المسلمين المضطهدين في العالم سيشكون الله تخاذل حكّامهم وتقاعسهم عن نصرتهم وسيكونون خصماء لهم يوم القيامة يوم لا ينفع ملك ولا ولاء إلاّ من أتى الله بقلب سليم وكان ولاؤه لله وللرّسول وللمؤمنين.

﴿إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ * وَمَن يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا فَإِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْغَالِبُونَ﴾ [المائدة: 55-56]

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التّحرير

زينة الصّامت

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست