مصر العظيمة لا يحقق مصالحها ولا يؤلف بين أبنائها  إلا الخلافة الراشدة على منهاج النبوة
مصر العظيمة لا يحقق مصالحها ولا يؤلف بين أبنائها  إلا الخلافة الراشدة على منهاج النبوة

الخبر: نقلت قناة سكاي نيوز عربية السبت 2018/6/2م، كلمة الرئيس المصري خلال أدائه اليمين الدستورية لفترة ولايته الثانية، والتي قال فيها "قيادة دولة بحجم مصر أمر لو تعلمون عظيم"، مضيفا أنه رئيس لكل المصريين من اتفق معه أو اختلف وسيعمل على تحقيق صالح الدولة المصرية، مؤكدا بقوله إن "قبول الآخر وإيجاد مساحات مشتركة فيما بيننا سيكون شاغلي الأكبر لتحقيق التوافق والسلام المجتمعي (..) ولن أستثنى من تلك المساحات المشتركة إلا من اختار العنف والإرهاب والفكر المتطرف"، وأوضح أن تكاتف الشعب المصري ضرورة لمواجهة التحديات والمعوقات التي تواجه الدولة المصرية، مطالبا بأهمية بناء الإنسان المصري بدنيا وعقليا وثقافيا.

0:00 0:00
Speed:
June 07, 2018

مصر العظيمة لا يحقق مصالحها ولا يؤلف بين أبنائها إلا الخلافة الراشدة على منهاج النبوة

مصر العظيمة لا يحقق مصالحها ولا يؤلف بين أبنائها

إلا الخلافة الراشدة على منهاج النبوة

الخبر:

نقلت قناة سكاي نيوز عربية السبت 2018/6/2م، كلمة الرئيس المصري خلال أدائه اليمين الدستورية لفترة ولايته الثانية، والتي قال فيها "قيادة دولة بحجم مصر أمر لو تعلمون عظيم"، مضيفا أنه رئيس لكل المصريين من اتفق معه أو اختلف وسيعمل على تحقيق صالح الدولة المصرية، مؤكدا بقوله إن "قبول الآخر وإيجاد مساحات مشتركة فيما بيننا سيكون شاغلي الأكبر لتحقيق التوافق والسلام المجتمعي (..) ولن أستثنى من تلك المساحات المشتركة إلا من اختار العنف والإرهاب والفكر المتطرف"، وأوضح أن تكاتف الشعب المصري ضرورة لمواجهة التحديات والمعوقات التي تواجه الدولة المصرية، مطالبا بأهمية بناء الإنسان المصري بدنيا وعقليا وثقافيا.

التعليق:

قبل أيام أدى الرئيس المصري السيسي يمينا دستورية جديدة أقسم فيها على أن يحكم أهل مصر بغير الإسلام وأن يحافظ على النظام الرأسمالي، ويحمي ويرسخ قوانين الغرب التي تحكمنا والتي تحمي مصالح الغرب وتمكنه من نهب ثرواتنا وخيراتنا، وتبقي عليها داخل هذا الإطار الضيق الذي رسمته اتفاقية سايكس بيكو وتجعل منها درعا يحمي كيان يهود الغاصب لأرض الأمة والمدنس لمقدساتها بعدما كانت درعا للأمة تقيها شر أعدائها وتحبط مكرهم وتآمرهم عليها، ثم يقر أن قيادة دولة بحجم مصر هي أمر عظيم، ونحن نقر معه بذلك، فمن يملك مصر يملك العالم كما قيل وما تملكه من ثروات وخيرات وطاقات هائلة ناهيك عن الموقع المتميز يجعلها مؤهلة لتكون ضمن القوى العظمى إن لم تكن الأولى، إلا أن هذه الثروات والخيرات والموارد كلها منهوبة لا يعلم عنها أهل مصر شيئا ويجهلون كيف تتعامل الدولة معها وكيف تتصرف فيها، وطاقات أبنائها معطلة ومهدرة وكلهم مؤهل نفسيا ليفر منها طمعا في عيش كريم في بلاد الغرب ولو تذوق الأمرين، وحتى موقعها المتميز مسخّر لخدمة السادة في البيت الأبيض، فماذا تبقى لأهل الكنانة؟!

الرأسمالية تحكم مصر منذ عقود خلت، لم ولن تصلح فيها شيئا بل انحدرت بها من سيئ إلى أسوأ، ولن يصلح فسادها عمليات الترقيع التجميلية ولا عمليات تغيير الوجوه المنفذة لها سواءً أكانت علمانية سافرة أم علمانية ملتحية فكلها سم زعاف أورد مصر المهالك، ولم تر في ظلها خيرا طوال عقود حكمها، ولم تُبقِ لأهل مصر من خيراتها شيئا بل تُحمّلهم الآن عبء ما أثقلت كواهلهم به من ديون، فهذا هو فقط ما أبقته لهم الرأسمالية بعد الجوع والفقر والجهل والمرض، لهذا فما تعاني منه مصر يحتاج علاجا جذريا يقتلع هذه الرأسمالية ويقضي على كل ما نتج عنها من أعراض؛ فالفقر والجوع والمرض والجهل وحتى ما نراه من تفكك في المجتمع وصراع على السلطة والمال كلها أعراض نتجت عن الرأسمالية ذلك الداء العضال الذي أصاب مصر والأمة، وباقتلاعه تتعافى الأمة وتعود لها نضارتها، ولن تتعافى الأمة إلا بمشروع بديل طبق عليها وأثبت نجاحه لا لعقود بل لقرون طويلة يتغافل عنها من كتبوا التاريخ الذي يُدرس لأبنائنا في المدارس، مشروع ينسجم مع عقيدة أهل مصر ويوافق فطرتهم (خلافة راشدة على منهاج النبوة) هو وحده العلاج الحقيقي الذي يصلح حال مصر والأمة بعمومها؛ فتصرفه في الثروات والموارد خاضع لأحكام شرعية تلزم الدولة عدم التفريط فيها بأي شكل من الأشكال بل تلزم الدولة بإنتاجها وتنميتها وتوزيعها على الناس لا بيعها لهم والتربح منها وهي أموالهم كما هو الحال الآن، كما أنها تنظر للأمة من خارج إطار الواقع ولا تقدس حدود سايكس بيكو التي تقطع أوصال الأمة، بل تهدمها وتؤلف بين شعوبها في كيان واحد كما كانت وكما ارتضى الله عز وجل لها.

يا أبناء مصر الكنانة! إن تطبيق الإسلام فيكم من خلال الخلافة الراشدة على منهاج النبوة هو وحده الذي يحييكم، بمعنى أنه هو وحده الذي يصلح حالكم ويعيد كرامتكم ويوقف نهب الغرب لثرواتكم، ومشروعها كاملا بتفصيلاته حتى دستوره المستنبط من الكتاب والسنة يحمله لكم حزب التحرير ويضعه بين أيديكم، يدعوكم لاحتضانه وحمله وتطبيقه، وحث وتحريض أبنائكم في جيش الكنانة على نصرته وتسليم الحكم للمخلصين ممن درسوه منكم وأصبحت لديهم الجاهزية لتطبيقه من فورهم، فلعلها تكون في أرضكم فيكون لكم الفوز العظيم في الدنيا والآخرة وتصبحون أنصار اليوم وتلحقون بأنصار الأمس وتصبح مصر بكم مصر المنورة... اللهم اجعله قريبا واجعلنا من جنوده وشهوده.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عبد الله عبد الرحمن

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست